سعودی عرب کا یومِ تاسیس: تین صدیوں پر محیط قومی فخر اور شناخت
ریاست کی بنیاد درعیہ میں 22 فروری 1727ء میں رکھی گئی تھی (فوٹو: ایس پی اے)
مملکتِ سعودی عرب آج 22 فروری کو 299 ویں یومِ تاسیس منا رہی ہے۔ یہ دن امام محمد بن سعود کی جانب سے پہلی سعودی ریاست کے قیام کی یاد میں منایا جاتا ہے۔
ریاست کی بنیاد درعیہ میں 1139 ہجری کے وسط (22 فروری 1727ء) میں رکھی گئی تھی۔ یہ تاریخی واقعہ اتحاد، استحکام اور مؤثر حکمرانی کی بنیاد بنا۔
سعودی پریس ایجنسی ایس پی اے کے مطابق یہ قومی موقع سعودی ریاست کی گہری تاریخی جڑوں اور تقریباً تین صدیوں سے اس کے مسلسل وجود کی عکاسی کرتا ہے۔
یہ دن قومی شناخت پر فخر اور قیادت کے ساتھ مضبوط تعلق کا اظہار بھی ہے، جس نے ریاست کی حفاظت کی، اس کے امن و استحکام کو مضبوط بنایا اور قیام سے لے کر جدید دور تک ترقی کی راہ دکھائی۔
آج یہ سفر خادم الحرمین الشریفین شاہ سلمان بن عبدالعزیز آل سعود، اور ولی عہد اور وزیرِاعظم محمد بن سلمان بن عبدالعزیز آل سعود کی قیادت میں جاری ہے۔
وسطی عرب کے استحکام کی بنیاد صدیوں پرانی ہے۔ بنی حنیفہ قبیلہ نے 430 عیسوی کے قریب وادی حنیفہ میں سکونت اختیار کی اور اپنا مرکز حجر الیمامہ میں قائم کیا۔
یہ خطہ اپنے وقت کا ایک اہم مرکز بن گیا، لیکن بعد میں یہاں عدم استحکام کے دور آئے، جب تک کہ 850 ہجری (1446 عیسوی) میں شہزادہ مانع بن ربیعہ المریدی نے درعیہ کی بنیاد نہ رکھی۔

اس کے قیام کے ساتھ ایک پھلتا پھولتا شہری اور تجارتی مرکز وجود میں آیا جو شمالی اور جنوبی عرب کو ملانے والے تجارتی راستوں کی سٹریٹیجک لوکیشن سے فائدہ اٹھاتا تھا۔
درعیہ وادی حنیفہ میں پر تعمیر کی گئی اور غصیبہ ڈسٹرکٹ شہر کا مرکز بن گیا۔
فیضہ الملعبد زرخیز زرعی علاقہ تھا، اور پانی اور قابل کاشت زمین کی دستیابی نے آبادی کے بڑھنے اور اقتصادی ترقی میں مدد دی جس سے ایک مستحکم سیاسی نظام کے قیام کا راستہ ہموار ہوا۔

سن 1139 ہجری (1727 عیسوی) میں امام محمد بن سعود نے پہلی سعودی ریاست قائم کی اور درعیہ کو دارالحکومت بنایا، جس نے خطے کے لیے ایک سیاسی اور ثقافتی سنگِ میل کا کردار ادا کیا۔
انہوں نے شہر کے ضلعے متحد کیے، داخلی امور منظم کیے، معاشرے کو مضبوط بنایا، حج اور تجارتی راستوں کی حفاظت کی، اور سمحان میں الطرفی کی طرح نئے علاقے قائم کیے۔
اس کے علاوہ، انہوں نے ریاست کے اقتصادی وسائل منظم کیے، جس سے سکیورٹی اور سیاسی استحکام مضبوط ہوا۔

اس دور میں درعیہ تعلیم، تجارت اور سماجی زندگی کا مرکز بن گیا۔علماء، طلبہ اور تاجروں نے شہر کا رخ کیا، جس سے ایک زبردست علمی ماحول قائم ہوا۔ خطاطی اور نسخہ نویسی کا ایک مدرسہ قائم ہوا، جہاں ماہر خطاط اور مصنف تیار ہوئے۔
خواتین اپنے گھروں میں علمی حلقے منعقد کرتی تھیں، جبکہ علمی محافل نے شہر کی ثقافتی زندگی کو مزید مالا مال کیا جو علم کے لیے کمیونٹی کی گہری دلچسپی کی عکاسی کرتا ہے۔
درعیہ نے پورے جزیرہ نما عرب اور اس سے باہر کے لوگوں کو خوش آمدید کہا، جس سے ایک متنوع لیکن مربوط معاشرہ قائم ہوا۔
اس کی روایتی مہمان نوازی اور معاشرے میں شمولیت نے ایک متحرک کمیونٹی کی بنیاد رکھی جو آج بھی پھلتی پھولتی ہے۔

درعیہ نے غیر معمولی شہری ترقی دیکھی ہے، اور سمحان اور البجیری جیسے علاقے شہر میں پھیل گئے۔ تقریباً 13 کلومیٹر کی دیوار کے اندر یہ شہر نمایاں تعمیراتی نشانیاں رکھتا تھا، جن میں قصر سلوىٰ اور مسجد الطريف شامل ہیں۔ قصر سلوىٰ، جو 22 سے 23 میٹر بلند ہے، جزیرہ نما عرب میں مٹی کی اینٹوں کی فن تعمیر کی مثال پیش کرتا ہے۔
تعمیر میں مٹی، سورج کی روشنی سے خشک کی گئی اینٹیں، پتھر اور کھجور کے تنے استعمال کیے گئے اور انہیں سجاوٹی عناصر سے مزین کیا گیا۔
ڈیزائن میں خاندان کی پرائیویسی اور روشنی و ہوا کے سٹریٹیجک انتظام کو ترجیح دی گئی۔ گھروں میں عموماً دو منزلیں ہوتی تھیں اور یہ کئی مقاصد کے لیے استعمال ہوتے تھے، جیسے رہائش، ذخیرہ کرنے کی جگہ اور مویشیوں کے لیے پناہ۔

کچھ مکانات میں نجی کنویں اور مہمانوں کے استقبال کے ہال بھی تھے جو ماہر کاریگروں کے زیر نگرانی ترقی یافتہ سماجی تنظیم کی عکاسی کرتے ہیں۔
ثقافتی لحاظ سے علمی حلقے اور مدارس پھلے پھولے، اور تقریباً 30 مدارس البجیری محلے میں واقع تھے۔
تعلیمی ادارے طلبہ کو رہائش اور روزی فراہم کرتے تھے۔ روایتی عوامی فنون، جیسے العرضہ اور السامری رقص سامنے آئے، جبکہ راوی کا کردار زبانی تاریخ کو محفوظ رکھنے میں اہم ہو گیا۔
سماجی یکجہتی کی ایک مثال سبالات ماضي ہے، جو امام عبدالعزیز بن محمد نے قائم کی۔ یہ دو منزلہ عمارت تاجروں، زائرین اور طلبہ کے لیے مفت رہائش فراہم کرتی تھی۔ اس میں تجارتی قافلوں کے لیے اصطبل اور ایک مسجد بھی شامل تھی جو ایک مربوط سماجی نظام کی عکاسی کرتی ہے۔

بازاروں نے ترقی کی، خاص طور پر سوق الموسم جو مسجد الطريف اور البجیری کے درمیان واقع تھا۔ یہاں کپڑے، تلواریں، زیورات اور اونٹ سمیت مختلف اشیاء فروخت ہوتی تھیں اور خواتین کے لیے ایک مخصوص بازار بھی موجود تھا۔
یہ تجارتی سرگرمی، زرعی کام اور ہنر مندی آمدنی کے ذرائع کو متنوع کرتی تھی اور زندگی کے معیار کو بہتر بناتی تھی۔ درعیہ کے قریب اونٹوں کے لیے ایک محفوظ علاقہ بھی قائم کیا گیا تاکہ گم شدہ اونٹوں کو محفوظ رکھا جا سکے اور اگر کوئی اونٹ بغیر دعویٰ کے رہ جاتا تو وہ کمیونٹی کے کام آتا تھا۔
آج درعیہ میں اہم آثار قدیمہ کے مقامات موجود ہیں جن میں غصیبہ، سمحان، البجیری اور وادی حنیفہ شامل ہیں۔ الطريف، جو یونیسکو عالمی ثقافتی ورثہ کی فہرست میں شامل ہے اور دنیا کے سب سے بڑے مٹی کی اینٹوں والے ضلعوں میں سے ایک ہے۔
یہ شہر سعودی ریاست کے قیام کے ابتدائی دور کی ایک زندہ مثال کے طور پر موجود ہے۔
ان تاریخی جڑوں کو تسلیم کرتے ہوئے، 27 جنوری 2022 کو ایک شاہی فرمان جاری کیا گیا جس کے مطابق ہر سال 22 فروری کو یومِ تاسیس منانے کا اعلان کیا گیا، تاکہ سعودی ریاست کے قیام کی یاد تازہ کی جا سکے اور تین صدیوں پر محیط اتحاد اور کامیابی کے سفر کی علامت کے طور پر یاد رکھا جائے۔
