کیا ’ایزی پیسہ‘ نے اضافی اور نئے سروس چارجز عائد کیے ہیں، حقیقت کیا ہے؟
منگل 11 اگست 2026 16:36
صالح سفیر عباسی، اسلام آباد
پاکستان کے مشہور ڈیجیٹل والٹ اور برانچ لیس بینکنگ پلیٹ فارمز میں سے ایک ’ایزی پیسہ‘ نے اضافی اور نئے سروس چارجز عائد کرنے کے بارے میں اطلاعات کو مکمل طور پر گمراہ کن قرار دیا ہے۔
ایزی پیسہ انتظامیہ نے سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی ان خبروں کو مکمل طور پر بے بنیاد قرار دیتے ہوئے بتایا ہے کہ صارفین کی بنیادی سہولیات پر کسی قسم کے کوئی ڈھکے چُھپے انداز میں اضافی چارجز عائد نہیں کیے گئے۔
کمپنی کی جانب سے جاری کردہ وضاحتی بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ ایزی پیسہ اکاؤنٹس کے درمیان رقم کی منتقلی اور ’راست‘ پلیٹ فارم کا استعمال بدستور مفت ہے۔
تاہم یہاں یہ دیکھنا بھی ضروری ہے کہ سوشل میڈیا پر کن اضافی ٹیکسوں کے دعوے کیے جا رہے ہیں اور ایزی پیسہ کا موجودہ شیڈول آف چارجز اصل میں کیا ہے؟
سوشل میڈیا اور عوامی حلقوں میں تشویش کی بنیادی وجہ ایپ کے اندر موجود ’ایڈ فنڈز‘ فیچر کو سمجھا جا رہا ہے، جہاں ایزی پیسہ ایپ کے ذریعے لنکڈ بینک اکاؤنٹ سے رقم والٹ میں لانے پر 2 فیصد اور ڈیبٹ یا کریڈٹ کارڈ استعمال کرنے پر 3 فیصد سروس فیس لاگو ہوتی ہے۔
اس کے برعکس، اگر صارف اپنے کسی دوسرے بینک کی آفیشل ایپ کے ذریعے ایزی پیسہ والٹ میں رقم منتقل کرے تو وہ اب بھی مفت ہے۔
ایزی پیسہ کے باضابطہ ’شیڈول آف چارجز‘ کے مطابق دیگر بینکوں میں رقم کی منتقلی (آئی بی ایف ٹی) کے لیے ماہانہ 25 ہزار روپے تک کی حد مفت رکھی گئی ہے، تاہم اس حد سے تجاوز کرنے پر 0.1 فیصد یا زیادہ سے زیادہ 200 روپے تک کی فیس لاگو ہوتی ہے۔
علاوہ ازیں دیگر خدمات کے تحت سادے فونز سے *786# استعمال کرنے پر فی ٹرانزیکشن ایک روپیہ پلیٹ فارم فیس، جبکہ اے ٹی ایم سے رقم نکلوانے پر 18.75 سے 23.44 روپے تک کی کٹوتی ہوتی ہے۔
کمپنی پالیسی کے مطابق ویزہ یا پے پاک کے ڈیبٹ کارڈ کا اجراء ایک ہزار روپے، یونین پے کارڈ 999 روپے اور ورچوئل کارڈ 500 روپے میں کیا جاتا ہے۔
اسی طرح، ایپ سے بائیومیٹرک تصدیق کی فیس 99 روپے اور آسان ڈیجیٹل اکاؤنٹ میں تبدیلی کے 75 روپے مقرر ہیں۔
ایپ سے بلز کی ادائیگی اور ریچارج بدستور مفت ہیں، تاہم ’ایزی کیش‘ قرض کی بروقت عدم ادائیگی پر پانچ فیصد (زیادہ سے زیادہ 800 روپے) تاخیری فیس لاگو کی جاتی ہے۔
صارفین پر اضافی چارجز لاگو نہیں کیے گئے، ایزی پیسہ کے وضاحتی بیان میں کیا ہے؟
سوشل میڈیا پر عام رقم کی منتقلی پر اضافی ٹیکس اور نئی فیسیں عائد کرنے سے متعلق خبروں کے بعد ایزی پیسہ نے اپنا موقف باضابطہ طور پر جاری کرتے ہوئے ان تمام خبروں کو بے بنیاد قرار دیا ہے۔
کمپنی کی جانب سے جاری بیان کے مطابق ایزی پیسہ سے ایزی پیسہ رقم منتقل کرنا اور حکومت کے ’راست‘ نیٹ ورک کا استعمال پہلے کی طرح اب بھی بالکل مفت ہے اور اس پر کوئی اضافی چارجز لاگو نہیں کیے گئے۔
بیان میں مزید وضاحت کی گئی کہ تمام تر فیسیں سٹیٹ بینک آف پاکستان کی ہدایات اور باضابطہ منظور شدہ ’شیڈول آف چارجز‘ کے مطابق ہی وصول کی جاتی ہیں جن میں حالیہ عرصے میں اچانک کوئی تبدیلی نہیں کی گئی۔
کمپنی نے صارفین پر زور دیا ہے کہ وہ غیر تصدیق شدہ سوشل میڈیا اطلاعات پر کان دھرنے کے بجائے صرف آفیشل ویب سائٹ پر شائع کردہ معلومات پر اعتماد کریں۔
دوسری جانب مالیاتی امور کے ماہرین کے مطابق ڈیجیٹل والٹس کی جانب سے مخصوص سروسز پر فیس عائد کرنے کا مقصد صارفین کو بلا ضرورت یا متبادل طریقوں کے غیر متوازن استعمال سے روکنا ہے، تاہم شفافیت قائم رکھنا کمپنی کی ذمہ داری ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ جب تک بنیادی خدمات جیسے ایزی پیسہ سے ایزی پیسہ منتقلی اور ’راست‘ نیٹ ورک مفت دستیاب ہیں، عام صارفین کا بڑا طبقہ اس سے متاثر نہیں ہوگا۔
تاہم وہ سمجھتے ہیں کہ کمپنیوں کو چارجز میں کسی بھی قسم کی تبدیلی یا حد بندی سے متعلق صارفین کو بروقت اور واضح طور پر آگاہ کرنا چاہیے تاکہ غیر یقینی صورتِ حال سے بچا جا سکے۔
