Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

طویق سکلپچر نمائش: فن پاروں سے سعودی دارالحکومت ریاض روشن

سڑک پر چلتے پھرتے لوگوں کی نگاہ عوامی آرٹ پر ٹھہر جاتی ہے۔(فوٹو: ایس پی اے)
سعودی دارالحکومت ریاض کے وسطی علاقے میں پرنس محمد بن عبدالعزیز سٹریٹ کے ساتھ ساتھ، شاموں کو لوگ اکٹھے ہو کر ایک ایسے فنکارانہ تجربے میں زندگی کی روح پُھونک دیتے ہیں جو عوامی آرٹ کو رمضان المبارک کی غور و فِکر کرنے والی پُر سُکون فضا سے ملا دیتا ہے۔ اور یہ سب کچھ طویق سکلپچر کی نمائش کی وجہ سے ممکن ہوا ہے۔
سعودی پریس ایجنسی کے مطابق ریاض سِٹی کے رائل کمیشن  کی زیرِ نگرانی، آرٹ پروگرام کے تسلسل کے طور پر یہ نمائشں، ’طویق انٹرنیشنل سکلپچر سیمپوزیم‘ کے ساتویں ایڈیشن کا ایک نتیجہ ہے۔
رمضان کے مبارک مہینے میں اِس نمائش کی ایک اضافی ثقافتی اور سماجی جہت ہمارے سامنے آتی ہے جب مجسمے، تدبر و تفکر کی خاص علامتوں کی شکل میں ڈھل جاتے ہیں۔
احترام سے لبریز یہ سنگِ میل، شہریوں کو کُھلے مقامات کے اندر دیکھنے کو مل جاتے ہیں جہاں رمضان کی اصل رُوح اپنے تمام تر تقدس کے ساتھ رات کے پُرسکون لمحوں میں چارسُو پھیل جاتی ہے۔
یہی وہ وقت ہوتا ہے جب سڑک پر چلتے پھرتے اور آتے جاتے لوگوں کی نگاہ عوامی آرٹ پر ٹھہر جاتی ہے۔

افطار کے بعد فیمیلیاں اور عام لوگ اُس مقام پر جمع ہو جاتے ہیں جہاں شہر کی روزانہ کی ریل پیل، رمضان کی شاموں کی متانت سے ہم آہنگ ہو جاتی ہے اور ایک ایسے تجربے کو جنم دیتی ہے جو عوامی مقامات اور فن کے مابین رشتے کی تعریف از سرِ نو متعین کرتا ہے۔
سمپوزیم میں مملکت کے اندر اور باہر کے ممالک سے نمائش میں شرکت کرنے والے فنکاروں کی جانب سے مجسمہ سازی کے لائیو مرحلے کے دوران بنائے گئے پچیس سکلپچر اِس نمائش میں خصوصی اہمیت کے حامل ہیں۔
فنکاروں نے جن پتھروں کی تراش خراش کر کے اُنھیں پارۂ فن بنا دیا ہے، اُن سنگریزوں کو سعودی ماحول میں رہنے کا اعزاز حاصل ہے جن میں گرینیٹ یا سنگِ خارا اور بیسولٹ یا آتش فشانی چٹانوں سے حاصل کیا گیا سنگِ سیاہ شامل ہے۔

اس پتھروں سے تخلیق کا مقصد، ساتویں ایڈیشن کے موضوع ’مستقبل کی شکل کیسی ہوگی‘ کے تحت بڑی تبدیلی کے تصور کی فنی تلاش ہے۔
اس نمائش میں عام لوگ روزانہ شام ساڑھے آٹھ بجے سے صبح ڈھائی بجے تک شرکت کر سکتے ہیں۔
اس سے آرٹ کے شوقین افراد کو موقع ملتا ہے کہ وہ رمضان کی راتوں اور اس ماہِ مبارک کے مخصوص ماحول میں جہاں تدوبُر و تفکُر اور شرکت کے لیے کھلی فضا موجود ہے،  فن پاروں کی تخلیق کے تجربے سے گزریں۔

نمائش آٹھ مارچ تک جاری رہے گی جس میں کھلا فنکارانہ تجربہ پیش کیا جائے گا جو ریاض میں ہونے والی تبدیلی کا عکاس ہوگا اور اس بات کا گواہ بھی کہ عوامی فن، اس شہر کے آج کل دکھائی دینے والے منظروں کا ایک لازمی حصہ بن چکا ہے۔

 

شیئر: