امریکی سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد انڈیا نے ٹیرف پر تجارتی مذاکرات ’موخر‘ کر دیے
اتوار 22 فروری 2026 13:50
معاہدے کے تحت امریکی ٹیرف کو 18 فیصد تک کم کیا جانا تھا (فوٹو: اے ایف پی)
انڈیا نے رواں ہفتے واشنگٹن میں ایک تجارتی وفد بھیجنے کا منصوبہ مؤخر کر دیا ہے اور اس کی بنیادی وجہ وہ غیر یقینی صورتحال ہے جو امریکی سپریم کورٹ کی جانب سے سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی عائد کردہ ٹیرف کو کالعدم قرار دینے کے بعد پیدا ہوئی ہے۔
برطانوی خبر رساں ادرے روئٹرز نے انڈیا کی وزارتِ تجارت کے ذرائع کے حوالے سے رپورٹ کرتے ہوئے لکھا ہے کہ یہ فیصلہ ایشیائی ممالک میں سے کسی کی طرف سے سامنے آنے والا پہلا واضح ردعمل ہے۔
اس کی وجہ وہ اقدام بھی بنا جو ٹرمپ نے سنیچر کو کیا جب انہوں نے عدالت کی طرف سے ٹیرف مسترد کیے جانے کے بعد تمام ممالک سے آنے والی امریکی درآمدات پر قانون کے تحت زیادہ سے زیادہ 15 فیصد کا عارضی ٹیرف لگا دیا۔
انڈیا کی وزارتِ تجارت کے ذرائع نے کہا کہ ’دونوں ممالک کے حکام کے درمیان مشاورت کے بعد دورہ مؤخر کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔ دورے کی کوئی نئی تاریخ طے نہیں کی گئی۔‘
ذرائع نے مزید کہا کہ تاخیر کی اصل وجہ جمعے کے فیصلے کے بعد ٹیرف سے متعلق غیر یقینی صورتحال ہے۔
وفد نے اتوار کو روانہ ہونا تھا تاکہ ایک عبوری تجارتی معاہدے کو حتمی شکل دی جا سکے، کیونکہ دونوں ملک اس فریم ورک پر متفق ہو گئے تھے جس کے تحت واشنگٹن انڈیا کی روسی تیل کی خریداری سے جڑی کچھ انڈین برآمدات پر عائد 25 فیصد کے تعزیری ٹیرف کو کم کرنے پر آمادہ تھا۔
معاہدے کے تحت امریکی ٹیرف کو 18 فیصد تک کم کیا جانا تھا، جبکہ انڈیا نے توانائی کی فراہمی، طیارے اور اُن کے پرزے، قیمتی دھاتیں اور ٹیکنالوجی مصنوعات سمیت مختلف امریکی اشیا کی پانچ سال میں 500 ارب ڈالر کی خریداری کی منظوری دی تھی۔
انڈیا کی اپوزیشن جماعت کانگریس نے اس عبوری معاہدے کو روکنے کا مطالبہ کیا تھا، دوبارہ مذاکرات کی اپیل کی تھی اور وزیراعظم نریندر مودی کے عدالت کے فیصلے سے پہلے مشترکہ بیان جاری کرنے کے فیصلے پر سوال اٹھایا تھا۔
سنیچر کو انڈین وزارتِ تجارت نے کہا کہ وہ عدالتی فیصلے اور امریکہ کے بعد کے اعلانات کے اثرات کا جائزہ لے رہی ہے۔
