پڑوسی ملک افغانستان کی سرحد سے داخل ہونے والے چار ’دہشت گردوں‘ پر قابو پا لیا: تاجکستان
پڑوسی ملک افغانستان کی سرحد سے داخل ہونے والے چار ’دہشت گردوں‘ پر قابو پا لیا: تاجکستان
اتوار 18 جنوری 2026 17:51
تاجکستان کو داعش کے ارکان کی افغانستان میں موجودگی پر تشویش ہے۔ فائل فوٹو: اے ایف پی
تاجکستان میں حکام نے کہا ہے کہ پڑوسی ملک افغانستان کی سرحد سے داخل ہونے والے چار ’دہشت گردوں‘ پر قابو پا لیا ہے۔
خبر رساں ایجنسی اے ایف پی کے مطابق اتوار کو ایک بیان میں وسطی ایشیائی ملک نے کہا ہے کہ چار ’دہشت گردوں‘ کو ’بے اثر‘ کیا جو افغانستان سے تاجکستان کے ایسے علاقے میں داخل ہوئے جہاں حالیہ ہفتوں میں مہلک واقعات میں اضافہ ہو رہا ہے۔
تاجکستان وسطی ایشیا کی وہ ریاست ہے جس کی افغانستان کے ساتھ پہاڑی علاقوں پر مشتمل سرحد ہے اور حالیہ کچھ عرصے میں کابل کے طالبان حکام کے ساتھ اس کے تعلقات کشیدہ ہیں۔
سرکاری خبر رساں ایجنسی کھوار نے تاجک سکیورٹی سروسز کے حوالے سے بتایا ہے کہ ’چار دہشت گردوں نے جنوبی ختلون کے علاقے میں ہتھیار ڈالنے سے انکار کیا جس کے بعد انہیں نیوٹرائلائزڈ کر دیا گیا۔‘
تاجک حکام نے نومبر سے لے کر اب تک پہاڑی سرحدی علاقے میں کم از کم پانچ ہلاکت خیز واقعات کی تصدیق کی ہے۔ دونوں ملکوں کے درمیان سرحد تقریباً 1,350 کلومیٹر لمبی ہے۔
اے ایف پی نے سرکاری اعداد و شمار کے حوالے سے بتایا ہے کہ تاجکستان میں حالیہ دہشت گردی کے واقعات میں مجموعی طور پر 16 افراد ہلاک ہوئے۔
مارے جانے والوں میں تاجک سرحدی محافظ، چینی کارکن اور ایسے افراد بھی شامل ہیں جن کو تاجکستان ’سمگلرز‘ اور ’دہشت گرد‘ قرار دیتا ہے۔
نومبر میں چینی شہریوں پر حملوں کے بعد تاجک حکام نے طالبان کی حکومت پر زور دیا تھا کہ وہ سرحدی علاقے کو عدم استحکام سے بچانے کے لیے اقدامات کرے جہاں منشیات کے سمگلر اور اسلام پسند عسکریت پسند سرگرم ہیں۔
دیگر وسطی ایشیائی ریاستوں کے رہنماؤں کے برعکس جو طالبان حکومت کے ساتھ تعلقات مضبوط کر رہے ہیں، تاجکستان کے صدر امام علی رحمان، جو سنہ 1992 سے اقتدار میں ہیں، کھل کر افغانستان کے حکام پر تنقید کرتے ہیں۔
تاجکستان میں حالیہ دہشت گردی کے واقعات میں مجموعی طور پر 16 افراد ہلاک ہوئے۔ فائل فوٹو: اے ایف پی
تاجکستان کو جہادی تنظیم اسلامک سٹیٹ یا داعش کے ارکان کی افغانستان میں موجودگی پر بھی تشویش ہے۔
صدر امام علی رحمان نے طالبان حکومت پر زور دیا ہے کہ وہ تاجک نسل سے تعلق رکھنے والے افراد کے حقوق کا احترام کرے۔ ایک اندازے کے مطابق تاجک نسل کے افراد افغانستان کی آبادی کا ایک چوتھائی ہیں۔
لیکن تاجکستان بجلی کی فراہمی، سرحدی علاقوں میں بازاروں کے کھولنے اور دونوں ملکوں کے سرحد کے اطراف آباد مقامی رہنماؤں کے درمیان ملاقاتوں کے ذریعے کابل کے ساتھ تعاون کی جانب بھی قدم اٹھا رہا ہے۔