Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

چاندی کے فریم میں محفوظ حجرِ اسود کی صفائی کے لیے جدید ٹیکنالوجی کا استعمال

حجرِ اسود، کعبے کے مشرقی کونے میں نصب ہے (فوٹو: ایس پی اے)
حجرِ اسود اور رُکنِ یمانی کعبہ شریف کی وہ گہری علامتیں ہیں جو امتیازی حیثیت کی حامل ہیں۔ ان سنگِ ہائے میل کا تعلق پیغمبرِ اسلام محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی سُنت سے بھی ہے، حضرت ابراہیم اور حضرت اسماعیل جیسے انبیاء کی تاریخ سے بھی۔
سعودی پریس ایجنسی کے مطابق کعبے کے مشرقی کونے میں نصب حجرِ اسود،  ہر طواف کا نکتۂ آغاز ہے اور ہر طواف کا اختتام بھی اِسی مقام پر ہوتا ہے۔
زائرین پیغمبرِ اسلام کی سنت کا اِتباع کرتے ہوئے، حجرِ اسود کو ہاتھ لگاتے ہیں، اسے بوسہ دیتے ہیں اور عقیدت کی انتہائی علامتِ احترام کے طور پر طواف کے دوران حجرِ اسود کی جانب اشارہ بھی کرتے ہیں۔
رُکنِ یمانی جو کعبے کی جنوبی سمت میں ہے، روایت کے طور پر طواف کے دوران اسے ہاتھ لگایا جاتا ہے۔ اِس کا تعلق اُس خاص دُعا سے ہے جس میں حیاتِ دنیوی اور حیاتِ اُخروی دونوں میں بھلائی اور خیر طلب کی جاتی ہے۔
اِن متبرک علامتوں کے تحفظ کے لیے سعودی حکومت نے ایک جامع نظام کو اختیار کیا ہُوا ہے اور ان کے بندوبست کا انتظام کر رکھا ہے جس میں اِن مقدس نشانیوں کی باقاعدہ دیکھ بھال کی جاتی ہے۔

حجرِ اسود کی حفاظت کے لیے اِسے چاندی کے فریم میں محفوظ کیا گیا ہے جبکہ اس کی صفائی کے لیے جدید ترین ٹیکنالوجی کا استعمال کیا جاتا ہے۔
اس کے علاوہ مخصوص تربیت یافتہ افراد اور نگرانی کے بہترین نظام سے یہاں آنے والے افراد کی دیکھ بھال اور طواف میں آسانیاں پیدا کرنے کے لیے ترتیب کو خاص طور پر ملحوظ رکھا جاتا ہے۔
 اس کا مقصد یہ ہے کہ زائرین دل و دماغ کی مکمل یکسوئی اور طمانیت کے ساتھ، محفوظ رہتے ہوئے، ایک ضابطے کے تحت اور منظم طریقے سے باآسانی عبادت کے فرائض انجام دے سکیں۔

 

شیئر: