چین کے وزیر خارجہ کی مشرق وسطیٰ میں جنگ پر تنقید، امریکہ سے تعلقات کو بہتر بنانے کا مطالبہ
چین کے وزیر خارجہ کی مشرق وسطیٰ میں جنگ پر تنقید، امریکہ سے تعلقات کو بہتر بنانے کا مطالبہ
اتوار 8 مارچ 2026 16:56
وانگ یی نے کہا کہ ’یہ سال چین اور امریکہ تعلقات کے لیے واقعی ایک بڑا سال ہے۔‘ فائل فوٹو: اے ایف پی
چین کے وزیر خارجہ نے مشرق وسطیٰ میں جنگ کی مذمت کرتے ہوئے امریکہ پر زور دیا ہے کہ وہ بیجنگ کے ساتھ اپنے اختلافات کو ختم کرے۔
خبر رساں ایجنسی اے ایف پی کے مطابق اتوار کو چینی وزیر خارجہ وانگ یی نے بیجنگ میں ایک پریس کانفرنس میں کہا کہ ایران پر امریکہ اور اسرائیل کے حملوں سے شروع ہونے والی جنگ ’کبھی نہیں ہونی چاہیے تھی۔‘
انہوں نے کہا کہ ’ایک مضبوط مُکے کا مطلب مضبوط وجہ نہیں ہوتی۔ دنیا جنگل کے قانون کی طرف واپس نہیں جا سکتی۔‘
وزیر خارجہ وانگ یی نے چین کے سالانہ سیاسی اجتماع سے بھی خطاب کیا جو رواں ہفتے شروع ہوا، اور جسے ’دو سیشنز‘ کہا جاتا ہے۔
چین کی پارلیمان اور سیاسی مشاورتی ادارے کے متوازی اجلاسوں کو جغرافیائی سیاسی منظرنامے کے نامساعد حالات کے پیش نظر سرکردہ رہنماؤں کی ترجیحات کے حوالے سے بہت قریب سے دیکھا جاتا ہے۔
وزیر خارجہ نے امریکہ کے ساتھ تجارتی جنگ، بحیرہ جنوبی چین میں علاقائی کشیدگی کے ساتھ ساتھ مشرق وسطیٰ اور یوکرین کی جنگوں سمیت متعدد مسائل پر بات کی۔
وانگ یی نے کہا کہ ’یہ سال چین اور امریکہ کے تعلقات کے لیے واقعی ایک بڑا سال ہے۔‘
’اختلافات کو کم کریں‘
گزشتہ سال ڈونلڈ ٹرمپ کے دوبارہ امریکی صدر منتخب ہونے کے بعد سے چین اور امریکہ کے درمیان تعلقات کشیدہ ہیں، جس کے دوران تجارتی جنگ شروع ہوئی جس میں دونوں ممالک نے ایک دوسرے کی مصنوعات پر ٹیرف عائد کیا۔
وانگ یی نے اتوار کو کہا کہ ’ہم دیکھتے ہیں کہ بعض ملک ٹیرف میں رکاوٹیں کھڑی کرتے اور سپلائی چین میں خلل ڈالتے ہیں۔‘
اُن کا کہنا تھا کہ ’یہ حرکتیں ایندھن سے آگ بجھانے کی کوشش کے مترادف ہیں۔ بالآخر یہ اُلٹی پڑیں گی اور خود کو ہی نقصان پہنچائیں گے۔‘
بیجنگ نے ایران پر امریکی اور اسرائیلی فوجی حملوں کی مذمت کی ہے۔ فائل فوٹو: اے ایف پی
وزیر خارجہ نے کہا کہ چین اور امریکہ ’ایک دوسرے کو تبدیل نہیں کر سکتے۔ ہم ایک دوسرے سے رابطہ کاری کے طریقے کو بدل سکتے ہیں۔‘
چین کے وزیر خارجہ نے زور دیا کہ ’ایک مناسب ماحول پیدا کریں، موجودہ اختلافات کو کم کریں، اور غیرضروری مداخلت کو ختم کریں۔‘
بیجنگ نے ایران پر امریکی اور اسرائیلی فوجی حملوں کی مذمت کی ہے، جس کے ساتھ اس کے سفارتی اور تجارتی تعلقات ہیں۔
چین نے خاص طور پر ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کے قتل کی مذمت کی۔
وانگ یی نے یہ بھی کہا کہ ماسکو کے ساتھ چین کے تعلقات ’ثابت قدم اور غیر متزلزل‘ رہے ہیں۔ ان تعلقات کو مغربی ممالک نے یوکرین میں جنگ کو برقرار رکھنے کے لیے تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔