Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

’گھبرائیں مت، قیمتیں نہیں بڑھیں گی‘، انڈیا میں روس سے تیل خریدنے کی خبریں

حکومتی ذرائع نے بتایا کہ مقامی مارکیٹ میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ نہیں ہو گا۔ فائل فوٹو: روئٹرز
انڈیا میں حکومتی ذرائع نے این ڈی ٹی وی کو بتایا ہے کہ مشرق وسطیٰ کی صورتحال کے پیش نظر روس سے خام تیل خریدا جائے گا۔
امریکہ-اسرائیل کے ایران پر حملوں کے بعد عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتوں میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے جبکہ مشرق وسطیٰ میں جنگ کے دوران توانائی کی فراہمی کے روٹس متاثر ہوئے ہیں۔
ذرائع نے یہ بھی کہا کہ پیٹرول کی قیمتوں کو مستحکم رکھنے کی کوششیں ’متعدد محاذوں پر مسلسل بات چیت‘ کی بدولت بار آور ہیں اور ’خام تیل کی صورتحال قابو میں ہے۔‘
ذرائع نے بتایا کہ مقامی مارکیٹ میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ نہیں ہو گا۔
این ڈی ٹی وی کو مزید بتایا گیا کہ حکومت کے پاس نہ صرف ایران میں جنگ سے پیدا ہونے والی سپلائی میں رکاوٹ بلکہ تہران کے زیر کنٹرول آبنائے ہرمز سے گزرنے والے آئل ٹینکروں کے رُکنے کی صورت میں کافی ذخائر موجود ہیں۔
تہران پر حملوں کے بعد ایران نے اس انتباہ کے ساتھ آبنائے ہُرمز بند کر دیا کہ گزرنے کی کوشش کرنے والے بحری جہازوں کو ’تباہ کر دیا جائے گا۔‘
عمان کے ساحل پر کم از کم دو بحری ٹینکروں پر حملوں کے باعث انشورنس کمپنیاں پیچھے ہٹ گئی ہیں جس کے بعد ہرمز کے راستے سمندری ٹریفک کی رفتار سست ہو گئی۔
آبنائے ہرمز دنیا کے سب سے اہم توانائی کی گزرگاہوں میں سے ایک ہے کیونکہ دنیا کی تیل کی تجارت کا پانچواں حصہ اور قدرتی گیس کی تجارت کا نصف سے زیادہ حصہ اسی راستے سے گزرتا ہے۔

ایران پر حملوں کے بعد عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتوں میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔ فائل فوٹو: روئٹرز

ہرمز سے تیل کی تجارت میں انڈیا کا حصہ 2.5 سے 2.7 ملین بیرل یومیہ ہے۔ یہ ملک میں روزانہ استعمال ہونے والے چھ ملین تیل کا تقریباً نصف ہے۔
بدھ کو این ڈی ٹی وی نے اس امکان کے بارے میں خبر دی تھی کہ انڈیا روس سے خام تیل کی خریداری میں اضافہ کر سکتا ہے تاکہ ایران جنگ کے دوران توانائی کی سپلائی کو برقرار رکھا جا سکے۔
امریکہ نے انڈیا کو روس سے تیل کی خریداری روکنے کے لیے اگلے ماہ کے اوائل تک چھوٹ دے رکھی ہے۔

شیئر: