نعمان مقصود اور ان کا خاندان گزشتہ 50 برس سے کراچی میں پرنٹنگ کا کام کر رہے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ ایک زمانہ تھا جب دسمبر کے آغاز کے ساتھ ہی آرڈرز کی بھرمار ہو جاتی تھی۔ سرکاری ادارے، نجی کمپنیاں، بینک اور تاجر بڑی تعداد میں کلینڈر اور ڈائریاں چھپواتے تھے لیکن اب صورتحال یکسر بدل چکی ہے۔
ان کے مطابق موبائل فون، ڈیجیٹل کیلنڈر اور آن لائن ڈائریوں کے استعمال نے پرنٹ شدہ اشیا کی مانگ کم کر دی ہے۔ زین علی کی رپورٹ