’پتنگوں پر مذہبی اور سیاسی تصاویر لگانے پر پابندی‘، بسنت پر دفعہ 144 نافذ
’پتنگوں پر مذہبی اور سیاسی تصاویر لگانے پر پابندی‘، بسنت پر دفعہ 144 نافذ
منگل 27 جنوری 2026 12:43
پنجاب حکومت کا کہنا ہے کہ اقدام کا مقصد بسنت پر اشتعال انگیزی روکنا ہے (فائل فوٹو: اے ایف پی)
پنجاب حکومت نے بسنت کے موقع پر اشتعال انگیزی روکنے کے لیے دفعہ 144 نافذ کر دی ہے۔
منگل کو پنجاب حکومت کے ترجمان کی جانب سے جاری کیے گئے اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ بسنت کے دوران مذہبی ہم آہنگی اور امنِ عامہ برقرار رکھنے کے لیے اہم پابندیاں عائد کی جا رہی ہیں۔
بیان کے مطابق ’پتنگوں پر مقدس کتب، مذہبی مقامات یا کسی شخصیت کی تصویر لگانے پر مکمل پابندی عائد کر دی گئی ہے۔ اسی طرح کسی ملک یا سیاسی جماعت کے جھنڈے کی تصویر والی پتنگوں پر بھی پابندی ہو گی۔‘
بیان کے مطابق ’30 روز کے لیے مذہبی و سیاسی نقش و نگار والی پتنگوں کی تیاری، خرید و فروخت اور استعمال پر دفعہ 144 کے تحت پابندی ہو گی۔‘
یہ بھی بتایا گیا ہے کہ لاہور میں بسنت کے دوران بغیر تصویر یک رنگی یا کثیر رنگی گڈیاں اور پتنگیں استعمال کرنے کی اجازت ہو گی۔
بیان میں خلافِ قانون پتنگوں کی تیاری، نقل و حمل، ذخیرہ، فروخت اور استعمال کرنے کو قابلِ تعزیر جرم قرار دیا گیا ہے۔
پنجاب حکومت نے اقدام کی وجہ یہ بتائی ہے کہ اشتعال انگیز عناصر کی جانب سے بسنت کے دوران مذہبی یا سیاسی علامات استعمال کیے جانے کا اندیشہ تھا۔
صوبائی حکومت کا یہ بھی کہنا ہے کہ دفعہ 144 کے تحت احکامات فوری نافذ العمل ہوں گے اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کو سخت کارروائی کی ہدایت کر دی گئی ہے۔
پنجاب کائٹ فلائنگ ایکٹ 2025 کے تحت دھاتی تار، نائیلون یا شیشے سے لیپ شدہ ڈور کے استعمال پر مکمل پابندی ہے (فوٹو: اے ایف ی)
خیال رہے حکومتِ پنجاب نے کئی برسوں کے بعد لاہور میں چھ تا آٹھ فروری کو محفوظ بسنت کی مشروط اجازت دی ہے۔
اس حوالے سے ڈپٹی کمشنر لاہور نے پنجاب کائٹ فلائنگ ایکٹ 2025 کے تحت بسنت 2026 کا نوٹیفیکیشن جاری کیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ محفوظ بسنت کی اجازت ایک تفریحی تہوار کے طور پر دی گئی ہے اور کسی قسم کی قانون شکنی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
پنجاب کائٹ فلائنگ ایکٹ 2025 کے تحت دھاتی تار، نائیلون یا شیشے سے لیپ شدہ ڈور کے استعمال پر مکمل پابندی ہے۔
مقررہ تاریخوں سے قبل پتنگ بازی پر پانچ سال قید اور 20 لاکھ روپے تک جرمانے کی سزا ہو سکتی ہے۔
اسی طرح ممنوعہ مواد کی تیاری یا فروخت میں ملوث افراد کو سات سال قید اور 50 لاکھ روپے تک جرمانہ ہو سکتا ہے۔