Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

اٹک: خودکش بمبار کو روکنے والے ریلوے ملازم کو ’والدہ نے پانی کی بوتل دے کر گھر سے رخصت کیا تھا‘

سورج ڈھلنے لگا تھا۔ نوید علی چارپائی گھسیٹ کر صحن میں لا رہے تھے تاکہ کچھ دیر سستانے کے لیے بیٹھ سکیں۔
اندر کمرے میں ان کی ضعیف والدہ موجود تھیں۔ اسی دوران لیاقت علی ڈیوٹی سے واپس آنے کے بعد دوبارہ گھر سے نکلنے لگے۔ انہوں نے دروازے کی طرف بڑھتے ہی آواز دی ’امی! ایک بوتل پانی دے دیں، میں مویشی لے کر باہر جا رہا ہوں۔‘
والدہ نے اپنی پوتی کو آواز دے کر پانی کی بوتل منگوائی۔ لیاقت علی نے پانی کی بوتل ہاتھ میں لی، چادر کندھے پر رکھی اور روانہ ہوا۔ یہ روزمرہ کا منظر تھا۔ کچھ ہی وقت گزرا تھا کہ قریب سے لیاقت علی کی اونچی آواز سنائی دی۔ وہ کسی اجنبی سے پوچھ رہے تھے ’کون ہو؟ کیا کر رہے ہو؟‘
نوید علی گھر سے باہر نکلے تو دیکھا کہ ان کا بھائی ایک نامعلوم شخص کے سامنے کھڑا ہے۔ چند قدم چلنے کے بعد ایک زوردار دھماکے کی آواز آئی اور سب کچھ تھم سا گیا۔
لیاقت علی کا تعلق پنجاب کے ضلع اٹک کی تحصیل جنڈ سے تھا۔ وہ ریلوے میں 17 برس سے ملازمت کر رہے تھے۔ ان کے بھائی نوید علی نے جب اپنے بھائی کو اجنبی شخص کے سامنے کھڑا دیکھا تو وہ ان کے پاس روانہ ہوئے۔ اتنے میں ان کے دوسرے بھائی بھی آگئے۔
نوید علی نے اردو نیوز کو اس دن ہونے والے واقعے سے قبل کی روداد سناتے ہوئے کہا ’وہ اس دن اپنی شفٹ مکمل کر کے گھر آئے تھے۔ ہم سب اکٹھے رہتے ہیں۔ گھر آ کر فریش ہوئے پھر مال مویشی لے کر نکل گئے۔ جاتے ہوئے والدہ سے کہا کہ پانی کی بوتل دے دیں۔‘
ان کے مطابق کچھ دیر بعد انہیں اپنے بھائی کی آواز سنائی دی۔ ’وہ کسی شخص سے بار بار پوچھ رہے تھے کہ کون ہو؟ کیا کر رہے ہو؟ میں گھر سے نکلا تو دیکھا کہ بھائی ایک انجان شخص کے ساتھ بات کر رہے ہیں۔ ہم بھی ان کی طرف چل پڑے۔‘
نوید علی کے مطابق لیاقت علی کو اس شخص پر اس لیے شک ہوا کیونکہ وہ مقامی نہیں لگ رہا تھا۔ ’بھائی نے اس سے نام پوچھا۔ پہلے وہ خاموش رہا۔ پھر بھائی نے اونچی آواز میں کہا کہ شناختی کارڈ دکھاؤ۔ اس شخص نے جواب دیا کہ اسے پنجابی سمجھ نہیں آتی۔ پھر اس نے الٹا کہا کہ تم اپنا کارڈ دکھاؤ۔‘

لیاقت علی کوہاٹ بابری بانڈہ اور جنڈ تحصیل کے درمیان برانچ لائن سیکشن میں بطور گینگ میٹ تعینات تھے (فوٹو: مرید ایکسپریس، فیس بک)

نوید علی یہ سارا منظر دیکھتے ہی اپنے بھائی کی طرف روانہ ہوئے۔
وہ کہتے ہیں کہ اسی دوران صورتحال اچانک بدل گئی ’میرے بھائی نے اپنا شناختی کارڈ نکالنے کے لیے جیب میں ہاتھ ڈالا ہی تھا کہ اس خودکش بمبار نے خود کو اڑا دیا۔ دھماکہ اتنا بڑا تھا کہ پہلے تو ہم ساکت رہ گئے۔ پھر بھائی کی طرف دوڑے لیکن وہاں کچھ سمجھ نہیں آ رہا تھا۔ ہر طرف انسانی اعضاء بکھرے ہوئے تھے۔‘
یہ خودکش بمبار خودکش جیکٹ پہنے منکور چیک پوسٹ کی طرف جا رہے تھے لیکن جونہی لیاقت علی کو اس پر شک گزرا تو انہوں نے ان سے نام پوچھا جس کے بعد تکرار ہوئی اور اس دوران خودکش بمبار نے خود کو اڑا دیا۔
ریلوے حکام نے اردو نیوز کو تفصیلات سے آگاہ کرتے ہوئے بتایا کہ لیاقت علی کوہاٹ بابری بانڈہ اور جنڈ تحصیل کے درمیان برانچ لائن سیکشن میں بطور گینگ میٹ تعینات تھے۔ بابری بانڈہ کے قریب خوشحال گڑھ پل واقع ہے جہاں منکور چیک پوسٹ قائم ہے۔
حکام کے مطابق ’لیاقت علی تین بجے ڈیوٹی مکمل کر کے گھر گئے تھے۔ ان کی اس دن کی حاضری بھی لگی ہوئی ہے۔ انہوں نے اپنی ڈیوٹی مکمل کی پھر گھر واپس آئے جس کے بعد میں یہ واقعہ پیش آ گیا جس میں لیاقت علی شہید ہو گئے۔‘
منکور چیک پوسٹ کے قریب ہونے والا یہ دھماکہ اس قدر زوردار تھا کہ آس پاس کے لوگ خوفزدہ ہو کر گھروں سے نکل آئے۔ جب گرد بیٹھی تو معلوم ہوا کہ ریلوے کے گینگ میٹ لیاقت علی ایک خودکش بمبار کو روکنے کی کوشش کرتے ہوئے جان کی بازی ہار گئے ہیں۔
لیاقت علی کے بھائی نوید علی نے مزید بتایا ’44 سالہ لیاقت علی ریلوے میں گزشتہ 17 برس سے ملازم تھے جبکہ آٹھ ماہ قبل انہیں گینگ میٹ بنایا گیا تھا۔‘

لیاقت علی کے اہلِ خانہ میں اہلیہ، دو بیٹے اور ایک بیٹی شامل ہیں (فوٹو: راولپنڈی پولیس)

ان کے مطابق ان کے والد بھی ریلوے میں ملازم تھے۔ اپنے خاندان سے متعلق نوید علی بتاتے ہیں ’میرا بھائی دلیر انسان تھا۔ ہم چار بھائی تھے اب ایک بھائی شہید ہو گیا۔ ایک بہن ہے۔ ہمارے والد بھی ریلوے میں ملازم تھے۔ انہوں نے اپنی سروس مکمل کی تھی۔‘
لیاقت علی کے اہلِ خانہ میں اہلیہ، دو بیٹے اور ایک بیٹی شامل ہیں۔ بڑے بیٹے کی عمر 17 سال ہے اور وہ میٹرک مکمل کر چکے ہیں۔ بیٹی 13 برس کی ہے جبکہ چھوٹا بیٹا 10 سال کا ہے اور پانچویں جماعت میں زیر تعلیم ہے۔
نوید علی کہتے ہیں کہ لوگوں کی بڑی تعداد تعزیت کے لیے آ رہی ہے۔
ان کے بقول ’میں اس وقت اپنے بھائی کی قبر کے پاس کھڑا ہوں۔ سوچتا ہوں شاید میں دوڑ کر جاتا تو بھائی کو بچا لیتا لیکن یہ اللہ کی طرف سے طے تھا۔ اللہ نے میرے بھائی کو شہادت دی۔ ہم سب نے اپنی آنکھوں سے دیکھا کہ انہوں نے اپنی جان قربان کر کے چیک پوسٹ پر موجود اہلکاروں کو بچایا۔‘
ان کے مطابق لیاقت کی اہلیہ کسی حد تک خود کو سنبھال رہی ہیں کیونکہ وہ صورتحال کو سمجھ رہی ہیں لیکن ہماری والدہ نڈھال ہیں۔ وہ ضعیف ہیں اور لیاقت سے بہت زیادہ پیار کرتی تھیں۔ صبح سے ان کی طبیعت ٹھیک نہیں۔

نوید علی کہتے ہیں کہ لوگوں کی بڑی تعداد تعزیت کے لیے آ رہی ہے (فوٹو: مرید ایکسپریس، فیس بک)

حکام کے مطابق وفاقی وزیرِ ریلوے نے ریلوے قواعد کے تحت ان کے اہل خانہ کے لیے امدادی پیکج منظور کیا ہے۔
ریلوے حکام نے اردو نیوز کو بتایا ’ڈویژنل سپرنٹنڈنٹ اور ڈی پی او اٹک کو ہدایت کی گئی ہے کہ فوری طور پر اہل خانہ کو 80 لاکھ روپے کا چیک فراہم کیا جائے۔ اس کے علاوہ بچوں کو ملازمت، تعلیم اور علاج معالجے کی سہولیات بھی پاکستان ریلوے فراہم کرے گا۔‘
وفاقی وزیر ریلوے محمد حنیف عباسی نے اپنے بیان میں کہا کہ ’یہ واقعہ ریاستی اداروں کے ملازمین کی قربانی، فرض شناسی اور دہشت گردی کے خلاف غیرمتزلزل عزم کی روشن مثال ہے۔ لیاقت علی نے ثابت کیا کہ پاکستان کے سپوت اپنی ڈیوٹی کو ہر چیز پر مقدم رکھتے ہیں۔‘
وفاقی وزیرِ ریلوے نے لیاقت علی کی قربانی کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے ان کے لیے ’ستارۂ شجاعت‘ کی سفارش کی ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ ’لیاقت شہید نے اپنی جان قربان کر کے متعدد قیمتی جانوں کو بچایا اور بہادری کی نئی مثال قائم کی۔ پوری قوم کو ان کی جرات اور فرض شناسی پر فخر ہے۔‘

شیئر: