الجوف کی تاریخی مسجد جہاں اسلام کے ابتدائی دور کا پہلا مینار واقع ہے
ڈیزائن میں مسجد نبوی کے طرزِ تعمیر کی جھلک پائی جاتی ہے۔ (فوٹو: ایس پی اے)
سعودی عرب کے الجوف ریجن میں دومتۂ الجندل کے مقام پر اسلام کے خلیفۂ ثانی عمر بن خطاب کے نام سے منسوب مسجد، ابتدائی اسلام کے زمانے کے فنِ تعمیر کی انتہائی اہم میراث ہے۔
اس مسجد کی تعمیر و ترتیب اور ڈیزائن میں مدینہ میں واقع مسجد نبوی کے طرزِ تعمیر کی جھلک پائی جاتی ہے۔
ادائیگیِ نماز کے لیے اس کا مستطیل ہال آج تک آغازِ اسلام میں عبادت کے مقامات کے لیے اختیار کی جانے والی مستند سادگی کو برقرار رکھے ہوئے ہے۔
یہ مسجد اینٹوں اور گارے کے ساتھ پتھروں کو شامل کر کے تعمیر کے اس وقت کے روایتی طریقے سے بنائی گئی تھی۔
آج بھی اس مسجد میں اس کی اصل شکل کے آثار ملتے ہیں جن میں ہال کے وسطی حصے میں ستون اور منبر موجود ہیں۔

تعمیر کے اس مرحلے کو ایک خاص حکمتِ عملی کے تحت مکمل کیا گیا تھا جس کا مقصد یہ تھا کہ عبادت گزاروں تک امام کی آواز آسانی سے پہنچ سکے۔
سعودی پریس ایجنسی ایس پی اے کے مطابق اس مسجد کا سب سے اہم پہلو شاید اس کا تاریخی مینار ہے جسے کے بارے میں اکثر کہا جاتا ہے کہ یہ اسلامی زمانے کے شروع شروع میں بنایا گیا پہلا مینار تھا۔
اس کے منفرد چوکور ڈیزائن کی تمام اطراف زمین پر پیمائش کے لحاظ سے تین میٹر کی ہیں لیکن جوں جوں زمین سے اوپر مینار کی بلندی کی طرف جائیں تو اس سائز میں فرق پڑ جاتا ہے۔

مینار کا اوپر کا حصہ چوٹی پر پہنچ کر نصف مخروطی شکل اختیار کر لیتا ہے۔
یہ نشانِ امتیاز، اسلامی طرزِ تعمیر میں ہونے والی تبدیلی کے سفر کی ایک بنیادی مثال بھی ہے کیونکہ اس مسجد کے ہال میں بنے ہوئے چھوٹے چھوٹے سادہ کمرے یا احاطے، اذان کو ذہن میں رکھتے ہوئے رفتہ رفتہ بلندی کی طرف تعمیر ہونے شروع ہوگئے تھے۔
