Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

سنیکر کون جدہ: ٹرمپ کے دستخط کردہ جوتے جن کی قمیت ایک لاکھ 80 ہزار ڈالر

سینکڑوں ’سنیکر ہیڈز‘ نے رواں ہفتے کھیلوں کے نایاب جوتوں کا مجموعہ دیکھنے کے لیے جدہ کورنیش سرکٹ کا رخ کیا جہاں ’سنیکرز کون‘ کی تین روزہ نمائش ہوئی۔
ریاض میں دوسرے کامیاب ایونٹ کے بعد، جدہ میں پہلی دفعہ ’دنیا کی سب سے بڑی سنیکر نمائش‘ نے ہر عمر کے سنیکر کے شوقین افراد کو اکٹھا کیا، جو نئے اور نایاب جوتے خریدنے، بیچنے اور تبادلہ کرنے کے لیے آئے، ان میں ایئر جورڈنز سے لے کر ییزیز تک شامل تھے۔
تین دن تک، جدہ کے 100 مقامی سنیکر وینڈرز اور فلوریڈا، ہیوسٹن، سان انتونیو، اوہائیو، میکسیکو اور پورٹو ریکو جیسے دور دراز علاقوں سے وینڈرز نے اپنے جوتوں کا کلیکشن پیش کیا، جن میں 1980 کی دہائی سے لے کر آج کے جدید ماڈلز شامل تھے۔
فلوریڈا کے فیئر ٹاؤن سنیکرز کے مالک جے سٹیولا اور ڈیوڈ گریلز نے اس نمائش میں کچھ نایاب جوتے پیش کیے۔
سٹیولا نے کہا کہ ’ہم بہت سارے سنیکرز پیش کر رہے ہیں لیکن جو سب سے نایاب ہے وہ ٹمبرلینڈ جوتا ہے جو جمی چو اور سوارووسکی کے تعاون سے تیار کیا گیا تھا۔ اس کے دنیا بھر میں صرف 50 جوڑے تھے۔‘
ایک اور جوڑا سوارووسکی نے ایفون ریسر لیوی ہیملٹن کے لیے بنایا تھا۔ سٹیولا نے عرب نیوز کو بتایا کہ ہر جوڑے کی قیمت 15 ہزار  ڈالر تھی۔
پورٹو ریکو کے مشہور سنیکر انفلوئینسر اور ری سیلر، خورخے اینڈریئس نے فروری 2024 میں ڈونلڈ ٹرمپ برانڈڈ گولڈ ہائی ٹاپ سنیکرز کا نایاب ’فرینڈز اینڈ فیملی‘ جوڑا حاصل کیا جسے وہ اس وقت سنیکر کون جدہ میں پیش کر رہے ہیں۔

صدر ٹرمپ کے دستخط کردہ جوتے لوگوں کی توجہ کا مرکز تھے (فوٹو: عرب نیوز)

وہ ان چھ نوجوانوں میں سے ایک تھے جنہیں صدر سے ملاقات کرنے کا موقع ملا، اس کے علاوہ انہیں ایک دستخط شدہ جوتا بھی ملا۔
سنہری رنگ کے ’نیور سرینڈر ہائی ٹاپس‘ جن پر امریکی پرچم کی تفصیل ہے، کی قیمت ایک لاکھ 80 ہزار ڈالر ہے۔ انہوں نے عرب نیوز کو بتایا کہ ریاض ایونٹ کے بعد انہیں کئی آفرز ہو چکی ہیں۔
اوہائیو کے اینڈریو پانویلاس بھی ٹرمپ کے جوتوں کے دو جوڑے فروخت کر رہے ہیں، لیکن یہ دستخط کے بغیر ہیں اور ہر جوڑے کی قیمت ایک ہزار ڈالر ہے۔
جدہ کورنیش سرکٹ ہال کے مرکز میں، فلوریڈا کے ٹمپا سے آئے جیمز ہیلا فخر کے ساتھ سعودی روایتی لباس میں کھڑے ہیں اور برانڈڈ سنیکرز کا ایک کلیکشن فروخت کر رہے ہیں۔

بڑی تعداد میں لوگوں نے سنیکر کون کا رخ کیا (فوٹو: عرب نیوز)

انہوں نے کہا کہ ’یہاں کلچر موجود ہے اور میرے خیال میں یہ بس ایک سنیکر معیشت ہے۔ یہ سعودی عرب میں میرا دوسرا سال ہے اور مجھے یہاں بہت اچھا لگتا ہے۔‘
اس کے علاوہ دیگر کھیلوں کے جوتے بھی فروخت کیے گئے جو زیادہ اچھی قیمتوں پر دستیاب تھے، تقریباً 300 ریال سے لے کر 600 ریال تک تھے۔
38 برس کے  وائل ابو الحسن جو سات برس امریکہ میں رہ چکے ہیں، نے عرب نیوز کو بتایا کہ وہ گزشتہ 30 سال سے سنیکر کون کے بڑے مداح ہیں۔

نمائش میں جوتوں کے علاوہ کپڑوں کے برینڈز نے بھی شرکت کی (فوٹو: عرب نیوز)

ابو الحسن نے کہا کہ سنیکرز ہمیشہ ان کا شوق رہے ہیں اور وہ کئی سالوں سے انہیں جمع کر رہے ہیں۔ یونیورسٹی سے فارغ ہونے کے بعد، یہ ان کا پیشہ بن گیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ’میں یہ نایاب جوتے مختلف ایونٹس میں جا کر یا انسٹاگرام پر خریدتا ہوں۔ کبھی کبھار میں کچھ جوتے آن لائن فروخت کرتا ہوں اور کچھ آمدنی حاصل کرتا ہوں۔

شیئر: