Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

سعودی عرب: ایک ہفتے میں اقامہ، لیبر اور بارڈر قانون کی 19 ہزار خلاف ورزیاں ریکارڈ

11 ہزار 40 غیرقانونی تارکین کو ان کے ملک واپس بھیجا گیا (فائل فوٹو: اے ایف پی)
سعودی عرب میں ایک ہفتے کے دوران اقامہ، لیبر اور سرحدی قانون کی  مزید 19 ہزار 77 خلاف ورزیاں ریکارڈ کی گئی ہیں جبکہ 11 ہزار 40 غیرقانونی تارکین کو ان کے ملک واپس بھیجا گیا۔
ایس پی اے کے مطابق’ 19 سے 25 فروری 2026 کے درمیان مجموعی طور پر 13 ہزار 215 افراد کو اقامہ قانون، 3 ہزار 396 کوغیر قانونی سرحد عبور کرنے کی کوشش اور  دو ہزار 466 کو قانون محنت کی خلاف ورزی پر حراست میں لیا گیا۔‘
’غیرقانونی طور پر مملکت میں داخل ہونے کی کوشش پر ایک ہزار 615 افراد کو گرفتار کیا گیا، ان میں 64 فیصد ایتھوپین، 34 فیصد یمنی اور دو فیصد دیگر ملکوں سے تعلق رکھتے ہیں۔
علاوہ ازیں 70 ایسے افراد کو بھی پکڑا گیا ہے جو سرحد پار کرکے مملکت سے ہمسایہ ملکوں میں داخل ہونے کی کوشش کر رہے تھے۔
 سفر، رہائش، روزگار اور پناہ دینے کی کوششوں میں ملوث 10 افراد کو بھی حراست میں لیا گیا ہے۔ 
  مجموعی طور پر 20 ہزار 712 تارکین جس میں 19 ہزار 304 مرد اور ایک ہزار 408 خواتین شامل ہیں اس وقت ضوابط پر عملدرآمد کے پروسیجر سے گزر رہے ہیں۔
 ضوابط کی خلاف ورزیوں پر 14 ہزار982 پر حراست میں لیا گیا، انہیں سفری دستاویز ات کے لیے سفارتحانوں یا قونصلیٹ سے رابطہ کرنے، ایک ہزار 364 کو سفری انتظامات کرنے کی ہدایت کی گئی جبکہ 11 ہزار40 کو ان کے ملک واپس بھیجا گیا۔

واضح رہے سعودی عرب میں غیرقانونی تارکین وطن کو سفری، رہائشی یا ملازمت کی سہولت فراہم کرنا قانوناً جرم ہے اور اس کے لیے مختلف سخت سزائیں مقرر ہیں۔ 
سعودی وزارت داخلہ کا کہنا ہے’ جو بھی شخص غیر قانونی تارکین کو سعودی عرب میں داخل ہونے کی سہولت فراہم کرے گا، اسے 15 برس قید اور 10 لاکھ  ریال تک جرمانے کے ساتھ گاڑی اور جائداد کی ضبطی کی سزا کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔‘

 

شیئر: