لاہور میں بسنت، پتنگ کا سائز کیا ہو گا اور کون سی ڈور استعمال ہو گی؟
لاہور میں بسنت، پتنگ کا سائز کیا ہو گا اور کون سی ڈور استعمال ہو گی؟
جمعہ 23 جنوری 2026 16:30
رائے شاہنواز -اردو نیوز، لاہور
پاکستان کے صوبہ پنجاب کی وزیراعلیٰ مریم نواز شریف نے تین روزہ بسنت فیسٹیول کی منظوری دے دی ہے۔
جمعے کو لاہور بسنت کے حوالے سے ایک اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ’پنجاب کے عوام کو خوشیاں لوٹانے آئی ہوں جن سے خوشی کا ماحول چھین کر لڑائی جھگڑوں اور فتنہ فساد کے سپرد کر دیا گیا۔‘
ان کہنا تھا کہ 6 - 7 اور 8 فروری کو پہلی مرتبہ گورنمنٹ سپانسرڈ اور آرگنائزڈ بسنت منانے جارہے ہیں۔ شہریوں کی حفاظت کے لیے جامع سیفٹی پلان بنایا گیا۔
وزیراعلیٰ نے کہا کہ ’پتنگ بازی کے لیے 35 انچ پتنگ اور 40 انچ کا گڈا استعمال کیا جا سکے گا۔ مقررہ ساز سے بڑا پتنگ اور گڈا بھی اڑانے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ بسنت پر ستھرا پنجاب کے ورکروں کے علاوہ چار ہزار پولیس اہلکار بھی ڈیوٹی کریں گے۔‘
انہوں نے کہا کہ’بسنت کے دوران ڈور کی چرخی منع ہے، صرف پنا استعمال کیا جا سکتا ہے۔ پتنگ بازی کے لیے کاٹن کے نو دھاگوں پر مشتمل ڈور ہی استعمال کی جا سکے گی۔‘
’نائیلون اوردھاتی تار کی ڈور استعمال کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔‘
پنجاب حکومت کے بسنت کے فیصلے کے بعد لاہور میں ایک نئی طرح کی صورت حال کا سامنا ہے۔ گنجان آباد علاقوں میں لوگوں نے بسنت سے پہلے ہی پتنگ بازی شروع کر دی ہے۔
پچھلے ایک ہفتے میں دو افرار ڈور سے زخمی بھی ہوئے ہیں جن کا علاج معالجہ خود حکومت برداشت کر رہی ہے۔ دوسری طرف بسنت کے ایونٹ کو کامیاب بنانے اور کسی بھی حادثے کے پیش نظر غیرمعمولی قسم کے اقدمات کیے جا رہے ہیں۔ ان دونوں لاہور کی فضا میں سیف سٹی اتھارٹی کے ڈرون کیمرے فضائی نگرانی کر رہے ہیں اور ایسے لوگوں کو مقدمات درج کر کے گرفتار کیا جا رہا ہے جو بسنت سے پہلے ہی پتنگ بازی شروع کر چکے ہیں۔
صرف یہی نہیں بلکہ پتنگ اور ڈور کی تیاری میں بھی اگر آپ کے پاس لائسنس نہیں ہے تو پھر آپ مشکل میں ہیں۔ پولیس نے لاہور شہر اور اطراف میں غیرقانونی ڈور اور پتنگوں کا کاروبار کرنے والے درجنوں افراد کو حراست میں لے لیا۔ شہر میں ایک طرح سے چوہے بلی کا کھیل جاری ہے۔
جمعرات کو لاہور پولیس نے تمام ٹرانسپورٹرز مالکان کے ساتھ ایک طویل نشست کی ہے۔ اور یہ فیصلہ کیا گیا ہے کہ دوسرے شہروں اور صوبوں سے گڈے اور ڈور لاہور میں پبلک ٹرانسپورٹ کے ذریعے سمگل نہیں ہونے دیے جائیں گے۔
حکومت کی ’کنٹرولڈ‘ بسنت پالیسی کی وجہ سے شہر میں پتنگ اور ڈور کے ریٹ آسمانوں سے باتیں کر رہے ہیں (فوٹو: اے ایف پی)
ڈی آئی جی آپریشن فیصل کامران کہتے ہیں کہ ’یہ صرف اس لیے کیا گیا ہے کہ بسنت کے لیے جو قانونی حدیں مقرر کی گئی ہیں ان پر سختی سے عمل درآمد کروایا جائے۔ اور قانونی حد یہ ہے کہ صرف اور صرف وہی لوگ یہ کاروبار کرنے کے مزاج ہیں جنہوں نے ضلعی حکومت سے اجازت نامے لے رکھے ہیں۔ وہ اجازت نامے بھی مشروط ہیں اور اس میں گڈے اور ڈور کے اجازت شدہ سائز اور نوعیت واضح کی گئی ہے۔ اور یہ اجازت نامے صرف لاہور کی حدود کے لیے ہیں، اس لیے باہر گڈا یا پتنگ لانا غیرقانونی ہے اور اس بات پر سختی سے عمل کروا رہے ہیں۔‘
ان کا کہنا تھا کہ ’لوگوں کو یہ بھی غلط فہمی ہے کہ شاید حکومت نے بسنت کی اجازت دے دی ہے تو اس کا مطلب ہے کہ اب کسی بھی وقت پتنگ بازی کی جا سکتی ہے۔ ایسا ہر گز نہیں ہے۔ بسنت کی اجازت صرف اور صرف 6 فروری سے 8 فروری تک تین دن کے لیے ہے اس کے علاوہ کسی بھی قسم کی پتنگ بازی مکمل طور پر غیرقانونی ہے اور اس کے ساتھ سخت سے نمٹا جا رہا ہے۔‘
پتنگ اور ڈور نایاب
حکومت کی ’کنٹرولڈ‘ بسنت پالیسی کی وجہ سے شہر میں پتنگ اور ڈور کے ریٹ آسمانوں سے باتیں کر رہے ہیں۔ لوگ ڈور اور گڈے حاصل کرنے کے لیے بڑی بڑی سفارشوں کا راستہ اپنا رہے ہیں۔
لائسنس یافتہ تاجر محمد علی بتاتے ہیں کہ ’حکومت کی پالیسی سمجھ سے باہر ہے کیوںکہ اگر لوگوں کو گڈے اور پتنگ ہی نہیں ملیں گے جو کہ ابھی سے نایاب ہیں تو بسنت کس چیز کی؟ لاہور کی حدود تک جو لائسنس دیے گئے ہیں وہ تو شہر کے ایک ٹاؤن کی کھپت کو پورا نہیں کر سکتے پوری آبادی کے لئے گُڈوں کا انتظام تو اور بات ہے۔‘
شہر میں ڈور پتنگ کی خرید وفروخت یکم فروری سے قانونی طور پر شروع ہو جائے گی (فوٹو: اے ایف پی)
’اس لیے حکومت کو چاہیے کہ باہر سے مال آنے دے لیکن اس کا چیک اینڈ بیلنس کیا جائے اور جن سائز کی منظوری دی گئی ہے صرف وہ اور بھی لائسنس یافتہ تاجروں کے ذریعے تاکہ کیو آر کوڈ بھی لگ سکے۔ اگر حکومت صرف سختی سے کام لے گی تو پھر یہ ایونٹ اس بار صرف امیر لوگوں کا ہی ہو گا جو ڈور گڈا افورڈ کر سکیں گے۔‘
خیال رہے کہ اب تک لاہور کی ضلعی انتظامیہ نے تقریباً 700 مینوفیکچرز جبکہ ایک ہزار سے زائد سیلرز اور اڑھائی سو کے قریب تاجروں کو لائسنس جاری کر دیے ہیں۔ جبکہ شہر میں ڈور پتنگ کی خرید وفروخت یکم فروری سے قانونی طور پر شروع ہو جائے گی جو کہ 8 فروری تک جاری رہے گی۔ تاہم خریداری کے باوجود پتنگ اڑانا 6 فروری تک غیرقانونی عمل ہو گا۔‘
دوسری طرف ضلعی حکومت بڑے پیمانے پر اس ایونٹ کو کامیاب بنانے کے لیے اقدامات کر رہی ہے۔ شہر بھر میں تین دن کے لیے پبلک ٹرانسپورٹ فری چلائی جائے گی۔ پنجاب حکومت نے مفت ٹرانسپورٹ چلانے کے لیے صوبے بھر سے 600 سے زائد یونیورسٹیز اور کالجز کی بسیں طلب کر لی ہیں۔
ترجمان ضلعی حکومت کا کہنا ہے کہ بسنت کے تین دنوں میں حکومت موٹر سائیکل چلانے کی حوصلہ شکنی کرے گی اور اس کے متبادل بڑی تعداد میں مفت پبلک ٹرانسپورٹ مہیا کی جائے گی۔