لاہور میں بسنت کی تیاریاں، ’شکر کیا کہ پابندی ختم ہوئی‘
لاہور میں بسنت کی تیاریاں، ’شکر کیا کہ پابندی ختم ہوئی‘
منگل 20 جنوری 2026 6:37
رائے شاہنواز -اردو نیوز، لاہور
لاہور کے علاقے چاہ میراں کی گنجان آبادی میں اس گھر کو ہنگامی بنیادوں پر رہائش کے قابل بنایا گیا ہے۔ ابھی اس کی دیواروں پر کیا گیا چُونا بھی خشک نہیں ہوا۔ اس گھر کے گراؤنڈ فلور کے دونوں کمروں میں پتنگ سازی کا سازوسامان اور ڈھیر سا رے گُڈے بکھر پڑے ہیں۔
کچھ افراد عجلت میں کیے گئے بندوبست کے تحت تیزی سے مزید گُڈے بنانے میں مصروف ہیں۔ اس چھوٹی سی ’پتنگ فیکٹری‘ کے ہیڈ کاریگر غفور حسین ہیں جو چند روز قبل اپنی فیملی کے ساتھ اس گھر میں مقیم ہوئے ہیں۔
فن پتنگ سازی کے ماہر غفور حسین بتاتے ہیں کہ ’میں نے 21 سال بعد دوبارہ پتنگ بنانا شروع کیا ہے تو اس بات کی خوشی ہی بہت ہے۔ یہ وہ کام ہے جو میرے باپ دادا نے کیا۔ ہمیں صرف یہی کام آتا ہے۔ جب سے پابندی تھی میں نے کئی کاروبار شروع کیے، ٹھیلہ تک لگایا تاکہ پیٹ کی آگ بجائی جا سکے لیکن کوئی کام راس نہیں آیا۔‘
انہوں نے کہا کہ ’ہم نے شکر کیا ہے کہ یہ پابندی ختم ہوئی ہے۔ میں ملتان سے اپنے بیوی بچوں کے ساتھ آیا ہوں۔ ہم سب ہی کاریگر ہیں۔ میرے بیٹے، بیٹیاں اور زوجہ سب کو یہ کام آتا ہے۔ میں نے چار لائسنس بنوائے ہیں اور روزانہ 500 گُڈے تیار کر رہے ہیں۔‘
بسنت قریب، وقت کم اور دام زیادہ
پتنگ بازی کی صنعت سے وابستہ افراد حکومت کی جانب سے لائسنس ملنے کے بعد انتہائی تیز رفتاری سے چھ فروری کو ہونے والی بسنت میں پتنگ اور ڈور مہیا کرنے کے لیے جُتے ہیں۔ تاہم عرصہ دراز سے بند اس صنعت کے لیے نئے سرے سے ہر چیز شروع کرنے کے لیے ان کے پاس وقت انتہائی کم ہے۔
غفور حسین نے کہا کہ ’ہم بڑی مشکل سے کچھ سامان اکھٹا کرنے میں کامیاب ہوئے ہیں۔ گُڈی کاغذ تو لاہور سے مل گیا ہے لیکن بانس جو برما سے برآمد ہوتا ہے، اس کو کراچی سے خرید کر لاہور آنے میں وقت لگا ہے۔ بسنت کی اجازت سے پہلے کم از کم تین مہینے چاہیے تھے جس میں ضرورت کے مطابق سازوسامان اور تیاری ہو سکتی تھی۔ ابھی تو بہت کم وقت ہے۔ دیکھیں کیا ہوتا ہے۔‘
لاہور کی ضلعی انتظامیہ نے ایک آن لائن پورٹل کے ذریعے پتنگ سازوں کی درخواستیں لی ہیں جن پر لائسنس جاری کیے ہیں۔ تاہم پتنگ سازوں کا کہنا ہے کہ ایک مہینے سے بھی کم وقت میں لاکھوں کی تعداد میں گُڈی اور پتنگ مہیا کرنا ناممکن ہے جبکہ مارکیٹ میں خام مال بھی نہ ہونے کے برابر ہے کیونکہ اس صنعت سے وابستہ ہر چیز پر ہی پابندی تھی۔
لاہور کی ضلعی حکومت تیزی کے ساتھ بسنت کی تیاریوں میں مصروف ہے (فوٹو: اے ایف پی)
سیف کائیٹ فلائنگ ایسوسی ایشن پنجاب کے سرپرست اعلٰی استاد جاوید بھٹی جو خود بھی پتنگ سازی کے ماہر ہیں، بتاتے ہیں کہ ’اس کم وقت کی وجہ سے بسنت پر گُڈا اور ڈور ملنا نایاب ہو گا۔ کیونکہ حکومت نے بلاوجہ تاخیر کی ہے۔ سب سے کم قیمت گُڈا 200 روپے کا ملے گا۔ جبکہ ڈور تو شروع ہی سات ہزار روپے سے ہو رہی ہے کیونکہ مارکیٹ میں دھاگہ مہنگا ہو گیا ہے۔ اسی طرح بانس جو ساڑھے چھ ہزار روپے کا تھا اب وہ 24 ہزار کا ہو گیا ہے۔ اچانک اجازت دیے جانے سے سپلائی اور ڈیمانڈ کا سسٹم خراب ہو گیا ہے۔ اس لیے غریب لوگوں کے لیے یہ خوشی منانا مشکل ہو گا۔‘
دوسری طرف حکومت نے گُڈے اور پتنگ میں طلب اور رسد کے معاملات اور قیمتوں میں کسی بھی قسم کی دخل اندازی نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ ضلعی حکومت کے افسر نے اردو نیوز کو بتایا کہ کم وقت کی وجہ سے صورتحال سمجھ میں آتی ہے اس لیے حکومت ان چیزوں میں ابھی تک دخل اندازی نہ دینے کا ارادہ رکھتی ہے۔
بسنت کی تیاریاں
دوسری طرف لاہور کی ضلعی حکومت تیزی کے ساتھ بسنت کی تیاریوں میں مصروف ہے۔ شہر کو کئی زونز میں تبدیل کیا گیا ہے۔ ریڈ زون میں سکیورٹی اور پابندیاں انتہائی سخت ہوں گی جبکہ بلیو زون میں قدرے کم اور گرین زون میں سرگرمیوں کی اجازت ہو گی۔
اندرون لاہور میں گھروں کی چھتوں کو کرائے پر دینے کا کام ابھی سے شروع ہو چکا ہے (فوٹو: اے ایف پی)
ضلعی حکومت اس بات کا ارادہ بھی رکھتی ہے کہ موٹرسائیکل کی سواری کی حوصلہ شکنی کے لیے تین دن تک شہر میں رکشوں پر سواری بالکل مفت ہو گی۔ حکام کے مطابق اس حوالے آن لائن ٹیکسی سروسز کمپنیوں سے مذاکرات ہو رہے ہیں۔ اسی طرح شہر کی شاہراؤں کو مختلف تھیم کے ساتھ سجایا جائے گا۔ جبکہ 6 فروری سے 8 فروری تک مقامی چھٹی بھی زیر غور ہے۔
پنجاب حکومت کی جانب سے مختلف سفارتکاروں کے لیے لاہور کے شاہی قلعہ میں بسنت منانے کے انتظامات کیے جا رہے ہیں، جبکہ وزیر اعلیٰ پنجاب مرکزی تقریب کی مہمان خصوصی ہوں گی۔ اندرون لاہور میں گھروں کی چھتوں کو کرائے پر دینے کا کام ابھی سے شروع ہو چکا ہے۔ لوگ اپنے پسندیدہ علاقوں میں بسنت منانے کے لیے گھروں کی چھتیں کرایے پر لے رہے ہیں۔