بلوچستان: خضدار اور بارکھان میں تعمیراتی منصوبوں پر کام کرنے والے 9 مزدور اغوا
اتوار 22 فروری 2026 10:36
زین الدین احمد، اردو نیوز، کوئٹہ
ڈپٹی کمشنر بارکھان عبداللہ کھوسہ نے واقعے کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ مغویوں کی بازیابی کے لیے کوششیں شروع کردی گئی ہیں۔ (فوٹو: اے ایف پی)
بلوچستان کے ضلع خضدار اور بارکھان میں گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران دو مختلف واقعات میں تعمیراتی منصوبوں پر کام کرنے والے 9 مزدوروں کو نامعلوم مسلح افراد نے اغوا کر لیا۔
پولیس کے مطابق سنیچر کی شام خضدار سے تقریباً 50 کلومیٹر دور مولہ کے علاقے میں زیرِ تعمیر واٹر چینل منصوبے پر کام کرنے والی ایک نجی تعمیراتی کمپنی کے کیمپ پر موٹر سائیکلوں پر سوار مسلح افراد نے دھاوا بولا۔
حملہ آوروں نے کیمپ میں موجود سرخ رنگ کی ڈبل کیبن گاڑی میں چھ مزدوروں کو زبردستی بٹھایا اور انہیں نامعلوم مقام کی جانب لے گئے۔
اغوا ہونے والوں میں پراجیکٹ منیجر گل شیر، غلام سرور، عبدالمالک بگٹی، مولانا بخش، محمد عرفان اور اختیار شامل ہیں۔ پولیس کے مطابق دو مزدوروں کا تعلق سندھ جبکہ باقی چار کا تعلق ضلع خضدار سے ہے۔
دوسری جانب بارکھان کے علاقے ڈھولا ندی کے قریب سڑک کی تعمیر پر کام کرنے والی نجی کمپنی کے کریش پلانٹ پر بھی مسلح افراد نے سنیچر کو حملہ کیا۔
پولیس کے مطابق 20 سے زائد مسلح افراد ہوائی فائرنگ کرتے ہوئے وہاں پہنچے اور تین مزدوروں کو اغوا کر کرکے قریبی پہاڑی کی طرف فرار ہو گئے۔ مغوی مزدوروں کا تعلق بارکھان سے ملحقہ بلوچستان کے ضلع موسیٰ خیل سے بتایا جا رہا ہے۔
مقامی پولیس کے مطابق حملہ آوروں نے کرش پلانٹ سے کچھ فاصلے پر قائم پولیس چوکی پر بھی حملہ کیا اور وہاں تعینات تین پولیس اہلکاروں سے اسلحہ چھین لیا۔
ڈپٹی کمشنر بارکھان عبداللہ کھوسہ نے واقعے کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ مغویوں کی بازیابی کے لیے کوششیں شروع کردی گئی ہیں۔
واضح رہے کہ بلوچستان میں تعمیراتی منصوبوں پر کام کرنے والے مقامی اور غیر مقامی مزدور اس سے قبل بھی نشانہ بنتے رہے ہیں۔ اس مہینے کے شروع میں نوشکی میں سرکاری کالج کی عمارت میں کام کرنے والے سندھ سے تعلق رکھنے والے 5 مزدوروں کو فائرنگ کرکے قتل کیا گیا
جبکہ گزشتہ سال اکتوبر میں خضدار کے علاقے نال میں سڑک کی تعمیر پر کام کرنے والے 18 مزدوروں کو اغوا کیا گیا تھا جنہیں تین ماہ بعد رہا کیا گیا۔
