Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

اسرائیل و لبنان کی 10 روزہ جنگ بندی نافذ، ’خلاف ورزی ہو سکتی ہے‘

صدر ٹرمپ نے جمعرات کو اسرائیل اور لبنان کے 10 روزہ جنگ بندی پر تیار ہونے کا اعلان کیا تھا (فوٹو: روئٹرز)
اسرائیل اور لبنان کے درمیان ہونے والی 10 روز کی جنگ بندی جمعے سے نافذالعمل ہو گئی ہے، جس کے بعد بے گھر ہونے والوں نے اپنے گھروں کا رخ کرنا شروع کر دیا ہے تاہم لبنانی فوج نے خبردار کیا ہے کہ ’معاہدے کی خلاف ورزیاں‘ ہو سکتی ہیں۔
فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق جنگ بندی کے مؤثر ہونے کے تھوڑی دیر بعد نصف شب کے قریب فوج کی جانب سے ان مقامی افراد کو گھر واپس نہ جانے کا کہا گیا جنہوں نے معاہدے کے بعد واپسی شروع کر دی تھی اور ’معاہدے کی خلاف ورزیوں‘ کے بارے میں خبردار کیا گیا۔
تاہم اے ایف پی کی تصاویر میں دیکھا جا سکتا ہے کہ لوگوں سے بھری ہوئی گاڑیاں لبنان کی ساحلی شاہراہ کے ساتھ جنوب کی طرف جاتی دکھائی دیتی ہیں اور طلوع آفتاب کے قریب اس پل کے بچے ہوئے حصے سے گزرتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے جس کو اسرائیل نے بمباری کا نشانہ بنایا تھا۔
گھر کی طرف جانے والی رہائشی علا دماش نے فوج کی جانب سے ان اعلانات پر کان دھرا، جن میں کہا گیا تھا کہ ’تھوڑی دیر انتظار کریں۔‘
ان کا کہنا تھا کہ وہ تو رک گئی ہیں تاہم اس موقع پر ایسے لوگ بھی ہیں جن کو ایسے انتباہات نہ روک سکے اور وہ اپنے گھروں کی طرف بڑھتے چلے گئے ہیں۔
لبنان اور اسرائیل کے درمیان ہونے والی جنگ بندی ایران اور امریکہ میں ہونے والی جنگ بندی کے بعد سامنے آئی ہے اور اس کو امن معاہدے تک پہنچنے کے لیے ہونے والی کوششوں کے ضمن میں ایک اہم قدم کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

فرانسیسی صدر ایمانوئیل میکخواں نے اسرائیل لبنان جنگ بندی کا خیرمقدم کیا ہے (فوٹو: اے ایف پی)

تہران کا اصرار رہا ہے کہ لبنان کو بھی جنگ بندی کے معاہدے میں شامل کیا جا چاہیے۔

فرانسیسی صدر کا جنگ بندی کا خیرمقدم

فرانس کے صدر ایمانوئیل میکخواں نے کہا ہے کہ وہ اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان ہونے والی جنگ بندی کی حمایت کرتے ہیں اور اس کو جاری رکھنے پر زور دیتے ہیں۔
انہوں نے جنگ بندی کے بعد جمعے کو ایکس پر ایک پوسٹ میں لکھا کہ ’حزب اللہ کو ہتھیار رکھ دینے چاہییں جبکہ اسرائیل کو لبنان کی خودمختاری کا احترام کرنا چاہیے۔‘
ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ ’میں تشویش کا اظہار کرتا ہوں کہ فوجی کارروائیوں کے باعث یہ معاہدہ کمزور ہو سکتا ہے۔‘
تاہم انہوں نے کسی مخصوص کارروائی کی وضاحت نہیں کی۔

’پائیدار امن کی راہ ہموار ہو گی‘

پاکستان کے وزیراعظم شہباز شریف نے جنگ بندی کا خیرمقدم کرتے ہوئے امید ظاہر کی ہے کہ اس سے تنازع کا خاتمہ ہو گا اور پائیدار امن کی راہ ہموار ہو گی۔
انہوں نے ایکس پر ایک پوسٹ میں لکھا کہ ’میں لبنان کی جنگ بندی کے اعلان کا خیرمقدم کرتا ہوں جو کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جرات مندانہ اور دانشمندارنہ سفارتی کوششوں کی بدولت ممکن ہوا، مجھے امید ہے کہ یہ پائیدار امن کی راہ ہموار کرے گا۔
اسی طرح ایران کے وزیر خارجہ کی جانب سے بھی جنگ بندی کا خیرمقدم کیا گیا ہے۔
ایران کے سرکاری میڈیا کے مطابق وزارت خارجہ نے اقدام کو ایران و امریکہ کے درمیان دو ہفتے کی جنگ بندی کا حصہ قرار دیا ہے۔

 

شیئر: