Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

قصور کی پِنکی اور نیو میکسیکو کا والٹر وائٹ، اجمل جامی کا کالم

واقفانِ حال پنکی کا موازنہ مشہورِ زمانہ پابلو ایسکوبار سے کر رہے ہیں (سکرین گریب)
آپ نے حالیہ دنوں میں محترمہ انمول المعروف پنکی کا ذکرِ خیر تو سنا ہوگا بلکہ جوڈیشل مجسٹریٹ کے روبرو اُن کی شہرہ آفاق حاضری کی ویڈیو تو ضرور دیکھی ہوگی۔
کیا شانِ بے نیازی تھی ویسے، یعنی، استراحت فرمانے والا لباس، دراز زلفیں، گہری آنکھوں پر کالا سیاہ چشمہ، چہرے پر ماسک اور ہاتھ میں پانی کی بوتل لیے موصوفہ یوں مٹر گشت کرتے تشریف لا رہی تھیں جیسے یہ ان کے گھر کا لان ہو۔ 
کس قدر پہنچی ہوئی خاتون ہیں، اس کا ایویں معمولی سا مظاہرہ پولیس اہلکاروں کی جانب سے کورنش بجا لانے میں پنہاں تھا۔ آس پاس کھڑے سائلین جو نہ جانے کب سے کوٹ کچہریوں میں ذلالت اور طویل انتظار کی رسوائی برداشت کر رہے تھے، موصوفہ کی فلمی انٹری دیکھ کر حیران و پریشان تھے۔
خیر کوکین کوئین پنکی ہیں کون؟ کہاں سے آئیں؟ پیچھے کس کا ہاتھ؟ اب ہی کیوں گرفتار ہوئیں؟ دھندا کیا تھا؟ تین سو گرام سے ایک کلو اعلیٰ درجے کی کوکین کیسے تیار کرتی تھیں؟ نیٹ ورک کی وسعت کیا تھی؟ سیاسی اور غیر سیاسی اشرافیہ کیوں کر ان کی مرید تھی؟ پکڑی کیسے گئیں؟ اب کیا ہوگا؟ کیا اس نئی فلم کا تعلق 28 ویں ترمیم سے ہے؟  
ایسے اَن گنت روایتی سوالوں کا جواب جاننے سے پہلے آپ پہلے والٹر وائٹ کی کہانی سنیں، حالانکہ واقفانِ حال مشہورِ زمانہ پابلو ایسکوبار سے پنکی کا موازنہ کر رہے ہیں لیکن خاکسار نہ جانے کیوں پنکی کی کہانی میں والٹر وائٹ کو ڈھونڈ رہا ہے ۔

’بریکنگ بیڈ‘ دنیا بھر میں ریکارڈ دیکھے جانے والی سیریز ہے (فوٹو: سلیش فلم)

سنہ 2008 سے 2013 کے بیچ پانچ برسوں میں مشہور زمانہ امریکی سیریز ’بریکنگ بیڈ‘ دیکھنے کو ملی، یہ دنیا بھر میں ریکارڈ دیکھے جانے والی سیریز کہلائی۔ ’ گیمز آف تھرونز‘ ڈائریکٹ کرنے والی مشہور زمانہ ڈائریکٹر پروڈیوسر مشل میکلرین کی ہدایت میں بنی اس سیریز میں گویا ایک عجب کہانی بیان کی گئی تھی۔
یہ کہانی ایک عام  اور بظاہر خاموش طبع کیمسٹری کے استاد والٹر وائٹ  کے گرد گھومتی ہے جو آہستہ آہستہ منشیات (بالخصوص لیبارٹری میں کوکین بنانے کا ایکسپرٹ)  کی دنیا کا خطرناک بادشاہ بن جاتا ہے۔ 
برائن کرینسٹن نے والٹر وائٹ کا کردار انتہائی جاندار طریقے سے نبھایا ہے۔ وہ سکول میں کیمسٹری کا مضمون پڑھاتا ہے، مالی مشکلات کا شکار ہوتا ہے، پھر اسے پتا چلتا ہے کہ اسے پھیپھڑوں کا کینسر ہے۔ اپنے خاندان کے مستقبل کو محفوظ بنانے کے لیے وہ اپنے ایک سابق شاگرد ’جیسی پنک مین‘ کے ساتھ مل کر ڈرگ بنانے کے دھندے سے جڑ جاتا ہے۔  شروع میں تو اس کا مقصد صرف پیسہ کمانا اور خاندان کو سہارا دینا ہوتا ہے مگر وقت کے ساتھ ساتھ وہ طاقت، غرور اور جرم کی دنیا میں اتنا آگے نکل جاتا ہے کہ وہ ایک خوفناک شخصیت ’ہائزن برگ‘ کا روپ دھار لیتا ہے۔
اہلِ خانہ کے ساتھ کیا ہوا؟  جرم کی دنیا میں کیسے اُس نے ناقابلِ یقین معرکے سر کیے، منشیات کے دھندے سے جڑی سائنس بالخصوص کیمسٹری کا استعمال، پولیس، سرکار، سرحد، اشرافیہ اور کارٹلز کی بے پناہ قوت اس سیریز کے چند اہم ترین قابلِ غور پہلو ہیں۔
یہ امریکی ریاست نیو میکسکو میں شوٹ ہوئی سیریز ہے جس میں دکھایا گیا ہے کہ دنیا کی سپر طاقت اور اس کی انتظامیہ بھی نوجوان نسل کو پاوڈر کے استعمال سے روکنے میں کیسے ناکام رہتی ہے۔ 
والٹر وائٹ کی کہانی کی طرح پنکی کی بھی ایک کہانی ہے، قصور میں جنم لینے والی انمول، اس کے ہاں بھی مخصوص حالات ہوں گے۔ شاید اسی لیے صرف چودہ برس کی تھی تو گھر چھوڑ دیا، ماڈل بننا چاہتی تھی، پارٹی گرل بنی، یہاں سے اس کی شناسائی اشرافیہ اور ڈرگ کی دنیا سے ہوتی ہے۔ ایک وکیل سے شادی کی جو مبینہ طور پر بین الاقوامی ڈرگ مافیا سے تعلق رکھتا تھا،  موصوفہ نے اپنی مہارت کا بھرپور استعمال کیا، تعلقات استوار کیے، اس دھندے کی سائنس سمجھی، وکیل کو فارغ کروایا، آگے بڑھیں، کیمسٹری کی بنیادی سائنس سمجھی، جدید پلانٹس اور لیبارٹری تک بنا لی۔
 ایک پولیس اہلکار کو دام میں لائیں، نواب ٹاؤن لاہور سے لے کر رنچھوڑ لائن کراچی تک، اسلام آباد کے پوش علاقوں سے لے کر کراچی کے ڈی ایچ اے تک، کون سا ایسا علاقہ تھا جہاں موصوفہ کی تیارہ کردہ خصوصی ڈوز نہ پہنچی ہو۔ باثر سیاستدان ہوں یا بیورکریٹس سبھی ان کے دیوانے تھے۔ جبھی تو برس ہا برس یہ اداروں کی دسترس سے کوسوں دور رہیں، دور رہنا دور کی بات شاید کسی میں ہمت تک نہ ہوئی کہ ان پر ہاتھ ڈالنے کا سوچے بھی۔
موصوفہ کی وجہ شہرت گولڈ کوکین تھی، یہ ان کی لیبارٹری کا تحفہ خاص تھا یعنی کوکین کی ایسی صنف جسے تیار کرنے کا طرۂ امتیاز صرف پنکی جی کے پاس تھا۔ ان کے پاس بھی  پروفیسر وائٹ کی طرح نسخۂ کیمیا تھا۔ 

برائن کرینسٹن نے والٹر وائٹ کا کردار انتہائی جاندار طریقے سے ادا کیا ہے (فوٹو: گیٹی)

اس صنف کا نام انہوں نے گولڈ کوکین رکھا تھا۔ سفید پاوڈر کی دنیا میں یہ مہنگا ترین نسخہ قرار پاتا ہے۔ دیگر ڈرگز اپنی جگہ لیکن گولڈ کوکین ان کی وجۂ شہرت تھی، نیٹ ورک بھی ایسا جامع اور مربوط تھا کہ ایک سپلائر کو دوسرے کا علم نہ ہوتا، لاہور سے بذریعہ ٹرین سامان خواتین کے ذریعے کراچی اور پھر وہاں سے ان گنت رائیڈرز کے ذریعے متعلقہ عیاشی خانوں پر سہولت کے ساتھ پہنچ جاتا۔ 
دیگر جرائم پیشہ ڈانز کی طرح موصوفہ بھی خدا ترس تھی، پانچ پانچ ہزار کے نوٹوں کی گڈی پل بھر میں غریب غربا کو بانٹ دیتیں۔  البتہ گرفتاری پیش کرنے کے مناظر ’بریکنگ بیڈ‘ کے برعکس کسی ڈبہ فلم کے سکرپٹ پر مبنی تھے۔ یہاں موصوفہ  کا ہدایت کار مار کھا گیا۔ یعنی دروازے پر دستک، موصوفہ پہلے سے تیار، ساتھ چل دیں۔ پھر پیشی ہوئی تو پولیس اہلکار پنکی مادام کی رہنمائی پر مامور دکھائی دیے، ویڈیو بنی اور یہاں سے پاکستانی ’بریکنگ بیڈ‘ کی گھٹیا کاپی کا آغاز ہوا۔
سیریز جاری ہے، واقفانِ حال نہ جانے کیوں اس  کے پیچھے 28 ویں ترمیم کے تانے بانے بن رہے ہیں۔
مصریال روڈ برف چوک کے حاجی وقاص بتا رہے تھے کہ نو جون سے پہلے اس سلسلے میں طبلِ جنگ بجنے والا ہے۔ اللہ جانے یہ کیا دھندا  ہے۔ ہم تو محض پنکی اور والٹر وائٹ کی لیبارٹری سے تیار ہونے والا نسخہ ہائے کوکین کے بیچ تال میل ڈھونڈ رہے تھے۔

شیئر: