’جب تک کافی نہ ہو، محفل سجتی ہی نہیں‘ سعودی کافی کا مخصوص ذائقہ اس کی پہچان
حدود الشمالیہ میں اس کافی کی تیاری کے لیے خاص اہتمام کیا جاتا ہے (فوٹو: ایس پی اے)
سعودی عرب کے حدود الشمالیہ میں سٹرونگ اور بلیک کافی کا نہ صرف ذائقہ اس کی پہچان ہے بلکہ یہ کافی کمیونٹی اور روزمرہ بات چیت کا ایک لازمی حصہ بن چکی ہے۔
اس کافی کی تیاری کے لیے خاص اہتمام کیا جاتا ہے جس میں، زعفران، لونگ اور الائچی دل کھول کر ڈالی جاتی ہے۔ کبھی کبھی یہ خاص کافی بناتے وقت ادرک کو بھی استعمال کیا جاتا ہے۔
اس کافی کو لکڑیوں کی آگ پر ’رکوا‘ یا کافی کی خاص کیتلی میں ابالا جاتا ہے جس سے اِس میں ایک مخصوص ذائقہ پیدا ہو جاتا ہے جو کبھی صحرا نشین عرب قبائل کے ماحول کے ساتھ مخصوص ہوا کرتا تھا۔
سعودی پریس ایجنسی کے مطابق اس کافی کو شہروں سے دور، صحرائے عرب میں لگائے جانے والے کیمپوں کے اندر رہنے والے عربوں کی محفلوں میں پیش کیا جاتا تھا۔
اس طرح کے مجمع میں نہ صرف خاندان کے لوگ شریک ہوتے بلکہ دوستوں کو بھی دعوت دی جاتی تھی جو سرد راتوں میں آگ کے گرد بیٹھتے، کافی پیتے اور گپ شپ لگایا کرتے تھے۔

محمد ابراہیم الزمام عمر رسیدہ ہو چکے ہیں اور وہ کہتے ہیں ’عربی کافی محض مہمان نوازی نہیں بلکہ ہمارے لیے اس سے بڑھ کر کچھ ہے۔ ہاتھوں میں کافی ہو تو باتیں خود بخود شروع ہو جاتی ہیں اور یہ خوش آمدید کہنے کا ایک انداز بھی ہے۔‘
وہ کہتے ہیں ’ہم نے خود فیصلہ کیا تھا کہ ہمیں کافی کی تیاری میں ماہر ہونا ہے کیونکہ اس کے ذریعے مہمانوں کو عزت و تکریم دی جاتی ہے اور یہ ہمارے ورثے کا ایک اعتراف بھی ہے۔‘
شمال میں مملکت کی میراث کے نمائندے فہد السقری کے مطابق’ یہ خاص کافی اب کمیونٹی اور کونسل کی روزمرہ سرگرمیوں کا حصہ بن چکی ہے۔ ان کے مطابق جب تک یہ کافی نہ ہو، محفلیں سجتی ہی نہیں۔‘

شمالی علاقوں کے رہائشیوں کی کوشش ہوتی ہے کہ وہ بہترین قسم کی کافی کے دانے منتخب کریں۔ تاہم ہر خاندان کا کافی کی تیاری کا طریقہ ذائقے اور رواج کے اعتبار سے مختلف ہو سکتا ہے۔
کچھ فیملیز کے پاس کافی بنانے کے طریقے نسل در نسل منتقل ہوئے ہیں جس کی کوالٹی کا معیار اس کی مہک، ذائقہ اور رنگ ہوتا ہے۔
