Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

طالبان حکومت کی سوویت مخالف مزاحمت پر مبنی میوزیم میں تبدیلیاں، مجسموں کے چہرے مسخ

میوزیم کا باغ اب بھی جنگ کی باقیات سے بھرا ہوا ہے جہاں سوویت لڑاکا طیارہ، ہیلی کاپٹر، ٹینک، بھاری توپ خانے کے حصے اور فوجی گاڑیاں موجود ہیں۔ (فوٹو: اے ایف پی)
ایک افغان شہری، جس نے سوویت افواج کے خلاف جنگ لڑی تھی، آج بھی اس مزاحمت کو خراجِ تحسین پیش کرنے والے ایک میوزیم کا دورہ کرتا ہے، تاہم طالبان حکام کے قواعد کے مطابق حالیہ عرصے میں وہاں موجود نمائش کے لیے رکھی گئی اشیا میں نمایاں تبدیلیاں کی گئی ہیں۔
67 سالہ سعدالدین ہر ماہ مغربی افغانستان کے شہر ہرات کی پہاڑیوں پر واقع جہاد میوزیم کا سفر کرتے ہیں، جو نیلے اور سفید چمکتے موزائیک سے مزین ایک عمارت ہے۔
خبر رساں ادارے اے ایف پی کی رپورٹ کے مطابق 10 سالہ  سوویت قبضے کے دوران، جو 1989 میں ختم ہوا، دس لاکھ سے زائد افغان ہلاک ہوئے جبکہ لاکھوں افراد کو جلاوطنی پر مجبور ہونا پڑا۔
سعدالدین نے کہا، ’روسی افغانستان میں جہازوں، ہیلی کاپٹروں اور ٹینکوں کے ساتھ آئے؛ یہ انتہائی پرتشدد تھا۔‘
انہوں نے سکیورٹی وجوہات کی بنا پر اپنا پورا نام شائع نہ کرنے کی درخواست کی۔
انہوں نے مزید کہا، ’میں اُس وقت محض ایک نوجوان تھا، مگر میں افغانستان کی آزادی کے لیے کھڑا ہونا چاہتا تھا۔‘

ان کے گروہ میں شامل 21 مجاہدین میں سے صرف سات زندہ بچ سکے۔
میوزیم کے دامن میں ایک پتھریلا مجسمہ آخری فوجی کی روانگی کی علامت ہے، جو اس تنازع کے خاتمے کی نشاندہی کرتا ہے جس میں 15 ہزار سوویت فوجی مارے گئے۔

بغیر چہروں کے مجسمے

میوزیم کے اندر، ہرات یونیورسٹی کے شعبۂ فنون کے ماہرین کی تیار کردہ اشیا عام شہریوں کی تکالیف اور آزادی کی جدوجہد کو اجاگر کرتی ہے۔

یہاں پلستر سے بنے مجسمے ہیں جن میں خواتین سوویت نواز سرکاری افواج پر پتھر پھینک رہی ہیں یا زخمی مجاہدین کی تیمارداری کر رہی ہیں، جبکہ ایک عورت ایک مرد کو رائفل تھما رہی ہے۔
ایک نوعمر لڑکا غلیل ہاتھ میں لیے دکھائی دیتا ہے، جبکہ تسبیح تھامے مجاہدین ایک سوویت ٹینک پر قابو پا رہے ہیں، اور کانٹے دار اوزار تھامے کسان سوویت فوجیوں کا سامنا کر رہے ہیں۔

جب یہ میوزیم 2010 میں کھولا گیا تھا اور اس کے بعد کئی برسوں تک ان خواتین اور مردوں کے مجسموں پر چہرے موجود تھے۔
لیکن آج ان کے منہ، ناک اور آنکھیں کاٹ دی گئی ہیں، جبکہ مردوں کی داڑھیاں اور بال برقرار رکھے گئے ہیں۔ جانوروں کے سروں کو بھی پلستر کی ایک تہہ سے ڈھانپ دیا گیا ہے۔
طالبان حکومت، جس نے 2021 میں دوسری مرتبہ اقتدار سنبھالا، اسلامی قانون کی سخت تشریح کے تحت جانداروں کی تصاویر اور مجسموں پر پابندی عائد کر چکی ہے۔

وزارتِ امر بالمعروف و نہی عن المنکرنے 2024 میں کہا تھا کہ اس قانون کا بتدریج نفاذ پورے ملک میں کیا جانا چاہیے۔
یہ واضح نہیں ہو سکا کہ میوزیم میں یہ تبدیلیاں کب کی گئیں، کیونکہ عملے نے اس بارے میں تبصرہ کرنے سے انکار کر دیا۔
سعدالدین نے کہا، ’اب یہ چیزیں کم ذاتی محسوس ہوتی ہیں اور ہمیں پہلے کی طرح متاثر نہیں کرتیں۔

تاہم ان کے خیال میں یہ پھر بھی کچھ نہ ہونے سے بہتر ہے: ’یہ اچھی بات ہے کہ میوزیم موجود ہے۔

 ہیروز ہال کا خاتمہ

میوزیم کا باغ اب بھی جنگ کی باقیات سے بھرا ہوا ہے جہاں سوویت لڑاکا طیارہ، ہیلی کاپٹر، ٹینک، بھاری توپ خانے کے حصے اور فوجی گاڑیاں موجود ہیں۔

تاہم تصاویر کے تقابل سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ گیلری، جسے اصل میں ہال آف فیم کے طور قائم کیا گیا تھا، اب ختم کر دی گئی ہے۔
اس گیلری میں کبھی مجاہدین کمانڈروں کی بڑی بڑی تصاویر آویزاں تھیں، جنہوں نے بعد ازاں ایک دوسرے کے خلاف خانہ جنگی لڑی، جس کے نتیجے میں 1996 میں طالبان اقتدار میں آئے۔

ان میں احمد شاہ مسعود بھی شامل تھے، جنہوں نے طالبان کے خلاف جنگ لڑی اور 2001 میں طالبان کی حکومت کے خاتمے سے چند ہفتے قبل مارے گئے۔
میوزیم میں فیملیز  بھی نظر نہیں آتی کیونکہ بہت کم استثناؤں کے ساتھ خواتین کو اندر آنے کی اجازت نہیں دی جاتی۔
ایک وزیٹر نے شناخت ظاہر نہ کرنے کی شرط پر اے ایف پی کو بتایا، ’اگر پورے خاندان آ سکیں تو بہتر ہو گا، کیونکہ یہ ہماری تاریخ کا ایک نہایت اہم حصہ ہے۔

میوزیم کے نمایاں ملازمین میں سے ایک، جو شیخ عبداللہ کے نام سے جانے جاتے تھے، اب وہاں نظر نہیں آتے۔
وہ افغانستان ایک سوویت افسر بخریالدین خاکیموف کے نام سے آئے تھے اور 1985 میں سر پر شدید زخم لگنے کے بعد مجاہدین نے ان کا علاج کیا اور ان کی جان بچائی۔
2022 میں ان کے انتقال پر طالبان حکومت کے ترجمان نے ان کی زندگی کی کہانی کو اجاگر کیا اور تعزیت پیش کی۔ اب وہ اپنی خواہش کے مطابق میوزیم کے اوپر کی بلندیوں پر پھولوں سے سجی ایک قبر میں آسودۂ خاک ہیں۔

شیئر: