امیگریشن قوانین کی خلاف ورزیاں: عراق کی جیلوں میں سینکڑوں پاکستانی قیدی واپسی کے منتظر
امیگریشن قوانین کی خلاف ورزیاں: عراق کی جیلوں میں سینکڑوں پاکستانی قیدی واپسی کے منتظر
جمعرات 25 دسمبر 2025 5:17
بشیر چوہدری، اردو نیوز۔ اسلام آباد
ذرائع کے مطابق یہ معاملہ عراقی حکام نے صدر زرداری کے سامنے اٹھایا (فائل فوٹو: اے ایف پی)
صدرِ مملکت آصف علی زرداری ان دنوں عراق کے دورے پر ہیں جہاں انہوں نے عراقی قیادت کے ساتھ ملاقاتوں میں دو طرفہ تعلقات، علاقائی تعاون اور باہمی مفادات کے امور کے ساتھ ساتھ عراق میں مقیم پاکستانی شہریوں کی صورتحال پر بھی تفصیلی بات کی۔
ان ملاقاتوں میں خاص طور پر پاکستانی شہریوں کی غیر قانونی موجودگی، ویزے کی طے شدہ مدت سے زائد قیام، غیرقانونی ملازمت اور عراقی جیلوں و حراستی مراکز میں قید پاکستانیوں کے معاملات زیرِ بحث آئے۔
ذرائع کے مطابق یہ معاملہ عراقی حکام نے صدر زرداری کے سامنے اٹھایا اور حکومتِ پاکستان سے فوری مداخلت اور اقدامات کرنے کی درخواست کی، جسے دونوں ممالک نے ایک اہم انسانی اور قونصلر مسئلہ قرار دیا۔
اسی حساس موقع پر سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو وائرل ہوئی جس میں ایک شخص نے دعویٰ کیا کہ وہ دیگر پاکستانی شہریوں کے ہمراہ بغداد میں زیرِ حراست ہے۔ عراقی حکام نے یہ ویڈیو اور متعلقہ شواہد صدر کے سامنے پیش کیے، جس پر صدر زرداری نے فوری طور پر سفارت خانے کو معاملے کی چھان بین اور ضروری اقدامات کی ہدایت دی۔
پاکستانی سفارت خانے نے عراقی حکام سے رابطہ کیا تو معلوم ہوا کہ یہ ویڈیو بغداد کے زعفرانیہ (ظفرانیہ) حراستی مرکز کی ہے۔ اس کے بعد سفارت خانے نے حقائق کی تصدیق اور صورتحال سے نمٹنے کے لیے عراقی حکام کے ساتھ مسلسل رابطہ جاری رکھا۔
سفارتی ذرائع کے مطابق عراقی حکام نے آگاہ کیا کہ ویڈیو میں نظر آنے والے افراد کی اکثریت کو دو ماہ قبل غیرقانونی داخلے، زائد قیام اور دیگر امیگریشن قوانین کی خلاف ورزیوں کے الزامات کے تحت حراست میں لیا گیا تھا۔
اس سے قبل کمیونٹی ویلفیئر کونسلر کی قیادت میں سفارت خانے کی ٹیم 27 اکتوبر 2025 کو زعفرانیہ حراستی مرکز کا دورہ کر چکی تھی، جہاں اس وقت 404 پاکستانی شہری قید تھے، جن میں 65 خواتین و بچے اور 339 مرد شامل تھے۔ سفارت خانے کی مسلسل پیروی، عراقی حکام کے ساتھ قریبی رابطہ کاری اور قونصلر کوششوں کے نتیجے میں اب تک تقریباً 300 پاکستانی شہریوں کو وطن واپس بھیجا جا چکا ہے، جن میں خواتین اور بچے بھی شامل ہیں۔
تازہ صورتحال جاننے کے لیے 20 دسمبر 2025 کی صبح کمیونٹی ویلفیئر کونسلر نے دوبارہ زعفرانیہ حراستی مرکز کا دورہ کیا اور وہاں موجود تمام پاکستانی شہریوں سے ملاقات کی۔ اس موقع پر حراستی حکام کے ساتھ تفصیلی بات چیت کی گئی اور زور دیا گیا کہ زیرِ حراست پاکستانی شہریوں کو تمام بنیادی سہولیات فراہم کی جائیں اور ان کی جلد از جلد ملک بدری کو ممکن بنایا جائے۔ تازہ ترین معلومات کے مطابق اس وقت 116 پاکستانی شہری اب بھی اس مرکز میں موجود ہیں۔
سینکڑوں پاکستانی مختلف الزامات کے تحت عراقی جیلوں اور حراستی مراکز میں قید ہیں (فوٹو: ایس بی ایس نیوز)
پاکستانی سفارت خانے کے مطابق عراق میں غیرقانونی امیگریشن سٹیٹس رکھنے والے پاکستانی شہریوں کی مسلسل آمد، بالخصوص اوور سٹے کے کیسز، اور عراقی حکومت کی جانب سے قوانین کے سخت نفاذ کی وجہ سے گرفتاری، حراست اور بعد ازاں ملک بدری کا عمل ایک معمول بن چکا ہے۔
رواں سال کے دوران سفارت خانے نے مجموعی طور پر چار ہزار 77 پاکستانی شہریوں کی وطن واپسی میں سہولت فراہم کی، جن میں دو ہزار 605 ایسے افراد بھی شامل تھے جو مختلف حراستی مراکز میں قید تھے۔ قانونی اور دستاویزی مراحل کی وجہ سے ملک بدری میں کئی ہفتے یا بعض اوقات چند مہینے لگ سکتے ہیں۔
زعفرانیہ کے علاوہ عراق کے دیگر حصوں میں بھی ہزاروں پاکستانی شہری غیر قانونی طور پر مقیم ہیں جبکہ سینکڑوں افراد مختلف الزامات کے تحت عراقی جیلوں اور حراستی مراکز میں قید ہیں۔
ایک اور سنگین پہلو یہ ہے کہ عراق کو غیرقانونی طور پر یورپ میں داخلے کے لیے ٹرانزٹ روٹ کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے۔ بڑی تعداد میں پاکستانی شہری قانونی ویزا یا درست دستاویزات کے بغیر عراق پہنچتے ہیں، جہاں کچھ عرصہ قیام کے بعد انسانی سمگلنگ کے نیٹ ورکس اور ایجنٹوں کے ذریعے ترکی یا دیگر سرحدی راستوں سے یورپ جانے کی کوشش کرتے ہیں۔ عملی طور پر یہ کوششیں اکثر گرفتاری، حراست، مالی استحصال اور بالآخر ملک بدری پر ختم ہوتی ہیں۔
عراقی حکام کے مطابق غیرقانونی داخلے یا زائد قیام کے بعد یورپ جانے کی کوششوں میں اضافہ ہوا ہے، اور ان میں سے بیشتر افراد نہ تو عراق میں قانونی ملازمت رکھتے ہیں اور نہ ہی کسی تیسرے ملک میں داخلے کے درست کاغذات رکھتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ عراق نے امیگریشن قوانین پر سختی بڑھا دی ہے اور غیر قانونی راستے استعمال کرنے والوں کے خلاف کارروائی بھی تیز کر دی ہے، جسے حکام عراق کی داخلی سلامتی اور انتظامی نظم و ضبط کے لیے ایک سنجیدہ چیلنج قرار دیتے ہیں۔
سفارت خانے نے متنبہ کیا ہے کہ وہ غیرقانونی راستوں، غیر مصدقہ ایجنٹوں اور سمگلنگ کے جھانسے میں نہ آئیں (فوٹو: اے ایف پی)
پاکستانی سفارتی ذرائع کا کہنا ہے کہ انسانی سمگلنگ کے یہ نیٹ ورکس پاکستان سے لے کر مشرقِ وسطیٰ اور یورپ تک پھیلے ہوئے ہیں، جو نوجوانوں اور بہتر مستقبل کے خواہشمند افراد کو جھوٹے وعدے اور سبز باغ دکھا کر بھاری رقوم وصول کرتے ہیں۔
سفارت خانے نے ایک بار پھر پاکستانی شہریوں کو سختی سے متنبہ کیا ہے کہ وہ غیرقانونی راستوں، غیر مصدقہ ایجنٹوں اور سمگلنگ کے جھانسے میں نہ آئیں، کیونکہ اس کے نتائج نہ صرف قید و بند بلکہ طویل قانونی پیچیدگیوں اور شدید معاشی نقصان کی صورت میں سامنے آتے ہیں۔
سفارتی حکام کے مطابق اس مسئلے کا پائیدار حل صرف قانونی سفر، ویزا قوانین کی مکمل پاسداری اور پاکستان میں انسانی سمگلنگ کے خلاف مؤثر اور مسلسل کارروائی سے ممکن ہے۔