پاکستان کے 21ویں اپوزیشن لیڈر محمود خان اچکزئی قومی اسمبلی میں اکلوتی نشست کے ساتھ اس عہدے پر براجمان ہونے کی منفرد مثال ہیں۔
وہ بلوچستان سے تعلق رکھنے والی پہلی شخصیت ہیں جو قومی اسمبلی میں عددی طور پر توانا اپوزیشن کی سربراہی کریں گے۔
پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کے ایک دھڑے کے سربراہ محمود خان اچکزئی اور مولانا مفتی محمود میں یہ قدر مشترک ہے کہ وہ ذوالفقار علی بھٹو کی حکومت کے اپوزیشن لیڈر خان عبدالولی خان کی عدالت سے سزا اور گرفتاری کے بعد اپوزیشن لیڈر قرار پائے تھے۔
مزید پڑھیں
-
جب ہیوی مینڈیٹ ہی نواز شریف کا بڑا دشمن ثابت ہواNode ID: 541686
-
ایوب خان کو ایوانِ اقتدار سے کس نے بے دخل کیا تھا؟Node ID: 852351
گزشتہ برس اگست میں اس وقت کے اپوزیشن لیڈر عمر ایوب خان بھی 9 مئی کے پُرتشدد واقعات میں ملوث ہونے کے الزام میں دہشت گردی کی عدالت سے سزا کے بعد اپنے عہدے سے ہاتھ دھو بیٹھے تھے۔
پاکستان میں اپوزیشن لیڈر کے عہدے کی تاریخ سیاسی ہنگامہ خیزیوں سے بھری ہوئی ہے لیکن قومی اسمبلی میں پہلے اپوزیشن لیڈر کے بارے میں بیان کی گئی تاریخ پر فراموشی کا پردہ پڑا ہوا ہے۔
پاکستان کے پہلے اپوزیشن لیڈر کا تقرر سات جولائی 1955 کو ہوا۔ آزادی کے بعد بننے والی حکومتوں نے ریاست کا نظام چلانے کے لیے پارلیمانی نظام کی دیگر روایات اور قانونی ضروریات کو تو اختیار کیا مگر جمہوری نظامِ حکومت کے اہم ستون اپوزیشن لیڈر کے عہدے پر تقرری کی غیرمعمولی تاخیر کا سبب کیا تھا؟
پاکستان میں اپوزیشن کی سیاست کے بارے میں تحقیق پر مبنی کتاب ’دی پولیٹکس آف پاکستان: رول آف دی اپوزیشن‘ کی مصنفہ کوثر پروین کے مطابق اس کی وجہ یہ تھی کہ 1956 کے آئین کی منظوری کے بعد اپوزیشن لیڈر کے منصب کو سرکاری حیثیت دی گئی۔

پاکستان کی قومی اسمبلی کی ویب سائٹ پر موجود اپوزیشن لیڈرز کی فہرست کے مطابق حسین شہید سہروردی ملک کے پہلے اپوزیشن لیڈر تھے جو سات جولائی 1955 سے 11 ستمبر 1956 تک اس منصب پر فائز رہے۔ اگر پہلے آئین کے نفاذ کے بعد اپوزیشن لیڈر کے دفتر کو باقاعدہ حیثیت دینے والی دلیل مان لی جائے تو پھر پہلے اپوزیشن لیڈر کا تقرر 23 مارچ 1956 سے ہونا چاہیے تھا۔
پاکستان کا پہلا اپوزیشن لیڈر ہندو تھا؟
پاکستان کا پہلا اپوزیشن لیڈر کون تھا؟ اگر جواب حسین شہید سہروردی ہے تو ان کی تقرری آٹھ برسوں بعد کیوں ہوئی؟ پاکستان کی سیاسی تاریخ کے بارے میں بظاہر یہ سادہ سے سوالات اپنے اندر بہت سارے الجھاؤ اور تضادات لیے ہوئے ہیں۔
حسین شہید سہروردی 1946 کے انتخابات میں کلکتہ سے دستور ساز اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے تھے۔ پاکستان بننے کے بعد اقلیتوں کے حقوق پر زور دینے، فسادات کی روک تھام کے لیے سرگرم ہونے اور حکومتی نظام کے بارے میں مخصوص طرزِ فکر کے باعث وہ اس وقت کی حکومت کی نظروں میں ناپسندیدہ قرار پائے۔
پاکستان بننے کے بعد ابتدائی برسوں میں وہ پاکستان اور انڈیا دونوں ملکوں میں قیام پذیر رہتے تھے۔ مخصوص قانون سازی کے ذریعے انہیں اسمبلی کی نشست سے محروم کر دیا گیا کیونکہ ان کا حلقہ انتخاب مغربی بنگال میں واقع تھا۔
’پولیٹیکل پارٹیز ان پاکستان‘ کے مصنف رفیق افضل کے مطابق 1949 میں حسین سہروردی نے مغربی پاکستان سے رکن اسمبلی بننے کی کوشش کی جسے مسلم لیگ میں ان کے مخالف گروپ نے ناکام بنا دیا۔ اپنی سیاست کو جاری رکھنے کے لیے انہوں نے آل پاکستان عوامی مسلم لیگ کی بنیاد رکھی۔
یوں اسمبلی سے باہر وہ مسلم لیگ کی حکومت کی پالیسیوں اور طریقۂ کار کے خلاف توانا تنقید کے باعث اپوزیشن کا کردار ادا کرنے لگے۔

سنہ 1954 میں مشرقی بنگال کی صوبائی اسمبلی کے الیکشن میں ان کی جماعت نے قابلِ قدر کامیابی حاصل کی جس کی وجہ سے وہ پاکستان کی دوسری دستور ساز اسمبلی کے الیکشن میں کامیاب ہو کر رکن اسمبلی بن گئے۔
حسین سہروردی کو اسمبلی کی رکنیت کے بعد اپوزیشن لیڈر کا عہدہ سنبھالنے کا موقع ملا۔
پھر سوال یہ ہے کہ ابتدائی آٹھ برسوں میں دستور ساز اسمبلی میں مسلم لیگ کے علاوہ کسی اور جماعت کی پارلیمانی نمائندگی موجود نہیں تھی جس کا کوئی رہنما اپوزیشن لیڈر قرار پاتا؟
جواب اکثر قارئین کو چونکانے اور حیرت میں مبتلا کرنے والا ہو سکتا ہے۔
پاکستان کی پہلی قومی اسمبلی میں حکومتی پارٹی کے ارکان کی تعداد 62 تھی، جبکہ 14 اراکین اپوزیشن بینچوں پر بیٹھا کرتے تھے۔ اپوزیشن کی سب سے بڑی جماعت کا نام ’پاکستان نیشنل کانگریس‘ تھا جو آل انڈیا نیشنل کانگریس کی پاکستانی شاخ تھی۔ پہلی دستور ساز اسمبلی میں اس کے ارکان کی تعداد 10 تھی۔
اگر یہ کہا جائے کہ اس دور کے بعض اخبارات اور سیاسی تاریخ کی کچھ کتابیں یہ بھی بتاتی ہیں کہ پاکستان کا پہلا اپوزیشن لیڈر اسی کانگریس پارٹی اور ہندو کمیونٹی سے تعلق رکھنے والا ایک رکن اسمبلی تھا، تو شاید یہ انکشاف اکثریت کے لیے غیر مقبول اور ناقابلِ یقین ہوگا کہ اس رکن اسمبلی کا نام ’کرن شنکر رائے‘ تھا اور وہ بنگال میں کانگریس کے صفِ اول کے رہنماؤں میں شمار ہوتے تھے۔
کرن شنکر رائے کون تھے؟
مسلمانوں کے لیے علیحدہ ملک کے مطالبے پر آل انڈیا کانگریس اور مسلم لیگ میں شدید مخاصمت پائی جاتی تھی، جس کا عکس تقسیم کے بعد پاکستان کی آئین ساز اسمبلی میں کانگریس کے 10 ارکان اسمبلی کی تقاریر اور مختلف مواقع پر ہونے والی قانون سازی کی مخالفت میں جھلکتا ہے۔
شاید یہی وجہ تھی کہ مسلم لیگ اپنی سیاسی حریف اور نظریاتی مخالف سیاسی جماعت کی بحیثیت اپوزیشن پارٹی حیثیت کو تسلیم کرنے کے لیے باآسانی راضی نہ ہو سکی۔
تحریکِ پاکستان کے دوران ہندو اور مسلمانوں میں دوریاں اس قدر بڑھ گئی تھیں کہ مسلم مخالف کہلانے والی جماعت کے ہندو رہنما کو اپوزیشن لیڈر کے طور پر تسلیم کرنے میں ہچکچاہٹ اس دور میں کوئی اچھنبے کی بات نہیں تھی۔
پاکستان میں اپوزیشن کے کردار پر تحقیق کرنے والی کوثر پروین لکھتی ہیں کہ کانگریس پارٹی کو دستور ساز اسمبلی میں اپوزیشن جماعت کے طور پر دیکھا جاتا تھا۔ کانگریس اسمبلی میں اقلیتوں کے حقوق اور قانون سازی کو غیر مذہبی بنیادوں پر استوار کرنے کی حامی تھی۔
معروف محقق اور تاریخ داں کے کے عزیز اپنی کتاب ’پارٹی پولیٹکس ان پاکستان: 1947 ٹو 1958‘ میں کانگریس کو پاکستان کی پہلی آفیشل اپوزیشن جماعت قرار دیتے ہیں۔ اگر کانگریس پہلی اپوزیشن جماعت تھی تو اس کا اسمبلی میں سربراہ پارلیمانی روایات کے مطابق اپوزیشن لیڈر ہونا چاہیے تھا۔
کانگریس کے پارلیمانی لیڈر کا نام کرن شنکر رائے تھا اور انہیں حزبِ اختلاف کی جماعت کا سربراہ ہونے کی حیثیت سے اپوزیشن لیڈر کے طور پر دیکھا جاتا تھا۔

اس دور کے بعض اخبارات کے مطالعے سے پتہ چلتا ہے کہ ان کے نام کے ساتھ پاکستان کی آئین ساز اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر کے الفاظ لکھے جاتے تھے۔ انہوں نے نومبر 1947 میں دہلی میں آل انڈیا کانگریس کمیٹی کے اجلاس میں شرکت کی جس میں کانگریس کی پاکستانی شاخ کے مستقبل کے بارے میں غور کیا گیا۔
اس دورے کی خبر میں انہیں پاکستان کی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر لکھا گیا تھا۔
پاکستان کی دستور ساز اسمبلی کے 22 فروری 1948 کو شروع ہونے والے اجلاس کے بارے میں 20 فروری 1948 کو کراچی سے شائع ہونے والے اخبار ’ڈیلی گزٹ‘ کی ایک خبر کے مطابق اپوزیشن لیڈر کرن شنکر رائے نے اسمبلی اجلاس کے لیے اپنی پارٹی کے ارکان سریش چندر چیٹرجی کو کانگریس پارٹی کا ڈپٹی لیڈر اور راج کمار چکرورتی کو سیکرٹری نامزد کیا۔ کرن شنکر رائے نے خود اس اجلاس میں شرکت نہیں کی تھی۔
کرن شنکر رائے موجودہ بنگلہ دیش کے ضلع مانک گنج کے ایک گاؤں کے رہنے والے تھے۔ بنگال میں ان کی شہرت ایک مفکر سیاست دان اور حریت پسند کی تھی۔ دورانِ تعلیم وہ آکسفورڈ یونیورسٹی میں آکسفورڈ انڈین مجلس کے صدر رہ چکے تھے۔
کرن شنکر رائے ہندوستان کی آزادی کے لیے باغی فوج کی بنیاد رکھنے والے سبھاش چندر بوس کے بھی قریب رہے۔ بنگال میں وہ سوراج پارٹی سے وابستہ رہنے کے بعد کانگریس میں شامل ہو گئے، جہاں وہ 1937 میں مجلس قانون ساز کے رکن منتخب ہوئے۔ وہ بنگال اسمبلی میں کانگریس کے اپوزیشن لیڈر کے طور پر بھی کام کرتے رہے۔
تقسیمِ ہند کے وقت حسین شہید سہروردی نے متحدہ بنگال کی آزاد حیثیت کی تجویز پیش کی تو قائداعظم محمد علی جناح نے انہیں کانگریسی رہنماؤں کو راضی کرنے کی صورت میں مسلم لیگ کی حمایت کا اشارہ دیا۔
بنگال کانگریس کے جن ہندو رہنماؤں نے اس مطالبے کی حمایت کی ان میں کرن شنکر رائے اور سبھاش چندر بوس کے بھائی شرت چندر بوس شامل تھے۔ مگر نہرو اور پٹیل کی مخالفت کی وجہ سے متحدہ آزاد بنگال کے بجائے یہ دونوں ملکوں کے درمیان تقسیم ہو گیا۔
اپوزیشن رہنما نے پاکستان کیوں چھوڑا؟
پاکستان کے پہلے وزیرِ قانون جوگندر ناتھ منڈل کے اپنا عہدہ چھوڑ کر انڈیا جا بسنے کا تذکرہ سیاسی تاریخ میں کسی نہ کسی حوالے سے آتا رہتا ہے، مگر آج تک شاذ و نادر ہی لوگوں کے علم میں ہوگا کہ پاکستان کے پہلے اپوزیشن لیڈر نے بھی ملک چھوڑ کر ہندوستان کی راہ لی تھی۔
کرن شنکر رائے کے بحیثیت اپوزیشن لیڈر تذکرہ نہ ہونے اور ان کی سیاسی سرگرمیوں کا ریکارڈ موجود نہ ہونے کی سب سے بڑی وجہ ان کا پاکستان میں مختصر قیام تھا۔ وہ پاکستان بننے کے بعد صرف 9 ماہ یہاں مقیم رہے۔ وہ بیک وقت پاکستان کی دستور ساز اسمبلی اور مغربی بنگال کی صوبائی اسمبلی کے رکن تھے۔
مئی 1948 کے پہلے ہفتے میں وہ خاموشی سے انڈین بنگال منتقل ہو گئے۔ انہوں نے چھ مئی کو ریاست کے وزیراعلیٰ سی بی رائے کی حکومت میں وزیر داخلہ کی حیثیت سے شمولیت اختیار کی۔

پاکستان سے ان کی ہجرت کی وجوہات میں سے سب سے بڑی وجہ حکومت پاکستان کی جانب سے نافذ ہونے والا ایک قانون تھا جس کی رو سے انہیں پاکستان یا انڈیا کی اسمبلیوں کی رکنیت میں سے کسی ایک کا انتخاب کرنا تھا۔
16 دسمبر 1947 کو گورنر جنرل پاکستان نے ایک حکم نامہ جاری کیا جس کا نام ’پاکستان پروونشل لیجِسلیٹرز ڈِس کوالیفیکیشن فار ممبر شپ آرڈر‘ تھا، جس کے مطابق انڈیا کی صوبائی یا مرکزی اسمبلی کا کوئی رکن یا کسی لوکل باڈی کا رکن، پاکستان کی صوبائی اسمبلی یا مقامی باڈی کا رکن اس وقت تک نہیں رہ سکتا جب تک وہ انڈیا میں اپنے عہدے سے استعفیٰ نہ دے دے۔
ابتدا میں یہ قانون صوبائی اسمبلیوں کے ارکان کے لیے تھا مگر بعد میں اسے مرکزی اسمبلی پر بھی لاگو کیا گیا۔
پاکستان کی پارلیمانی تاریخ میں مختصر وقت کے لیے کردار ادا کرنے والے کرن شنکر رائے چلے جانے کے بعد صرف 9 ماہ ہی زندہ رہ سکے۔
پاکستان نیشنل کانگریس کے دیگر اپوزیشن لیڈرز
کرن شنکر رائے کے بعد اسمبلی میں کانگریس پارٹی کے پارلیمانی رہنما بننے والے ارکان اسمبلی کو بھی حزبِ اختلاف کے قائدین کے طور پر دیکھا جاتا تھا۔
کوثر پروین نے شنکر رائے کے بعد ان کی جگہ کانگریس کے سربراہ سریش چندر چیٹرجی کے بارے میں لکھا کہ انہیں اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر کے طور پر دیکھا جاتا تھا۔
کے کے عزیز نے پاکستان نیشنل کانگریس کی سیاسی حیثیت اور اسمبلی میں اپوزیشن کے کردار کا جائزہ لیتے ہوئے اس کے ایک اور رہنما چندرا چٹوپادھیہ کو غیر سرکاری طور پر اپوزیشن لیڈر قرار دیتے ہوئے لکھا ہے کہ سنہ 1955 میں اپوزیشن لیڈر کے عہدے کی قانونی حیثیت کو مربوط کیا گیا۔ اس کی تنخواہ اور مراعات کو ایک ایکٹ کے ذریعے قانونی حیثیت دی گئی۔
سات مارچ 1949 کو دستور ساز اسمبلی نے قراردادِ مقاصد کی منظوری دی۔ اس موقعے پر وزیراعظم لیاقت علی خان کی تقریر کے جواب میں چندرا چٹوپادھیہ کی جوابی تقریر کا حوالہ دیتے ہوئے کوثر پروین نے ان کے نام کے ساتھ بھی اپوزیشن لیڈر کا لاحقہ استعمال کیا ہے۔

پاکستان کی سیاسی تاریخ میں غیر مسلموں پر مشتمل اپوزیشن پارٹی کے حزبِ اختلاف کے کردار اور اس کے ارکان کے بحیثیت اپوزیشن لیڈر سرگرمیوں کا تذکرہ نہ ہونے کے بارے میں کے کے عزیز لکھتے ہیں کہ اپوزیشن لیڈر کے عہدے کے نمایاں نہ ہونے کی وجہ پاکستان کے ابتدائی برسوں میں سپیکر قومی اسمبلی کا عہدہ انتہائی کمزور ہونا تھا، جس کی وجہ سے اپوزیشن لیڈر کی حیثیت بھی متعین نہ ہو سکی۔
کے کے عزیز کے خیال میں مسلم لیگ کی جانب سے پاکستان کی بانی جماعت کے شور و شرابے کی وجہ سے اپوزیشن پارٹیوں اور اپوزیشن لیڈر کی حیثیت ثانوی ہو کر رہ گئی تھی۔
پاکستان کی فراموش شدہ سیاسی جماعت
آزادی کے بعد کانگریس مرکزی اسمبلی کے ساتھ ساتھ صوبائی اسمبلیوں میں بھی نمائندگی رکھتی تھی۔ مشرقی بنگال اور سندھ اسمبلی میں یہ حکمران مسلم لیگ کے بعد سب سے بڑی پارلیمانی پارٹی تھی۔
سنہ 1954 میں بنگال کی صوبائی اسمبلی کے انتخابات میں اس پارٹی نے 24 نشستیں جیتیں۔ پنجاب اسمبلی میں کانگریس کے سربراہ لالہ بھیمسین سچر نے اپنے دورۂ انڈیا کے دوران نہرو اور پٹیل سے مطالبہ کیا کہ مغربی پنجاب کی اسمبلی کے ہندو ارکان کو مشرقی اسمبلی کی رکنیت دی جائے۔ اس دور کے شمال مغربی سرحدی صوبے (اب خیبر پختونخوا) میں 1946 کے انتخابات سے وجود میں آنے والی اسمبلی میں کانگریس اور خدائی خدمت گار تحریک کی مخلوط حکومت بنی تھی جسے اگست 1947 میں ختم کر دیا گیا۔
سندھ میں ہندوؤں کی کثیر آبادی کی وجہ سے سندھ اسمبلی میں کانگریس کے ارکان منتخب ہوتے رہے۔ آزادی کے بعد چار ارکان مستعفی ہو کر انڈیا چلے گئے تاہم پروفیسر ایم آر ملکانی نے ’سندھ پیس بورڈ‘ کے پلیٹ فارم سے فرقہ وارانہ فسادات کے خلاف احتجاج اور کوششیں جاری رکھیں۔
ایم آر ملکانی اور دستور ساز اسمبلی کے مسلم رکن سردار بہادر خان نے مسلم لیگ اور کانگریس دونوں کو تحلیل کر کے غیر مذہبی بنیادوں پر ایک نئی جماعت کے قیام کی تجویز پیش کی جس میں مسلمان اور ہندو دونوں شامل ہو سکیں۔
جنوری 1948 میں سندھ پروونشل کانگریس نے اپنی ایک قرارداد کے ذریعے آل انڈیا کانگریس کی پاکستانی شاخ کو انڈین کانگریس سے علیحدہ کر کے ایک نئی تنظیم کے طور پر منظم کرنے کی قرارداد پاس کی۔
اس سے قبل دسمبر 1947 میں قائدِ اعظم کے حکم پر آل انڈیا مسلم لیگ کو بھی پاکستان اور انڈیا دونوں ملکوں میں الگ الگ تنظیم کے طور پر تقسیم کیا جا چکا تھا۔ مسلم لیگ کی الگ شاخوں کے قیام کے بعد کانگریس کی جانب سے بھی پاکستان کی تنظیم کو الگ کرنے کی کوششیں تیز ہو گئیں۔

ابتدا میں آل انڈیا کانگریس کمیٹی نے اس کا مثبت اور پرجوش جواب نہیں دیا۔ نومبر 1947 میں لالہ اوتار نارائن گجرال، جو کہ پاکستان کی اسمبلی میں کانگریس کے رکن تھے، انہوں نے اس پر احتجاج کرتے ہوئے انڈین کانگریس سے پاکستانی کانگریس کو الگ کرنے کا مطالبہ کیا۔
پاکستان کی دستور ساز اسمبلی کے ہندو ارکان ڈی این دتا اور راج کمار چکروتی کے بیانات سے بھی لگتا تھا کہ وہ انڈین کانگریس کی جانب سے پاکستانی ارکان اسمبلی کی پالیسیوں اور فیصلوں پر اثر انداز ہونے سے خوش نہیں تھے۔ بالآخر مئی 1948 میں ’پاکستان نیشنل کانگریس‘ کے نام سے پارٹی کی مقامی شاخ قائم کرنے پر اتفاق ہو گیا جس پر اگست 1948 میں عمل درآمد ہوا۔
پاکستان نیشنل کانگریس نے دستور ساز اسمبلی میں قراردادِ مقاصد کی منظوری کی کھل کر مخالفت کی اور اسے قائدِاعظم کی سوچ اور سیاسی نظریے سے ہٹنے کے مترادف قرار دیا۔
اسی طرح اس جماعت نے پاکستان کے پہلے دستور کو مذہبی بنیادوں پر استوار کرنے کے لیے قائم کمیٹی کا بھی بائیکاٹ کیا۔ مشرقی پاکستان سے بڑے پیمانے پر ہندوؤں کی ہجرت اور شیڈول کاسٹ ہندوؤں کی جانب سے اپنی الگ سیاسی جماعت قائم کرنے کی وجہ سے پاکستان نیشنل کانگریس کی پارلیمانی نمائندگی میں بتدریج کمی آتی گئی۔ سنہ 1955 میں دوسری دستور ساز اسمبلی میں اس کے صرف چار ارکان ہی منتخب ہو سکے۔

سنہ1958 کے مارشل لا میں سیاسی جماعتیں غیر قانونی قرار دی گئیں تو پاکستان نیشنل کانگریس بھی اس کی زد میں آگئی۔
سہروردی کی قائم کردہ آل پاکستان عوامی مسلم لیگ جب عوامی لیگ قرار پائی تو ہندو سیاسی رہنماؤں اور کارکنوں نے اس میں شمولیت اختیار کر لی، یوں پاکستان نیشنل کانگریس کا وجود آہستہ آہستہ تحلیل ہو کر رہ گیا۔
پاکستان میں اکثر غیر مسلم پاکستانیوں کے سیاسی اور مذہبی حقوق کے تحفظ کا نعرہ بلند کیا جاتا ہے۔ اسمبلی میں انہیں مخصوص نشستوں کی صورت میں نمائندگی بھی حاصل ہے۔ اگر اسی اسمبلی کی تاریخ اور تذکروں میں اس کے پہلے غیر مسلم اپوزیشن لیڈر کا نام شامل کر دیا جائے تو غیر مسلم پاکستانیوں کے حقوق کے نعرے کا بھرم اور بڑھ سکتا ہے۔












