Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

سودبیز کی نیلامی، سعودی فنکارہ صفیہ بن زقر کی پینٹنگ ریکارڈ قیمت میں فروخت

یہ پینٹنگ سودبیز کی سعودی عرب میں دوسری نیلامی ’اوریجنز ٹو‘ کا حصہ تھی (فوٹو: عرب نیوز)
سعودی فنکارہ صفیہ بن زقر کی ایک پینٹنگ ریاض میں سودبیز کی’اوریجنز ٹو‘ کی نیلامی میں دو اعشاریہ ایک ملین ڈالر میں فروخت ہوئی، جو شام کے سب سے مہنگے آئٹم کے طور پر ابھری اور ایک سعودی فنکار کے لیے نیلامی کا نیا ریکارڈ قائم کیا۔
یہ فن پارہ،’ کافی شاپ اِن مدینہ روڈ‘ (1968)، خریدار کی اضافی فیس سے پہلے ایک اعشاریہ 65 ملین ڈالر میں فروخت ہوا یعنی وہ اضافی فیس جو خریدار ’ہیمر پرائس‘ کے اوپر آکشن ہاؤس کو ادا کرتا ہے۔
سنیچر کو یہ نتیجہ تقریباً پچھلے ریکارڈ سے دوگنا تھا اور سعودی عرب میں اب تک نیلامی میں فروخت ہونے والا سب سے قیمتی فن پارہ بن گیا۔ یہ عرب فنکار کے لیے نیلامی میں حاصل ہونے والی تیسری سب سے زیادہ قیمت بھی ہے۔
یہ پینٹنگ سودبیز کی سعودی عرب میں دوسری نیلامی ’اوریجنز ٹو‘ کا حصہ تھی، جس میں 62 جدید اور کنٹیمپرری فن پارے شامل تھے اور سعودی فنکاروں کے ساتھ خطے اور دنیا کے دیگر فنکاروں کا کام بھی پیش کیا گیا۔
نیلامی میں 40 سے زیادہ ممالک کے کلیکٹرز نے حصہ لیا، اور تقریباً ایک تہائی فن پارے سعودی عرب کے خریداروں کو فروخت ہوئے۔

نیلامی کی کل فروخت 19 اعشاریہ چھ ملین ڈالر رہی، جو پیشگی اندازے سے زیادہ تھی، اور ’اوریجنز‘ اور ’اوریجنز ٹو‘ میں پیش کیے گئے تمام فن پاروں کی مجموعی قیمت 32 ملین  ڈالر سے تجاوز کر گئی۔
اس شام کے نتائج میں سعودی فنکاروں کا مرکزی کردار تھا۔ پیش کیے گئے تمام نو سعودی فن پاروں کو خریدار مل گئے، ان کی مجموعی فروخت چار اعشاریہ تین  ملین ڈالر رہی جو پیشگی اندازوں سے کہیں زیادہ تھی۔
سودیز کے مشرق وسطیٰ کے کنٹیمپرری آرٹ کے سربراہ اشکان باغستانی نے عرب نیوز کو بتایا کہ ’صفیہ کے آرٹ نے آج رات سب سے زیادہ کمائی کی جو واقعی حیرت انگیز ہے۔‘

باغستانی نے مزید کہا کہ ’سعودی جدید فنکار اب مارکیٹ میں اپنی پہچان بنا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ’دلچسپی اور طلب بہت زیادہ ہے اور قیمت بھی اپنی جگہ پر ہے۔‘
اس نیلامی میں پابلو پیکاسو، رائے لائٹن سٹائن، اینڈی وارول اور انیش کپور کے فن پارے شامل تھے جس کا مطلب ہے کہ سعودی عرب اب بڑے آرٹ کے ایونٹس اور کلیکٹرز کے لیے اہم مقام بن رہا ہے۔

 

شیئر: