Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

درعیہ میں ’ھل القصور‘: سعودی ریاست کی تاریخ اور قدیم قلعوں کی سیر

 درعیہ میں ’ھل القصور‘ میں شرکت کے لیے لوگ بڑی تعداد میں پہنچ رہے ہیں تاکہ چھ تاریخی قلعوں کے ذریعے سعودی ریاست کی تاریخ کو دریافت کر سکیں، جو رواں ہفتے پہلی مرتبہ عوام کے لیے کھولے گئے ہیں۔
عرب نیوز کے مطابق درعیہ میں نمائش 19 نومبر کو شروع ہوئی اور 11 فروری تک جاری رہے گی۔
یہ الطریف میں منعقد ہو رہی ہے جو ایک تاریخی ضلع اور یونیسکو عالمی ورثہ مقام ہے۔ یہ دنیا کے سب سے بڑے نجدی طرزِ تعمیر کے مطابق بنے مٹی کے علاقوں میں سے ایک ہے۔
’ھل القصور‘ میں وزیٹرز درعیہ کی تاریخ اور الطریف کے باسیوں کی طرزِ زندگی کے بارے میں جاننے کے لیے ایک معلوماتی دورہ بھی کر سکتے ہیں۔
وزیٹرز کو شاہی خاندان کے افراد کی طرزِ زندگی دیکھنے، ہر گھرانے کے اہم خصوصیات کے بارے میں جاننے اور ہر قلعے میں ایک مختصر شو دیکھنے کا موقع فراہم کیا جاتا ہے۔

یہ نمائش الطریف میں منعقد ہو رہی ہے جو یونیسکو عالمی ورثہ مقام ہے۔ (فوٹو: عرب نیوز)

نایفہ العید نے کہا کہ ’میں یہاں ایک وزیٹر کے طور پر آئی ہوں تاکہ ان کی طرز زندگی کے بارے میں جان سکیں۔‘
انہوں نے مزید کہا کہ ’یہ محل بہت خوبصورت ہیں۔۔۔ میرے بچے بہت متاثر ہیں کیونکہ یہ ان کے لیے کچھ نیا ہے اور ایک ایسی ثقافت ہے جو ان کے لیے تقریباً معدوم ہو چکی ہے۔‘
انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ ان مقامات کا تعلیمی پہلو بہت اہم ہے اور تجویز دی کہ نوجوانوں اور بین الاقوامی سیاحوں کے لیے ایسے مزید مقامات ہونے چاہییں۔

الطریف پہلے سعودی ریاست کے دوران حکمرانی، ثقافت اور کمیونٹی کا مرکز رہا۔ (فوٹو: عرب نیوز)

ایک وزیٹر ریاض میں درعیہ سیزن کی تقریبات میں شرکت کے لیے جدہ سے آیا۔
مونا الحربی نے عرب نیوز کو بتایا کہ ’میں یہاں درعیہ کے میوزیم اور تاریخی مقامات دیکھنے کے لیے آئی تھی، لیکن یہ میری توقعات سے بھی بڑھ کر ہے۔۔۔ بہت خوبصورت ہے۔‘
ھل القصور‘ درعیہ کے عروج میں حصہ ڈالنے والے لوگوں کی کہانیاں پیش کرتا ہے۔ اماموں اور شہزادوں کی روزمرہ زندگی، سماجی اور ثقافتی حالات کے بارے میں معلومات فراہم کرتا ہے۔

وزیٹرز نمائش میں دلچسپی لے رہے ہیں۔ (فوٹو: عرب نیوز)

یہ نمائش الطریف کے تاریخی کردار کو دکھاتی ہے، جہاں یہ پہلے سعودی ریاست (1727ء میں قائم) کے دوران حکمرانی، ثقافت اور کمیونٹی کا مرکز رہا، اور اسے کہانیاں اور انٹرایکٹیو تجربات کے ذریعے پیش کیا گیا ہے۔
اس مقام کو 1766ء میں امام عبدالعزیز بن محمد بن سعود نے اپنی حکومت کا مرکز منتخب کیا کیونکہ یہ وادی حنیفہ کے مغربی کنارے پر واقع ہے۔
الطریف کے چند اہم تاریخی مقامات میں صلوہ محل، سبالة موضی (جو طلبہ اور مسافروں کے لیے خیراتی مرکز تھا)، خزانچی خانہ، ایک مسجد اور ایک حمام شامل ہیں۔

قلعے پہلی مرتبہ عوام کے لیے کھولے گئے ہیں۔ (فوٹو: عرب نیوز)

یہ مقام ہر عمر کے افراد کے لیے روزانہ شام چار بجے سے نصف شب تک کھلا رہتا ہے اور ٹکٹیں درعیہ سیزن ویب سائٹ یا ویبُک کے ذریعے خریدی جا سکتی ہیں، فی شخص 40 ریال (10.67 ڈالر) کی فیس ہے۔
متعدد تاریخی مقامات کی سیر، لائیو پرفارمینسز اور خوشگوار ماحول کے ساتھ، درعیہ اس سیزن میں سیاحوں اور وزیٹر کے لیے کافی دلچسپی کے مواقع فراہم کر رہا ہے۔

 

شیئر: