افغانستان کے نائب وزیراعظم ملا عبدالغنی برادر نے افغان تاجروں اور صنعت کاروں پر زور دیا ہے کہ وہ درآمدات اور برآمدات کے لیے پاکستان پر انحصار کی بجائے متبادل راستے اختیار کریں۔
طلوع نیوز کے مطابق طالبان حکومت کے نائب وزیراعظم ملا عبدالغنی برادر نے یہ بات بدھ کو تاجروں اور صنعت کاروں کے ایک اجلاس سے اپنے خطاب میں کہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ ’تمام افغان تاجر اور صنعت کار پاکستان کی بجائے متبادل روٹس پر منتقل ہو جائیں۔ ان (پاکستانی) روٹس کی وجہ سے نہ صرف تاجروں کو نقصان ہوا بلکہ انہوں نے مارکیٹس اور عوام کے لیے بھی مشکلات پیدا کیں۔‘
مزید پڑھیں
’میں تاجروں پر زور دیتا ہوں کہ وہ درآمدات و برآمدات کے لیے جلد از جلد متبادل راستے اختیار کریں۔‘
ملا عبدالغنی برادر نے پاکستان کے ساتھ تجارت برقرار رکھنے والے تاجروں کو خبردار کیا کہ اسلامی امارت (طالبان حکومت) ان کے ساتھ کوئی تعاون کرے گی نہ ہی ان کی کوئی بات سنی جائے گی۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ ’ہمارے شعبۂ صحت کا سب سے بڑا مسئلہ پاکستان سے ناقص معیار کی ادویات کا درآمد ہونا ہے۔میں ادویات کے تمام درآمد کنندگان کو ہدایت کرتا ہوں کہ وہ فوری طور پر متبادل سپلائی روٹس پر منتقل ہو جائیں۔‘
انہوں نے یہ اعلان بھی کیا کہ پاکستان سے ادویات درآمد کنندگان کو تین ماہ کا وقت دیا جاتا ہے تاکہ وہ اپنا حساب کتاب مکمل کر کے اپنے کھاتے بند کر سکیں۔‘
نائب وزیراعظم نے اپنے خطاب میں اس بات کی یقین دہانی بھی کرائی کہ افغانستان کو درآمدات اور برآمدات کے لیے متبادل راستے میسر ہیں کیونکہ کابل کے خطے کے دیگر ممالک کے ساتھ بہتر تجارتی روابط قائم ہو چکے ہیں۔
’اسلامی امارت افغانستان علاقائی و بین الاقوامی رسائی کے لیے دیگر تجارتی روٹس قائم کرنے اور پہلے سے موجود راستوں کو تکنیکی اور انفراسٹرکچر کے لحاظ سے معیاری بنانے کے لیے مسلسل کام کر رہی ہے۔‘

ملاعبدالغنی برادر نے پاکستان پر زور دیا کہا کہ ’اگر وہ تجارتی راستوں کی بحالی کا خواہاں ہے تو اسے اس بات کی ٹھوس ضمانتیں دینا ہوں کہ وہ آئندہ کسی بھی طرح کے حالات میں ان راستوں کو بند نہیں کرے گا۔‘
پاکستان اور افغانستان کے درمیان 2600 کلومیٹر طویل سرحد ہے۔ ماضی میں اتحادی رہنے والے ان پڑوسی ممالک کے درمیان تعلقات حالیہ برسوں میں اسلام آباد کے ان الزامات پر کشیدہ ہو گئے ہیں کہ افغانستان عسکریت پسند گروہوں کو پناہ دیتا ہے جو پاکستان میں حملے کرتے ہیں۔
طالبان حکومت ان الزامات کی مسلسل تردید کرتی رہی ہے۔
پاکستان افغان طالبان حکومت سے ضمانتیں چاہتا ہے کہ وہ مسلح تنظیموں بالخصوص کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کی حمایت بند کرے گی۔
دوسری جانب افغانستان کی حکومت کا موقف ہے کہ وہ اپنی علاقائی خودمختاری کا احترام چاہتے ہیں اور وہ پاکستان پر اس کے خلاف مسلح گروہوں کی حمایت کا الزام بھی عائد کرتے ہیں۔
ان دونوں ممالک کے درمیان سرحدی جھڑپوں میں گزشتہ ماہ کے دوران 70 سے زائد افراد کی ہلاک جبکہ سینکڑوں زخمی ہوئے تھے۔

اس دوران پاکستان اور افغانستان کے درمیان تجارتی گزرگاہیں بھی بند رہیں اور ہزاروں ٹرک کئی ہفتوں تک دونوں جانب پھنسے رہے۔ اس کے علاوہ پاکستان سے واپس افغانستان بھیجے گئے پناہ گزینوں کو بھی کئی دن کھلے آسمان تلے گزارنا پڑے۔
پاکستان افغانستان پر یہ الزام بھی عائد کرتا ہے کہ وہ انڈیا کی حمایت سے اس کے خلاف اقدامات کر رہا ہے۔












