بنگلہ دیش کی پہلی خاتون وزیراعظم خالدہ ضیا طویل علالت کے بعد 80 برس کی عمر میں انتقال کر گئیں۔
فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق ان کی جماعت بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی کی جانب سے منگل کی صبح ان کے انتقال کی اطلاع دی گئی۔
خالدہ ضیا کو عارضہ قلب، ذیابیطس، جگر اور گردوں کے مسائل درپیش تھے۔
مزید پڑھیں
بنگلہ دیشی اخبار ڈھاکہ ٹریبیون کے مطابق بیگم خالدہ ضیا کو 23 نومبر کو ڈھاکہ کے ایور کیئر ہسپتال میں معمول کے ٹیسٹس کے لیے لے جایا گیا تھا، جس کے دوران ڈاکٹروں کو چیسٹ انفیکشن اور دوسرے عارضوں کے بارے میں علم ہوا اور انہیں ہسپتال میں رکھنے کا فیصلہ کیا گیا۔
27 نومبر کو ان کی طبعیت خراب ہونے پر سی سی یو یونٹ میں منتقل کیا گیا۔
منگل کے ابتدائی گھنٹوں میں ان کا علاج کرنے والے میڈیکل بورڈ کے رکن پروفیسر حسین کا کہنا تھا کہ ’ان کی حالت تشویشناک ہے۔‘
خالدہ ضیا کے بیٹے طارق رحمان اور خاندان کے دوسرے افراد پیر اور منگل کی درمیانی شب ہسپتال پہنچے تھے۔

رپورٹ کے مطابق ڈاکٹروں کی کوششوں کے باوجود ان کی طبعیت خراب ہوتی گئی۔
اس دوران بہتر علاج کے لیے انہیں بیرون ملک لے جانے کے منصوبے پر بھی غور ہوا تاہم ان کی حالت سفر کے لیے موزوں نہیں تھی۔
خالدہ ضیا 15 اگست 1946 کو پیدا ہوئیں اور قائد حزب اختلاف بھی رہیں۔
وہ 1991 سے 1996 تک ملک کی وزیراعظم رہیں جبکہ دوسرا دور 2001 سے 2006 تک تھا۔
ان کے شوہر ضیا الرحمان ملک کے صدر بھی رہے۔ وہ 70 کی دہائی میں بنائی جانے والی جماعت بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی (بی این پی) کی سربراہ تھیں۔
حسینہ واجد کی ’سب سے بڑی سیاسی حریف‘
امریکی نیوز چینل سی این این کے مطابق خالدہ ضیا سابق وزیراعظم حسینہ واجد کی سب سے بڑی سیاسی حریف تھیں اور ان کے دور میں خالدہ ضیا کو مشکلات کا سامنا بھی کرنا پڑا۔
ان کے خلاف حسینہ واجد کے دور میں بدعنوانی کے مقدمات بھی قائم کیے گئے جن کے بارے میں خالدہ ضیا کا موقف رہا کہ ’وہ سیاسی مقاصد کے لیے تھے۔‘

مقدمات کے نتیجے میں خالدہ ضیا کو جیل بھی جانا پڑا۔
تاہم اگست 2024 میں حسینہ واجد کے خلاف چلنے والی عوامی تحریک اور ان کے انڈیا فرار کے بعد صورت حال میں تبدیلی آئی اور ان کے خلاف بدعنوانی کے کیسز خارج ہونے لگے۔ جنوری 2025 میں سپریم کورٹ نے ان کو کرپشن کے آخری مقدمے میں بھی بری کر دیا، جس کے بعد فروری میں ہونے والے انتخابات میں ان کی شمولیت کی راہ ہموار ہو گئی تھی۔
اس کے بعد علاج کے لیے برطانیہ چلی گئی تھیں اور مئی کے دوران وطن لوٹی تھیں۔
اس سے قبل جنوری کے آغاز میں بنگلہ دیش کی عبوری حکومت نے ان کو بیرون ملک سفر کی اجازت دے دی تھی جبکہ اس سے پہلے حسینہ واجد کے دور میں ان کی 18 درخواستیں مسترد کی گئی تھیں۔
خالدہ ضیا کے شوہر ضیا الرحمان 1981 میں ایک بغاوت کے دوران مارے گئے تھے، جس کے بعد خالدہ ضیا نے ملٹری ڈکٹیٹر کے خلاف تحریک بھی چلائی اور انہیں بالآخر 1990 میں نکال دیا گیا تھا۔
’پاکستان کی مخلص دوست تھیں‘، شہباز شریف کا اظہار تعزیت
وزیراعظم شہباز شریف نے خالدہ ضیا کے انتقال پر گہرے دکھ کا اظہار کیا ہے۔













