کاراکاس دھماکے: امریکہ نے ’انتہائی سنگین فوجی جارحیت‘ کی، وینزویلا
کاراکاس دھماکے: امریکہ نے ’انتہائی سنگین فوجی جارحیت‘ کی، وینزویلا
ہفتہ 3 جنوری 2026 10:16
وینزویلا کے دارالحکومت کاراکاس میں سنیچر کی صبح تقریباً دو بجے (صبح چھ بجے مطابق جی ایم ٹی ٹائم) زور دار دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں، جن کے ساتھ طیاروں کی پرواز جیسی آوازیں بھی شامل تھیں۔ خبر رساں ادارے اے ایف پی کے ایک صحافی نے اس کی تصدیق کی ہے۔
یہ دھماکے ایسے وقت میں سنے گئے ہیں جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے وینزویلا کے خلاف زمینی حملوں کے امکان کا عندیہ دیا ہے۔ خیال رہے کہ امریکہ نے بحیرہ کیریبین میں بحری ٹاسک فورس تعینات کر رکھی ہے۔
رات تقریباً دو بج کر 15 منٹ تک بھی دھماکوں کی آوازیں سنائی دیتی رہیں، تاہم ان کا درست مقام واضح نہیں ہو سکا۔
پیر کے روز صدر ٹرمپ نے کہا تھا کہ امریکہ نے مبینہ طور پر وینزویلا کی منشیات لے جانے والی کشتیوں کے لیے استعمال ہونے والے ایک لنگر انداز ہونے کے مقام کو نشانہ بنا کر تباہ کر دیا ہے۔
صدر ٹرمپ نے یہ واضح نہیں کیا کہ آیا یہ کارروائی فوج نے کی یا سی آئی اے نے اور نہ ہی یہ بتایا کہ حملہ کہاں ہوا۔ تاہم ان کا کہنا تھا کہ یہ کارروائی ’ساحلی علاقے کے ساتھ‘ کی گئی۔
یہ حملہ وینزویلا کی سرزمین پر ہونے والا پہلا معلوم زمینی حملہ قرار دیا جا رہا تھا۔
وینزویلا میں ایمرجنسی کے نفاذ کا اعلان
اس واقعے کے بعد وینزویلا کے صدر نکولس مادورو نے ملک میں ہنگامی حالت (سٹیٹ آف ایمرجنسی) نافذ کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔
ان کی حکومت نے اسے دارالحکومت کاراکاس پر امریکہ کی جانب سے کی جانے والی ’انتہائی سنگین فوجی جارحیت‘ قرار دیا ہے۔
نکولس مادورو حکومت کا کہنا تھا کہ ’وینزویلا بین الاقوامی برادری کے سامنے امریکہ کی موجودہ حکومت کی جانب سے وینزویلا کی سرزمین اور عوام کے خلاف کی جانے والی انتہائی سنگین فوجی جارحیت کو مسترد کرتا ہے، اس کی مذمت کرتا ہے اور اسے بے نقاب کرتا ہے۔‘
صدر نکولس مادورو نے جمعرات کو کہا تھا کہ وہ امریکہ کی جانب سے کئی ہفتوں کے فوجی دباؤ کے بعد واشنگٹن کے ساتھ تعاون کے لیے تیار ہیں۔
ٹرمپ انتظامیہ نے صدر مادورو پر منشیات کے ایک کارٹیل کی قیادت کا الزام عائد کیا ہے اور کہا ہے کہ وہ منشیات کی سمگلنگ کے خلاف کارروائیاں کر رہی ہے۔ تاہم بائیں بازو کے رہنما نکولس مادورو ان الزامات کی تردید کرتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ واشنگٹن انہیں اقتدار سے ہٹانا چاہتا ہے کیونکہ وینزویلا کے پاس دنیا میں تیل کے سب سے بڑے معلوم ذخائر موجود ہیں۔
رات تقریباً دو بج کر پندرہ منٹ تک بھی دھماکوں کی آوازیں سنائی دیتی رہیں (روئٹرز)
واشنگٹن نے کاراکاس پر دباؤ بڑھاتے ہوئے غیر رسمی طور پر وینزویلا کی فضائی حدود بند کر دی ہیں، مزید پابندیاں عائد کی ہیں اور وینزویلا کے تیل سے بھرے ٹینکروں کو ضبط کرنے کے احکامات دیے ہیں۔
صدر ٹرمپ کئی ہفتوں سے خطے میں منشیات کے کارٹیلز کے خلاف زمینی حملوں کی دھمکیاں دیتے آ رہے ہیں اور کہہ چکے ہیں کہ یہ کارروائیاں ’جلد‘ شروع ہوں گی، جبکہ پیر کے روز کی کارروائی کو اس سلسلے کی پہلی واضح مثال قرار دیا جا رہا ہے۔
امریکی افواج نے ستمبر کے بعد سے بحیرہ کیریبین اور مشرقی بحرالکاہل میں متعدد کشتیوں کو بھی نشانہ بنایا ہے، جن کے بارے میں واشنگٹن کا کہنا ہے کہ وہ منشیات کی سمگلنگ میں ملوث تھیں۔
تاہم امریکی انتظامیہ نے اس بات کے کوئی شواہد فراہم نہیں کیے کہ نشانہ بنائی گئی کشتیاں واقعی منشیات کی سمگلنگ میں ملوث تھیں، جس کے باعث ان کارروائیوں کی قانونی حیثیت پر بحث جاری ہے۔
امریکی فوج کی جانب سے جاری کردہ معلومات کے مطابق اس سمندری مہم کے دوران کم از کم 30 حملوں میں 107 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔