Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

کابل کے ہوٹل میں دھماکہ، ایک چینی باشندے سمیت چھ افراد ہلاک

اطالوی این جی او ’ایمرجنسی‘ نے بتایا کہ اس کے قریبی ہسپتال میں ’سات افراد مردہ حالت میں لائے گئے۔ (فوٹو: اے ایف پی)

افغانستان کے دارالحکومت کابل کے انتہائی سکیورٹی والے وسطی علاقے میں پیر کو ہونے والے دھماکے کے نتیجے میں کم از کم سات افراد ہلاک اور ایک درجن سے زائد زخمی ہو گئے ہیں۔
خبر رساں ادارے اے ایف پی کا کہنا ہے کہ کابل میں ہسپتال چلانے والی ایک غیر سرکاری تنظیم (این جی او) کے مطابق ان کے ہسپتال میں لاشوں کو لایا گیا۔
اے ایف پی کے ایک صحافی نے شہرِ نو کے علاقے میں واقع اس سڑک پر دھماکے کے بعد امدادی اداروں کے اہلکاروں کو موقع پر دیکھا۔
کابل پولیس کے ترجمان خالد زدران نے کہا کہ ’دھماکہ ایک ہوٹل میں ہوا‘ تاہم اس کی وجہ کی تفصیل نہیں بتائی۔
انہوں نے ایوب نامی ایک چینی مسلمان شہری سمیت سات افراد کی ہلاکت کی تصدیق کی۔

اطالوی این جی او ’ایمرجنسی‘ نے بتایا کہ اس کے قریبی ہسپتال میں ’سات افراد مردہ حالت میں لائے گئے‘، جبکہ 13 دیگر کو شعبۂ جراحی میں داخل کیا گیا۔
این جی او کے کنٹری ہیڈ ڈیجان پینک نے ایک بیان میں کہا کہ ’زخمیوں میں چار خواتین اور ایک بچہ شامل ہیں۔‘
پھولوں کی دکان کے مالک نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ دھماکہ تقریباً سہ پہر 3:30 بجے اس کی دکان سے سڑک کے دوسرے سرے پر ہوا۔
انہوں نے اے ایف پی کو بتایا کہ انہوں نے گنجان علاقے میں ایک زور دار دھماکے کی آواز سنی۔
’یہ ایک ہنگامی صورتحال تھی۔ ہر کوئی اپنی جان کے خوف میں مبتلا تھا۔‘ ’میں نے کم از کم پانچ زخمیوں کو دیکھا۔‘
اس علاقے میں متعدد ریسٹورنٹس بھی موجود ہیں، جسے پولیس اہلکاروں نے گھیرے میں لے رکھا تھا۔
اس سے قبل چین کی سرکاری خبر رساں ایجنسی شنہوا نیوز نے ریسٹورنٹ کے ایک ملازم کے حوالے سے بتایا ہے کہ  دھماکے میں دو چینی شہری شدید زخمی ہیں۔
شنہوا نیوز نے مزید بتایا کہ ایک افغان سکیورٹی گارڈ ہلاک ہوا اور ریسٹورنٹ کو شدید نقصان پہنچا۔

شیئر: