انڈیا امریکہ کے ساتھ تجارتی معاہدے پر خوش، ’زیادہ جشن منانے کی ضرورت نہیں‘
انڈیا امریکہ کے ساتھ تجارتی معاہدے پر خوش، ’زیادہ جشن منانے کی ضرورت نہیں‘
منگل 3 فروری 2026 11:56
امریکہ کے انڈیا کے ساتھ تجارتی معاہدے پر وہاں کے امپورٹرز کافی خوش دکھائی دے رہے ہیں کہ کئی ماہ سے جاری معاشی غیریقینی ختم ہو گی تاہم دوسری جانب تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ صورت حال زیادہ واضح نہیں ہے۔
فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے یہ معاہدہ انڈین وزیراعظم نریندر مودی کے روس سے تیل نہ خریدنے کے وعدے کے بعد ہوا ہے اور وہ پچھلے برس عائد کیے گئے 25 فیصد ٹیرف کو کم کر کے 18 فیصد کر رہے ہیں۔
امریکی صدر نے کا یہ بھی کہنا تھا کہ دہلی نے 500 ارب ڈالر سے زائد مالیت کی امریکی مصنوعات خریدنے پر بھی اتفاق کیا ہے۔
وائٹ ہاؤس کے ایک اہلکار نے اے ایف پی کو بتایا کہ روسی تیل کی خریداری پر انڈیا پر عائد کیا گیا 25 فیصد اضافی ٹیکس بھی ہٹا دیا گیا ہے۔
واشنگٹن نے پچھلے برس اپریل میں بڑے پیمانے پر مختلف ممالک پر محصولات عائد کرنے کے بعد کئی حکومتوں کے ساتھ معاہدے کیے تھے اور انڈین حکومت بھی ایسا کرنے کے لیے کوشاں رہی۔
تاہم معاہدہ طے نہ پانے کی وجہ سے سرمایہ کار پچھلے برس کے زیادہ تر حصے کے دوران پریشانی کا شکار رہے اور انڈین روپے کی قدر میں کمی آئی جبکہ مارکیٹس سے 20 ارب سے زائد کی سرمایہ کاری نکل گئی۔
تاہم پیر کے روز امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے معاہدے کے اعلان کا سرمایہ کاروں نے بڑے پیمانے پر خیرمقدم کیا ہے اور ممبئی کے سٹاک انڈیکس میں بھی پانچ فیصد کا اضافہ دیکھنے میں آیا۔
ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے معاہدہ انڈین وزیراعظم نریندر مودی کے روس سے تیل نہ خریدنے کے وعدے کے بعد ہوا ہے (فوٹو: اے ایف پی)
انڈین ایکسپورٹرز کی آرگنائزیشن نے معاہدے کو ’بابائے ڈیلز‘ قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ اس سے بہت سے شعبوں میں آرڈرز میں تیزی سے اضافہ ہو گا۔
فیفو کے ڈائریکٹر جنرل اجے سہائی نے اے ایف پی کو بتایا کہ ’یہ بہت ہی خوش کن خبر ہے اب انڈین ایکسپورٹر جنوبی ایشین حریفوں کے ساتھ برابری سے مقابلہ کر سکیں گے۔‘
ان کا مزید کہنا تھا کہ ملبوسات اور جوتوں کے مینوفیکچررز کو امریکی ٹیرف سے آرڈرز میں تاخیر کا سامنا رہا اور اب ان کو فوری ریلیف ملے گا۔
ان کے مطابق ’عام طور پر موسم گرما کے آرڈر دسمبر تک فائنل ہو جایا کرتے ہیں تاہم ٹیرف کی وجہ سے بہت سے آرڈر تعطل کا شکار تھے اب ان کا سلسلہ شروع ہو جائے گا۔‘
امپورٹرز کا خیال ہے کہ معاہدے سے کئی ماہ سے جاری معاشی غیریقینی کا خاتمہ ہو جائے گا (فوٹو: روئٹرز)
تاہم دوسری جانب تجزیہ کاروں نے معاہدے کے کئی نکات کے حوالے سے کہا ہے کہ ان کے بارے میں وضاحت موجود نہیں ہے جن میں ٹرمپ کا یہ دعویٰ بھی شامل ہے کہ انڈیا امریکی مصنوعات پر اپنا ٹیرف زیرو تک کم کر لے گا۔
معاشی ماہر بیسواجیت دھر نے اے ایف پی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’اگرچہ ہمیں اس معاہدے سے فائدہ ہو گا لیکن پریشانی یہ ہے کہ یہ ایک بڑی تصویر ہے مگر واضح نہیں ہے۔‘
ان کا کہنا تھا کہ ’اس لیے زیادہ جشن منانے کی ضرورت نہیں ہے۔‘