Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

اسرائیل کے توسیع پسندانہ اقدامات: سعودی عرب اور دیگر ملکوں کی سخت مذمت

یہ اقدامات خطے میں امن کوششوں کو نقصان پہنچانے کے مترادف ہیں ( فوٹو: اے ایف پی)
سعودی عرب اور متعدد برادر اور دوست ملکوں کے وزرائے خارجہ،عرب لیگ اور اسلامی تعاون تنظیم کے سیکرٹری جنرل کی جانب سے جاری مشترکہ بیان میں اسرائیلی فیصلوں کے خلاف سخت  مذمت کی گئی ہے، جن میں مغربی کنارے پرغیرقانونی اسرائیلی کنٹرول کو وسیع کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔
سعودی خبررساں ایجنسی کے مطابق سعودی عرب، برازیل، فرانس، ڈنمارک، فن لینڈ، انڈونشیا، آئرلینڈ، مصر، اردن، قطر، ترکیہ اور دیگر ممالک کے وزرائے خارجہ کے مشترکہ بیان میں کہا گیا کہ اسرائیلی اقدامات میں فلسطینی اراضی کی بڑے پیمانے پر دوبارہ درجہ بندی کرکے اسے نام نہاد ’ریاستی زمین‘ قراردینا، غیرقانونی آباد کاری کی سرگرمیوں کوتیز کرنا اور اسرائیلی انتظامی کنٹرول کو مزید مضبوط بنانا شامل ہے۔
وزرائے خارجہ نے واضح کیا اسرائیلی بستیاں اور انہیں فروغ دینے والے اقدامات بین الاقوامی قانون، اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرادادوں اور 2024 میں عالمی عدالتِ انصاف کی مشاورتی رائے صریح خلاف ورزی اور زمینی حقائق کو تبدیل کرنے اور ایک ناقابل قبول الحاق کی جانب پیش رفت کا حصہ ہیں جو خطے میں امن و استحکام کی کوششوں، خصوصا غزہ سے متعلق 20 نکاتی منصوبے کو نقصان پہنچانے کے مترادف ہیں۔
مشترکہ بیان میں اسرائیلی حکومت پر زور دیا گیا وہ فوری طور پر ان اقدامات کو واپس لے۔ اپنی بین الاقوامی ذمہ داریوں کا احترام کرتے ہوئے مقبوضہ فلسطینی علاقوں کی قانونی اور انتظامی حیثیت میں مستقل تبدیلیاں لانے سے گریز کرے۔
 یہ فیصلے اسرائیلی آباد کاری کی پالیسی میں غیرمعمولی تیزی کے تناظر میں آئے ہیں جن میں منصوبہ ’ای ون‘ کی منظوری بھی شامل ہے۔ ان اقدامات کو فلسطینی ریاست کے قیام اور دو ریاستی حل کی بنیادوں پر براہ راست حملہ قرار دیا گیا اور ہرقسم کے الحاق کی مخالفت کا اعادہ کیا گیا۔
مغربی کنارے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے وزرا نے اسرائیل پر زوردیا کہ وہ فلسطینیوں کے خلاف تشدد کو روکے اور ذمہ دار عناصر کے احتساب کو یقینی بنائے۔
بیان میں اس عزم کا اعادہ کیا گیا کہ بین الاقوامی قانون کے مطابق غیرقانونی آباد کاری، جبری بے دخلی اور الحاق کی پالیسیوں کا مقابلہ کرنے کے لیے عملی اقدامات کیے جائیں گے۔
رمضان المبارک کے حوالے سے القدس اور اس کے مقدس مقامات کی تاریخی و قانونی حیثیت کو برقرار رکھنے کی اہمیت پر زوردیتے ہوئے اردن کی سرپرستی کے خصوصی کردار کو تسلیم کیا گیا، جبکہ القدس میں موجودہ صورتحال کی خلاف ورزیوں کو علاقائی استحکام کے لیے خطرہ قرار دیا گیا۔
وزرائے خارجہ نے اسرائیل سے مطالبہ کیا کہ وہ فلسطینی اتھارٹی کی روکی گئی ٹیکس آمدنی فوری طور پر جاری کرے اور پیرس پروٹوکول کے مطابق اسے منتقل کیا جائے کیونکہ یہ رقوم غزہ اور مغربی کنارے میں بنیادی خدمات کی فراہمی کے لیے اہم ہے۔
بیان کے اختتام پر مشرق وسطی میں ایک منصفانہ، جامع اور دیرپا امن کے قیام کے عزم کا اعادہ کیا گیا جس کی بنیاد دو ریاستی حل، عرب امن اقدام، اقوام متحدہ کی متعلقہ قرارداروں اور 4 جون 1967 کی سرحدوں کے مطابق ہو۔
 اس بات پرزوردیا گیا کہ اسرائیل، فلسطین تنازع کا خاتمہ خطے میں امن و استحکام کے لیے ناگزیر ہے۔

 

شیئر: