Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

’کمبھ میلہ وائرل گرل‘ مونالیزا کی مسلمان دوست سے شادی، کم عمری کے دعوؤں پر تحقیقات

مونا لیزا کے نام سے مشہور خاتون اپنی نشیلی آنکھوں کے باعث وائرل ہوئی تھیں۔ (فوٹو: سٹیٹس مین نیوز سروس)
مدھیہ پردیش پولیس کی ایک ٹیم جمعرات کو کیرالہ میں وائرل ہونے والی کمبھ میلہ گرل' کی متنازع شادی کی تحقیقات کرنے کوچی پہنچ چکی ہے۔  
ٹائمز آف انڈیا کے مطابق حال ہی میں کمبھ میلے میں اپنی آنکھوں کے باعث وائرل ہونے والی لڑکی نے کیرالہ کے مندر میں اپنے مسلمان دوست سے شادی کی تھی جس کے بعد دعویٰ سامنے آیا کہ مذکورہ سوشل میڈیا انفلوئنسر کم عمر ہے۔
کیرالہ میں متعلقہ حکام نے دستاویزات کی تصدیق کے بعد خاتون کو اپنے ساتھی سے شادی کی اجازت دی اور کہا کہ وہ قانونی طور پر بالغ ہے، تاہم اس کے اہلِ خانہ کا مؤقف ہے کہ وہ ابھی 18 سال کی نہیں ہوئی۔
مدھیہ پردیش پولیس ٹیم کی کوچی آمد کے بعد جوڑے نے کیرالہ پولیس سے تحفظ کی درخواست کی۔ خاتون نے مبینہ طور پر کوچی سٹی پولیس کمشنر کو درخواست دی ہے کہ اسے زبردستی اس کی آبائی ریاست واپس نہ بھیجا جائے۔
پولیس کمشنر کلیرج مہیش کمار نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ مقامی حکام پہلے ہی مدھیہ پردیش کی ٹیم کو کیرالہ ہائی کورٹ کے حکم کی نقل فراہم کر چکے ہیں جس کے تحت اس کے ساتھی کی گرفتاری 20 مئی تک روکی گئی ہے۔
کمشنر نے مدھیہ پردیش ٹیم کے دورے کے مخصوص مقصد پر تبصرہ کرنے سے گریز کیا، تاہم پولیس ذرائع کے مطابق ٹیم کا مقصد بیانات ریکارڈ کرنا اور ممکن ہو تو خاتون کو تحویل میں لینا ہو سکتا ہے کیونکہ مدھیہ پردیش کے ریکارڈ کے مطابق اس کی عمر متنازع ہے۔
خاتون متعدد بار یہ موقف اختیار کر چکی ہے کہ اس کی عمر 18 سال ہے۔

ذرائع کے مطابق چار اہلکاروں پر مشتمل مدھیہ پردیش پولیس ٹیم نے اس کے ساتھی کے ایک دوست کے فون کو ٹریس کر کے کوچی تک رسائی حاصل کی۔ ٹیم تھریکاکرا تک پہنچی، تاہم مطلوبہ شخص وہاں موجود نہیں تھا۔ بعد ازاں ٹیم نے اس سے فون پر رابطہ کیا اور پیش ہونے کی ہدایت دی۔
یہ تنازع یکم مارچ کو ترواننت پورم کے ایک مندر میں ہونے والی اس شادی سے متعلق ہے۔ بین المذاہب شادی کو قومی سطح پر توجہ ملی اور سی پی ایم کے سینیئر رہنما جن میں ریاستی سیکریٹری ایم وی گووندن اور وزیرِ تعلیم وی شیون کٹّی شامل تھے، تقریب میں شریک ہوئے۔
شادی کے فوراً بعد خاتون کے خاندان نے دعویٰ کیا کہ اس کی عمر صرف 16 سال ہے، جبکہ جوڑے نے آدھار کارڈ سمیت دستاویزات پیش کیے جن کے مطابق وہ 18 سال کی ہے۔
بعد ازاں نیشنل کمیشن فار شیڈولڈ ٹرائبز نے تحقیقات کیں اور مبینہ طور پر پایا کہ اس کی تاریخِ پیدائش 30 دسمبر 2009 ہے جس کی بنیاد پر شادی کو غیر قانونی قرار دیا گیا۔
کمیشن نے مدھیہ پردیش پولیس کو ہدایت دی کہ وہ مبینہ طور پر کم عمر سے شادی کرنے پر اس کے ساتھی کے خلاف پوکسو ایکٹ کے تحت مقدمہ درج کرے۔ تاہم اب تک اس کے خلاف صرف دفعہ 137(2) کے تحت اغوا کا مقدمہ درج کیا گیا ہے۔

شیئر: