امریکہ کا حملہ، وینزویلا میں خام تیل کے بڑے ذخائر کا مستقبل اب کیا ہوگا؟
امریکہ کا حملہ، وینزویلا میں خام تیل کے بڑے ذخائر کا مستقبل اب کیا ہوگا؟
ہفتہ 3 جنوری 2026 19:45
وینزویلا کے صدر نکولس مادورو کو دارالحکومت کاراکس پر امریکہ کے بڑے پیمانے پر حملے کے بعد گرفتار کر کے ملک سے باہر منتقل کر دیا گیا ہے، جس کے نتیجے میں وینزویلا اور اس کے وسیع تیل کے ذخائر کے مستقبل پر غیریقینی صورتحال چھا گئی ہے۔
امریکی خبر رساں ادارے سی این این کے مطابق ٹرمپ انتظامیہ نے ایسے ملک پر حملہ کیا ہے جس کے پاس عراق سے بھی زیادہ تیل موجود ہے۔ امریکی انرجی انفارمیشن ایڈمنسٹریشن کے مطابق وینزویلا کے پاس تقریباً 303 ارب بیرل خام تیل کے ذخائر ہیں، جو دنیا کے مجموعی تیل ذخائر کا لگ بھگ پانچواں حصہ بنتے ہیں۔ خام تیل کا یہ عظیم ذخیرہ وینزویلا کے مستقبل کی سمت متعین کرنے میں مرکزی کردار ادا کرے گا۔
ہفتے کے آخر میں تیل کی تجارت نہیں ہوتی، اس لیے تیل کی قیمتوں پر فوری اثرات کا اندازہ لگانا مشکل ہے اور یہ اس بات پر کافی حد تک منحصر ہے کہ آئندہ ایک دو دن میں حالات کس رخ پر جاتے ہیں۔ مادورو کی سوشلسٹ حکومت عالمی تیل صنعت کے لیے دوستانہ ثابت نہیں ہوئی اور اس کے دور میں تیل کا بنیادی ڈھانچہ زوال کا شکار ہوتا چلا گیا۔ حملے کے فوراً بعد یہ واضح نہیں کہ وینزویلا کا سیاسی مستقبل کیا ہو گا اور آیا آنے والی حکومت خستہ حال تیل صنعت پر سخت کنٹرول برقرار رکھے گی یا بین الاقوامی منڈی کے لیے نرم رویہ اپنا کر اس کی صلاحیت کو بروئے کار لائے گی۔
پرائس فیوچرز گروپ کے سینیئر مارکیٹ تجزیہ کار فل فلن نے کہا کہ ’تیل (کی صنعت) کے لیے یہ ایک تاریخی واقعہ ثابت ہو سکتا ہے۔ مادورو کی حکومت اور اس سے قبل ہوگو شاویز نے بنیادی طور پر وینزویلا کی تیل صنعت کو تباہ کر رکھ دیا۔‘
امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے کہا کہ مادورو کی گرفتاری کے بعد وینزویلا میں امریکہ کی کارروائی ختم ہو چکی ہے۔ وینزویلا کی نائب صدر ڈیلسی روڈریگز اُس سوشلسٹ نظام کا حصہ ہیں جس نے سنہ 1999 میں اقتدار سنبھالا تھا، اور اگر وہ اقتدار سنبھالتی ہیں تو قریبی مدت میں نمایاں تبدیلی کے امکانات کم ہیں۔
صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سنیچر کو فاکس نیوز کو بتایا کہ وہ نہیں چاہتے کہ کوئی ایسا شخص ملک چلائے جو مادورو کے نقشِ قدم پر چلے۔
مادورو کی برطرفی سے اقتدار کے خلا کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے، جس سے وینزویلا کے سیاسی مستقبل پر سوالیہ نشان لگ سکتا ہے۔ امریکہ جلاوطن ایڈمنڈو گونزالیز کو وینزویلا کا جائز صدر تسلیم کرتا ہے، جنہیں سنہ 2025 کی نوبیل امن انعام یافتہ ماریا کورینا ماچاڈو کی حمایت حاصل ہے۔
فلن نے کہا کہ ’اگلے 24 سے 48 گھنٹے نہایت اہم ہوں گے۔ اگر ہمیں یہ اشارے ملے کہ وینزویلا کی فوج اپوزیشن کی حمایت کر رہی ہے تو یہ عالمی منڈیوں کے لیے بڑی کامیابی ہو گی۔ اس کے برعکس اگر یہ تاثر پیدا ہوا کہ اس سے مزید کشیدگی یا خانہ جنگی جنم لے سکتی ہے تو ردِعمل منفی ہو گا۔‘
وینزویلا کے تیل کے ذخائر پر کنٹرول
وینزویلا کے پاس دنیا کے سب سے بڑے ثابت شدہ تیل کے ذخائر موجود ہیں، تاہم اس کی صلاحیت اور اصل پیداوار میں بڑا فرق ہے۔ ملک اس وقت روزانہ تقریباً 10 لاکھ بیرل تیل پیدا کرتا ہے، جو عالمی خام تیل کی پیداوار کا محض 0.8 فیصد ہے۔
یہ مقدار سنہ 2013 میں نکولس مادورو کے اقتدار میں آنے سے پہلے کی پیداوار کے نصف سے بھی کم اور سوشلسٹ حکومت کے اقتدار سنبھالنے سے قبل 35 لاکھ بیرل یومیہ پیداوار کے ایک تہائی سے بھی کم ہے۔
امریکی انرجی انفارمیشن ایڈمنسٹریشن کے مطابق وینزویلا پر بین الاقوامی پابندیوں اور شدید معاشی بحران نے تیل کی صنعت کے زوال میں کردار ادا کیا، تاہم سرمایہ کاری اور دیکھ بھال کی کمی بھی ایک بڑی وجہ رہی۔ برسوں کے دوران توانائی کا بنیادی ڈھانچہ بگڑتا گیا اور تیل پیدا کرنے کی صلاحیت بری طرح متاثر ہوئی۔
اسی لیے اگر امریکی حملوں کے بعد وینزویلا کی تیل سپلائی مکمل طور پر عالمی منڈی سے کٹ بھی جائے تو تیل کی قیمتوں اور ان سے منسلک مصنوعات جیسے پیٹرول میں بے قابو اضافہ متوقع نہیں۔ ملک اتنا تیل پیدا ہی نہیں کرتا کہ بڑا فرق پڑ سکے۔
گذشتہ برس تیل کی قیمتیں اضافی رسد کے خدشات کے باعث دباؤ میں رہی ہیں۔ اوپیک نے پیداوار بڑھائی ہے، جبکہ عالمی معیشت وبا کے بعد قیمتوں کے جھٹکے، مہنگائی اور قوتِ خرید کے مسائل کے باعث کمزور طلب کا سامنا کر رہی ہے۔
وینزویلا پر بین الاقوامی پابندیوں اور شدید معاشی بحران نے تیل کی صنعت کے زوال میں کردار ادا کیا۔ (فائل فوٹو: روئٹرز)
ٹرمپ انتظامیہ کے وینزویلا کے جہازوں سے تیل ضبط کرنے کے آغاز پر امریکی تیل کی قیمت عارضی طور پر 60 ڈالر فی بیرل سے اوپر گئی تھی، مگر بعد میں دوبارہ 57 ڈالر فی بیرل پر آ گئی۔ لہٰذا اگر سرمایہ کار یہ سمجھیں کہ حملہ تیل کی سپلائی کے لیے بری خبر ہے بھی، تو منڈی کا ردِعمل غالباً محدود ہی رہے گا۔
سینیئر مارکیٹ تجزیہ کار فل فلن کا کہنا تھا کہ ’نفسیاتی طور پر اس سے معمولی سا سہارا مل سکتا ہے، لیکن وینزویلا کا تیل عالمی پیدا کنندگان کے مجموعے سے آسانی سے پورا کیا جا سکتا ہے۔‘
وینزویلا کے تیل کی ممکنہ صلاحیت
وینزویلا کے پاس موجود تیل، بھاری اور زیادہ سلفر والے خام تیل، کو نکالنے کے لیے خصوصی آلات اور اعلیٰ تکنیکی مہارت درکار ہوتی ہے۔ بین الاقوامی تیل کمپنیاں یہ صلاحیت رکھتی ہیں، مگر انہیں ملک میں کاروبار کرنے سے روکا گیا ہے۔
دنیا کا سب سے بڑا تیل پیدا کرنے والا ملک امریکہ ہلکا اور کم سلفر والا خام تیل پیدا کرتا ہے، جو پیٹرول بنانے کے لیے تو موزوں ہے مگر دیگر مصنوعات کے لیے کم کارآمد ہے۔ اس کے برعکس وینزویلا کا بھاری خام تیل ریفائننگ کے دوران ڈیزل، اسفالٹ اور صنعتی ایندھن جیسی مصنوعات کے لیے نہایت اہم ہے۔ دنیا بھر میں ڈیزل کی قلت ہے، جس کی ایک بڑی وجہ وینزویلا کے تیل پر پابندیاں ہیں۔
وینزویلا کے تیل تک رسائی امریکہ کے لیے خاص طور پر فائدہ مند ہو سکتی ہے۔ ملک قریب ہے اور اس کا تیل نسبتاً سستا ہے، کیونکہ اس کی گاڑھی ساخت کے باعث اسے زیادہ ریفائننگ درکار ہوتی ہے۔
فل فلن نے کہا کہ ’مادورو کی حکومت اور اس سے قبل ہوگو شاویز نے بنیادی طور پر وینزویلا کی تیل صنعت کو تباہ کر رکھ دیا۔‘ (فائل فوٹو: روئٹرز)
فلن کے مطابق امریکہ کی زیادہ تر ریفائنریاں وینزویلا کے بھاری تیل کو پروسیس کرنے کے لیے بنائی گئی تھیں اور وہ وینزویلا کے تیل کے ساتھ امریکی تیل کے مقابلے میں کہیں زیادہ مؤثر ثابت ہوتی ہیں۔