Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

سعودی عرب میں اقامہ و لیبر خلاف ورزیاں، ایک ہفتے میں 13 ہزار غیرملکی واپس

اقامہ، لیبر قانون کی  مزید 21 ہزار29 خلاف ورزیاں ریکارڈ کی گئی ہیں (فوٹو: ایس پی اے)
سعودی عرب میں ایک ہفتے کے دوران اقامہ، لیبر اور سرحدی قانون کی  مزید 21 ہزار29 خلاف ورزیاں ریکارڈ کی گئی ہیں جبکہ 13 ہزار 213 غیرقانونی تارکین کو ان کے ملک واپس بھیجا گیا۔
ایس پی اے کے مطابق’ 5 سے 11 فروری 2026 کے درمیان مجموعی طور پر 12 ہزار 875 افراد کو اقامہ قانون، 4 ہزار778 کوغیر قانونی سرحد عبور کرنے کی کوشش اور 3 ہزار376 کو قانون محنت کی خلاف ورزی پر حراست میں لیا گیا۔‘
’غیرقانونی طور پر مملکت میں داخل ہونے کی کوشش پر 2 ہزار307 افراد کو گرفتار کیا گیا، ان میں 52 فیصد ایتھوپین، 47 فیصد یمنی اور ایک فیصد دیگر ملکوں سے تعلق رکھتے ہیں۔
علاوہ ازیں 75 ایسے افراد کو بھی پکڑا گیا ہے جو سرحد پار کرکے مملکت سے ہمسایہ ملکوں میں داخل ہونے کی کوشش کررہے تھے۔
 سفر، رہائش، روزگار اور پناہ دینے کی کوششوں میں ملوث 29 افراد کو بھی حراست میں لیا گیا ہے۔ 
رپورٹ کے مطابق  مجموعی طور پر 23 ہزار 212 تارکین جس میں 22 ہزار 40 مرد اور ایک ہزار 272 خواتین شامل ہیں اس وقت ضوابط پر عملدرآمد کے پروسیجر سے گزر رہے ہیں۔
 ضوابط کی خلاف ورزیوں پر 16 ہزار 121 پر حراست میں لیا گیا، انہیں سفری دستاویز ات کے لیے سفارتحانوں یا قونصلیٹ سے رابطہ کرنے، دو ہزار 270 کو سفری انتظامات کرنے کی ہدایت کی گئی جبکہ 13 ہزار 213 کو ان کے ملک واپس بھیجا گیا۔

واضح رہے سعودی عرب میں غیرقانونی تارکین وطن کو سفری، رہائشی یا ملازمت کی سہولت فراہم کرنا قانوناً جرم ہے اور اس کے لیے مختلف سخت سزائیں مقرر ہیں۔ 
سعودی وزارت داخلہ کا کہنا ہے’ جو بھی شخص غیر قانونی تارکین کو سعودی عرب میں داخل ہونے کی سہولت فراہم کرے گا، اسے 15 برس قید اور 10 لاکھ  ریال تک جرمانے کے ساتھ گاڑی اور جائداد کی ضبطی کی سزا کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔‘
وزارت داخلہ کے ٹول فری نمبروں پر مملکت میں خلاف ورزیوں کی اطلاع کی جا سکتی ہے۔

 

شیئر: