’کسی کے لیے خطرہ نہیں،‘ افغان وزیر داخلہ سراج الدین حقانی کا اسحاق ڈار کے بیان کا خیرمقدم
’کسی کے لیے خطرہ نہیں،‘ افغان وزیر داخلہ سراج الدین حقانی کا اسحاق ڈار کے بیان کا خیرمقدم
پیر 29 دسمبر 2025 7:15
افغانستان کے وزیرِ داخلہ خلیفہ سراج الدین حقانی نے کابل اور اسلام آباد کے درمیان کشیدگی کم کرنے کی کوششوں کے حوالے سے پاکستانی علماء اور وزیرِ خارجہ اسحاق ڈار کے حالیہ بیانات کا خیرمقدم کیا ہے۔
افغان ٹیلی ویژن چینل طلوع نیوز کے مطابق کابل میونسپلٹی اور دیگر اداروں کی کارکردگی کے اعتراف میں منعقدہ ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے حقانی نے کہا کہ وہ ایسے تمام بیانات کو سراہتے ہیں جو دونوں ہمسایہ ممالک کے درمیان مسائل کے حل میں مددگار ثابت ہوں۔
سراج الدین حقانی کا کہنا تھا کہ ’کل ہی پاکستان کے وزیرِ خارجہ جناب اسحاق ڈار نے افغانستان کے حوالے سے مثبت باتیں کیں، اور میں یہ کہنا چاہتا ہوں کہ کسی کی جانب سے بھی خیرسگالی اور برادرانہ بیانات کا ہم خیرمقدم کرتے ہیں۔‘
’حال ہی میں پاکستان میں علماء کا ایک اجتماع ہوا، جس میں جمعیت علمائے اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن اور مفتی تقی عثمانی نے افغانستان کے حق میں بیانات دیے، جس پر ہم ان کے شکر گزار ہیں۔‘
سراج الدین حقانی نے زور دیا کہ اسلامی امارت علاقائی سلامتی اور استحکام کے لیے پُرعزم ہے اور افغان عوام نہ کسی کے لیے خطرہ ہیں اور نہ ہی ایسا کوئی ارادہ رکھتے ہیں۔
انہوں نے مزید کہا ’جب ہمارے اپنے ملک میں بے مثال امن و امان ہے تو ہم دنیا کے ساتھ بھی بھائی چارے اور امن کا پیغام بانٹتے ہیں۔ ہم اندرونِ ملک اور بیرونِ ملک لوگوں کے خدشات دور کرنا چاہتے ہیں اور سب کو یقین دلانا چاہتے ہیں کہ افغان عوام کسی کے لیے خطرہ یا غلط ارادے نہیں رکھتے۔‘
وزیرِ داخلہ نے دیگر ممالک سے افغانستان کی تعمیرِ نو میں کردار ادا کرنے کی اپیل کی اور افغان شہریوں سے بھی اس عمل میں اسلامی امارت کا ساتھ دینے کا مطالبہ کیا۔
سراج الدین حقانی نے کہا کہ اسلامی امارت علاقائی سلامتی اور استحکام کے لیے پُرعزم ہے۔ (فوٹو: اے ایف پی)
خیال رہے پاکستان کے ڈپٹی وزیراعظم اور وزیرخارجہ اسحاق ڈار نے اسلام آباد میں ایک پریس کانفرنس کے دوران کہا تھا کہ کہ پاکستان افغانستان کے لیے خیرسگالی رکھتا ہے اور نہیں چاہتا کہ افغان سرزمین اس کے خلاف استعمال ہو۔ ان کے مطابق یہ مؤقف دونوں ممالک کے درمیان موجودہ کشیدگی کم کرنے میں مددگار ثابت ہو سکتا ہے۔
اسحاق ڈار نے کابل میں علماء کے حالیہ اجتماع کی جانب سے جاری بیان کا بھی خیرمقدم کیا، جس میں افغانستان کی سرزمین کو کسی بھی دوسرے ملک کے خلاف استعمال نہ کرنے پر زور دیا گیا تھا۔
اسحاق ڈار نے کہا کہ فتویٰ کے باوجود پاکستان کو اب بھی ہر ہفتے حملوں کا سامنا ہے۔
انہوں نے ایک بار پھر اسلامی امارتِ افغانستان سے مطالبہ کیا کہ افغان سرزمین کو پاکستان کے خلاف حملوں کے لیے استعمال نہ ہونے دیا جائے، اور کہا کہ یہی وہ بنیادی وجہ ہے جس کے باعث دونوں ممالک کے درمیان تجارت تاحال معطل ہے۔