بلوچستان شدید سردی کی لپیٹ میں، برف باری سے ٹریفک کا نظام درہم برہم
بلوچستان شدید سردی کی لپیٹ میں، برف باری سے ٹریفک کا نظام درہم برہم
جمعہ 23 جنوری 2026 13:51
زین الدین احمد -اردو نیوز، کوئٹہ
بلوچستان شدید برفباری کے بعد سرد ہواؤں اور یخ بستہ موسم کی زد میں ہے جس کے باعث صوبے بھر میں معمولات زندگی بری طرح متاثر ہوئے ہیں۔ مختلف شاہراہوں پر برف جمنے اور پھسلن کے باعث درجنوں گاڑیاں اور سینکڑوں مسافر کئی گھنٹوں تک پھنسے رہے، جنہیں بعد میں ریسکیو کر کے محفوظ مقامات تک پہنچایا گیا۔
کوئٹہ سے اندرون بلوچستان کے مختلف اضلاع کے علاوہ پنجاب اور خیبرپختونخوا کا سفر کرنے والے شہریوں کو بھی سخت مشکلات کا سامنا ہے۔
صوبے کے کئی علاقوں میں گزشتہ روز دو انچ سے لے کر ایک فٹ سے زائد تک برفباری ہوئی۔
برفباری رک چکی ہے، تاہم شدید سردی اور یخ بستہ ہواؤں کا سلسلہ جاری ہے۔ محکمہ موسمیات کے مطابق جمعے کو بالائی اور شمالی اضلاع میں موسم انتہائی سرد اور خشک رہا۔ قلات میں درجہ حرارت منفی 12 ڈگری تک گر گیا، جبکہ زیادہ سے زیادہ درجہ حرارت بھی بدستور منفی 4 ریکارڈ ہوا۔ زیارت میں منفی 11، کوئٹہ شہر میں منفی 7.5، سمنگلی میں منفی 7، سریاب میں منفی 6 اور بروری میں منفی 7.7 ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ کیا گیا۔ ژوب اور دالبندین میں بھی درجہ حرارت منفی ڈھائی ڈگری تک گر گیا۔
این 50 ہائی وے پر خانوزئی، کان مہترزئی اور مسلم باغ کے مقامات پر ٹریفک کی روانی شدید متاثر ہے۔ یہ شاہراہ کوئٹہ کو پنجاب اور خیبرپختونخوا سے ملانے کا مرکزی زمینی رابطہ ہے۔ مقامی انتظامیہ کے مطابق کان مہترزئی سطح سمندر سے 7300 فٹ کی بلندی پر واقع ہے جہاں دن کے وقت بھی درجہ حرارت منفی دس ڈگری سے نیچے رہا جبکہ 40 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے تیز جھکڑ چلتے رہے۔ اسی وجہ سے سڑک سے برف ہٹانے کے باوجود ٹریفک بحالی میں مشکلات پیش آرہی ہیں۔
اسسٹنٹ کمشنر مسلم باغ دھیرج کالرا نے اردو نیوز کو بتایا کہ کان مہترزئی اور مسلم باغ میں ایک فٹ سے زائد برف جمع ہے اور تیز جھکڑ کے باعث نمک پاشی کے باوجود برف دوبارہ جم جاتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ شدید پھسلن کے سبب بڑی گاڑیاں پھنس گئی ہیں جس نے باقی ٹریفک کو بھی بلاک کردیا ہے اور درجنوں چھوٹی گاڑیاں اور مسافر بسیں پھنس گئیں ۔ انہوں نے بتایا کہصورتحال قابو میں ہے پھنسے ہوئی گاڑیوں اور کئی مسافروں کو جلد نکال لیا جائے گا۔
کوئٹہ شہر بھی شدید سردی کی لپیٹ میں ہے جہاں لوگوں نے گھروں سے نکلنا محدود کردیا ہے (فوٹو: اے ایف پی)
ان کے مطابق مسلم باغ کے مقام پر کوئٹہ کی جانب آنے والی بھاری گاڑیوں کو روک دیا گیا ہے جبکہ چھوٹی گاڑیوں کو احتیاط کے ساتھ گزرنے کی اجازت ہے۔ دوسری جانب پشین کے علاقے خانوزئی میں بھی بھاری گاڑیوں کو روک کر ٹریفک کو منظم کیا جا رہا ہے۔
گزشتہ شب کان مہترزئی اور مسلم باغ کے درمیان مختلف مقامات پر پھنسے ہوئے درجنوں مسافروں کو پی ڈی ایم اے، نیشنل ہائی وے اتھارٹی اور ضلعی انتظامیہ نے مشترکہ کارروائی میں ریسکیو کیا اور انہیں محفوظ مقام تک منتقل کر دیا۔ زیارت کے لوڑی ٹاپ پر بھی اسی نوعیت کی صورتحال رہی جہاں پھسلن کے باعث کوئٹہ کو زیارت سے ملانےو الی شاہراہ پر کنٹینر اور بلڈوزر پھنس جانے سے ٹریفک کئی گھنٹوں تک معطل رہی اور تقریباً 70 افراد شدید سردی میں محصور رہے۔
اسی طرح مستونگ کے کنڈ میسوری کے مقام پر بھی تین مسافر گاڑیاں برف میں پھنس گئی تھیں جن میں سوار 40 افراد کو نکال لیا گیا۔
مستونگ ، لکپاس، کھڈکوچہ، منگچر، قلات اور سوراب کے مقامات پر بھی سڑک پر پھسلن کی وجہ سے کوئٹہ اور کراچی کے درمیان چلنے والی ٹریفک انتہائی سست روی کا شکار ہے۔ دس سے بارہ گھنٹوں کا سفر طے کرنے میں اٹھارہ سے بیس گھنٹے لگ رہے ہیں۔
کوئٹہ شہر بھی شدید سردی کی لپیٹ میں ہے جہاں لوگوں نے گھروں سے نکلنا محدود کردیا ہے۔ شہر میں سڑکوں پر ٹریفک بھی معمول سے کم رہی جبکہ صبح کے وقت چھتوں، نالیوں اور سڑکوں پر جمی برف نے مشکلات میں اضافہ کیا۔ پائپ لائنوں میں پانی جمنے کی وجہ سے پانی کی فراہمی متاثر رہی۔ لوگ گیس پریشر میں شدید کمی اور دس گھنٹے سے زائد بجلی کی بندش کی بھی شکایات کر رہے ہیں جس کی وجہ سے شہری لکڑیاں اور دیگر متبادل ذرائع استعمال کرنے پر مجبور ہیں۔
پشین کے علاقے خانوزئی اور آس پاس کے علاقوں میں علی الصبح شدید سردی کے باعث پائپ لائنیں جم گئیں (فوٹو: اے ایف پی)
پشین، توبہ کاکڑی، چمن، قلعہ عبداللہ، توبہ اچکزئی، گلستان، قلعہ سیف اللہ، مسلم باغ، لوئی بند، قلات، ہربوئی، مستونگ اور منگچر سمیت پہاڑی اور نواحی علاقوں میں بھی زندگی مفلوج ہے اور کئی رابطہ سڑکیں تاحال بند ہیں جنہیں کھولنے کا کام جاری ہے۔
پشین کے علاقے خانوزئی اور آس پاس کے علاقوں میں علی الصبح شدید سردی کے باعث پائپ لائنیں جم گئیں اور سڑکوں پر برف جمنے سے ٹریفک متاثر ہوا۔ اسسٹنٹ کمشنر کاریزات امیر حمزہ کے مطابق خانوزئی میں جمعہ کی علی الصبح کم سے کم درجہ حرارت منفی 11 رہا جبکہ سردی کا احساس منفی 20 جیسا ہو رہا تھا۔
محکمہ موسمیات کے مطابق کوئٹہ، زیارت، چمن، پشین، قلعہ عبداللہ، قلعہ سیف اللہ، نوشکی، مستونگ اور قلات سمیت بالائی اضلاع میں رات کے وقت درجہ حرارت منفی 4 سے منفی 6 ڈگری تک رہنے کا امکان ہے اور صبح کے وقت سردی کی شدت میں مزید اضافہ ہوگا۔ واشک، خاران، پنجگور اور کیچ میں گرد آلود ہوائیں چلنے کا امکان ہے, جبکہ سنیچر کو بھی صوبے کے بیشتر علاقوں میں موسم سرد اور خشک رہنے کی پیشگوئی کی گئی ہے تاہم ساحلی اضلاع میں موسم قدرے معتدل رہے گا۔
محکمہ موسمیات کے مطابق گزشتہ 24 گھنٹوں میں کوئٹہ، ژوب، بارکھان، اوتھل، لورالائی، چمن اور قلات میں بارش اور برفباری ریکارڈ ہوئی۔ قلات میں 1.6 انچ اور کوئٹہ شہر و بروری میں 1.2 انچ برفباری ہوئی جبکہ قلات میں 27 ملی میٹر بارش بھی ریکارڈ کی گئی۔