پہلی سعودی ریاست میں موسم کی پیش گوئی کیسے کی جاتی تھی؟
فلکیات اور ستاروں سے رہنمائی میں گہری دلچپسی پائی جاتی تھی۔(فوٹو: ایس پی اے)
پہلی سعودی ریاست کے زمانے میں اس وقت کے معاشرے میں فلکیات اور ستاروں سے رہنمائی کے استعمال کے بارے میں گہری دلچپسی پائی جاتی تھی۔
اس دلچسپی کی اصل وجہ ان افراد میں پانی کی دستیابی اور زراعت کے لیے موسوں کی وجہ سے پیدا ہونے والی تشویش تھی۔ اس زمانے میں روز مرہ زندگی کا تعلق بہت حد تک بارش کی توقع اور موسمی تبدیلیوں سے ہوا کرتا تھا۔
چنانچہ اس کا نتیجہ یہ تھا کہ لوگ مختلف ستاروں کے طلوع اور غروب ہونے کے وقت کا حساب لگانے پر بہت توجہ دیا کرتے تھے۔
ان لوگوں کے اس معمول کا بارش برسنے، بادلوں کےامڈ کر آنے اور طوفانوں کے تلاطم برپا کرنے بارے میں پیش گوئی سے گہرا ربط تھا۔ رفتہ رفتہ اس عمل کا نام ’علم الانواء‘ پڑ گیا جو ایک طرح سے روایتی عرب موسم کی لوک داستان تھی۔
’دارہ‘ کے نام سے پہچانی جانے والی شاہ عبدالعزیز فاؤنڈیشن کے ریسرچ اور آرکائیو کے شعبے کی طرف سے سعودی عرب کے یومِ تاسیس پر شائع کی جانے والی گائیڈ سے ملنے والے تاریخی مواد میں درج ہے کہ ’اس زمانے کے لوگ آسمان کی جانب دیکھ کر ان علامتوں کو تلاش کرتے تھے جو بارش سے قبل بار بار ظاہر ہوتی تھیں اور یوں باران کے وقت کا تعین کر لیا کرتے تھے۔‘
رات کے مختلف پہروں کے دوران صحرا کی مکمل تاریکی میں، ستارے، اپنی روشنی سے رہنمائی کا کام دیتے تھے اور یہی ان افراد کے لیے وقت کی پیمائش کا ایک قابلِ انحصار ذریعہ بن گیا تھا۔
اس زمانے میں رہنے والے، رات کے وقت کے تعین اور دن میں نماز کے اوقات کے لیے بھی ستاروں کی حرکت پر انحصار کیا کرتے تھے۔ اس طرح وہ چاردیواری کے اندر پھلوں کے باغات کو پانی دینے کے اوقات کا تعین کرتے جس سے پانی کا بہتر بندوبست ہو جاتا تھا۔
ایسے ہی طریقوں کا اطلاق مذہب سے متعلق دیگر معاملات پر بھی کیا جاتا تھا جن میں رمضان المبارک کی آمد، قمری میہنے کا آغاز اور ذوالحِجہ کی ابتدا شامل ہیں۔
اس زمانے کی سعودی ریاست میں سورج کی روشنی کی بنیاد پر کام کرنے والا ایک آلہ بھی استعمال کیا جاتا تھا جس کی مدد سے دوپہر اور سہ پہر میں اوقاتِ نماز کا تعین ہوتا تھا۔
