ریاض کی ایک پرجوش رات جب گٹار کی دھنیں فضا میں بکھرتی ہیں تو وہ ایسے ہجوم کو اپنی جانب کھینچتی ہیں جنہیں ہر دھن دل سے یاد ہے۔
سعودی عرب کے انڈرگراؤنڈ میٹل سین کے فینز کے لیے ڈیون کی واپسی ایک ’کم بیک‘ نہیں بلکہ ایک ایسی کہانی کا تسلسل ہے جو کبھی ختم ہی نہیں ہوئی تھی۔
عرب نیوز کے مطابق سنہ 2004 میں بننے والا یہ بینڈ اُن سعودی میٹل بینڈز میں سے ایک تھا جس نے خاموشی سے فین فالوونگ حاصل کی اور پھر مںظر عام سے غائب ہوگیا۔
مزید پڑھیں
ڈیون بینڈ کے بیسسٹ اور بیکنگ ووکلسٹ ممدوح طویلی کہتے ہیں کہ ’ڈیون 2004 کے دوران بنا اور سعودی میٹل موومنٹ کے عروج کے دوران چلا۔ ہم ریاض کے پہلے بینڈز میں سے ایک تھے۔‘
سنہ 2007 میں مملکت کے انڈرگراؤنڈ بینڈز کی طرح یہ بینڈ بھی ختم ہوگیا تھا تاہم 2021 میں ڈیون کی واپسی ہوئی اور اب ایک نئے مقصد کے ساتھ واپس آیا ہے۔
آج بینڈ میں چار تجربہ کار موسیقار شامل ہیں جن میں ووکلسٹ سمیر نخلہ، گٹارسٹ امجد مفتی، بیسسٹ ممدوح طویلی اور ڈرمر باسل الزیند شامل ہیں۔
ان کی موسیقی تھریش میٹل پر مبنی ہے لیکن اس میں پینترا اور سلیئر سے لے کر کورن تک اور پھر ٹیسٹامنٹ سے میٹیلیکا تک کا اثر شامل ہے۔
ان کی موسیقی میں غصے اور جوش کا ملاپ نظر آتا ہے جبکہ نئی طرز کی موسیقی بھی شامل ہوتی ہے جس سے بینڈ کے اراکین کے مختلف میوزک بیک گراؤنڈ کا علم ہوتا ہے۔

طویلی کہتے ہیں کہ ’جب ہم بڑے ہو رہے تھے تو ہم نے یہ بینڈ موسیقی کے لیے اپنے پیار سے متاثر ہو کر بنایا تھا۔ جب ہم بچے تھے تو ہم کچھ ایسا بنانا چاہتے تھے جس سے سننے والے ہماری سوچ کو سمجھ سکیں اور لائیو گانے سے کسی چیز کا مقابلہ نہیں ہو سکتا۔‘
سعودی عرب کے میٹل اور راک سِین کی ترقی کے بعد آڈینس سے جڑنا اب آسان ہوتا جا رہا ہے۔ کئی برسوں تک چھپے رہنے والے بینڈ اب دوبارہ سے منظر عام پر آ رہے ہیں اور جوش کے ساتھ نیا کام ہو رہا ہے۔
طویلی مزید کہتے ہیں کہ ’سعودی میٹل اور راک سِین تیزی سے ابھر رہا ہے۔ شائقین بہت وفادار ہیں اور نہایت تعاون کرنے والے ہیں۔ پرانے بینڈ واپس آ رہے ہیں۔ نئے بینڈ بن رہے ہیں۔‘
ابھی بھی بینڈ کے لیے مشکلات موجود ہیں جن میں وینیوز اور ریہرسل کے لیے جگہ ڈھونڈنا ایک بڑا کھٹن مرحلہ ہے۔
کئی شہروں میں آپشن بھی محدود ہیں اور معاشی مسائل مختلف ہو سکتے ہیں۔
اس کے باوجود مواقعے مل رہے ہیں۔ ڈیون نے بڑے ایونٹس میں پرفارم کیا ہے جن میں ایم ڈی ایل بِیسٹ سینڈ سٹورم شامل ہے جبکہ یہ بینڈ ریاض انفیرنو فیسٹ اور ڈیزرٹ راک فیسٹ میں بھی پرفارم کر چکا ہے۔

بینڈ ہیوی عریبیہ کی اہمیت کو بھی جانتا ہے جس نے مقامی گلوکاروں کو لائیو شوز، فیچرز اور تعلیمی سیشنز کے ذریعے سپورٹ کیا۔
انہوں نے مزید کہا کہ ’جو سپورٹ ہمیں ملی ہے وہ بہت شاندار ہے۔ اس سے ہمیں آگے جانے کی ہمت ملی ہے۔‘
بینڈ کی اہمیت اب مملکت سے باہر بھی جا رہی ہے۔ ڈیون کے البم ’ایئرز آف چینز‘ نے میٹل ہیز نو بارڈرز نامی عالمی پلیٹ فارم سے چاندی کا ایوارڈ جیتا۔ یہ ایوارڈ بین الاقوامی فینز کی جانب سے ووٹنگ کے ذریعے دیا گیا۔
میوزک کے علاوہ ڈیون کی شناخت طویلی کی جانب سے ڈیزائن کیے گئے بینڈ آرٹ ورک، مرچینڈائز اور ویڈیو کانٹینٹ سے بھی ہوتی ہے۔
ڈیجیٹل آرٹ میں ان کا بیک گراؤنڈ ہونے جبکہ کومک کون، گیمرز ڈے اور اِنسومنیا جیسے ایونٹس کے تجربے سے بھی وہ بینڈ کی خوبصورتی میں اضافہ کرتے رہتے ہیں۔
سعودی بینڈ ہونے کے ناطے وہ اپنی موسیقی میں عربی دھنوں کو بھی شامل کرتے ہیں۔

طویلی اس بارے میں کہتے ہیں کہ ’ہم کبھی کبھار اپنے میوزک میں اوریئنٹل عریبین سکیل شامل کرتے ہیں اور ہم ایسی تھیمز کو ڈھونڈتے ہیں جو ہمارے تجربات کی عکاسی کر سکیں۔‘
کئی بینڈز کی طرح ڈیون بھی اپنے اخراجات خود اٹھاتا ہے جس میں موسیقی کے سازوسامان سے لے کر ریکارڈنگ سیشن اور مرچنڈائز پروڈکشن بھی شامل ہیں۔
لائیو پرفارمنس سے آنے والے پیسے سے وہ اپنے اخراجات پورے کرتے ہیں جس میں مستقبل میں ریلیز ہونے والے میوزک کے لیے آمدن محفوظ رکھنا بھی شامل ہے۔
یہ بینڈ منافع حاصل کرنے کے بجائے مستقل مزاجی پر مبنی ہے۔
بڑے ہجوم کے سامنے پرفارم کرتے ہوئے ڈیون نے یہ بات ثابت کر دی ہے کہ سعودی میٹل اب گمنام نہیں بلکہ اس کے نئے باب کا آغاز ہو چکا ہے۔











