العلا میں ’ورلڈ ہیریٹج ڈے‘ جہاں تاریخ اور ورثہ جیتی جاگتی شکل میں موجود ہے
العال میں سنیچر 18 اپریل کو ’ورلڈ ہیریٹج ڈے‘ منایا گیا ہے ( فوٹو: ایس پی اے)
العلا ان بڑے مقامات میں سے ایک ہے جہاں سنیچر 18 اپریل کو ’ورلڈ ہیریٹج ڈے‘ منایا گیا ہے جس کی وجہ سے یہاں سیاحوں کی دلچسپیاں عروج پر رہیں۔
یہ ایونٹ پوری دنیا کو ثقافتی ورثے کی سائٹس کو محفوظ رکھنے، کمیونٹی کی روایات کی پاسداری اور مستقبل کی نسلوں کے لیے امتیازی سنگ ہائے مِیل کی اہمیت کی یاد دلاتا ہے۔
دنیا میں چند ایسے مقامات ہیں جہاں تاریخ، زندگی کا رُوپ دھار کر جیتی جاگتی شکل میں سامنے آ جاتی ہے۔ العلا اُن میں سے ایک ہے۔
ایک نخلستانی شہر کی حثییت میں جو سعودی عرب کے شمال مغرب میں واقع ہے، العلا کی آغوش میں اس قدر شاندار اور قدیم مناظر ہیں جو اِسے جیتے جاگتے میوزیم کا درجے دیتے ہیں۔
یہاں آ کر معلوم ہوتا ہے کہ زندگی اور اِس کی رعنائیوں سے لبریز، ایک پُررونق اور متحرک مستقبل کے لیے گزرے ہوئے زمانے کے آثار کس طرح آپ کا خون گرما دیتے ہے۔

الحـجر، مملکت میں یونیسکو کے عالمی ورثے کی پہلی سائٹ ہے جہاں کی قدیم چٹانوں اور سمندر کے قریب واقع پہاڑوں پر یادگار نبطی مقبروں کی شبیہیں تراشی گئی ہیں جو ایک قدیم تہذیب کے وجود کا حیرت انگیز ثبوت ہیں۔
العلا کے قدیم دارالحکومت دادن اور جبلِ عکمہ بھی سیاحوں کے لیے یہاں کی اہم دلچسپیوں میں شامل ہیں۔
دادان اور اور لحیانیت کی تہذیبوں کے کھنڈارت اور وہاں پر شیروں کے مجسمے اب بھی قدیم زمانے کے بادشاہوں کی میراث کے نگہبان ہیں۔

دادن کی نمائش دیکھ کر اُن طاقتور حکمرانوں کی وراثت کے بارے میں معلومات میں مزید اضافہ ہوتا ہے جہاں بہت احتیاط کے ساتھ زمین کو کھود کر نکالے گئے نوادارت کا مجموعہ رکھا گیا ہے۔
علاوہ ازیں جبلِ عکمہ میں ایک اوپن ایئر لائبریری قائم کی گئی ہے جہاں چٹانوں پر سینکڑوں کی تعداد میں تحریریں کندہ ہیں۔

العلا، سماوی ورثے کی ایسی جھلک بھی دکھاتا ہے جو کہیں اور دیکھنے کو نہیں ملتی۔ سیاحوں کے لیے وہ منظر بہت لطف انگیز ہوتا ہے جب کہکشاں اپنے نہ ختم ہونے والے حُسن کے ساتھ آسمان کی راہوں پر افشاں چُنتے ہوئے نمودار ہوتی ہے۔
’ہیریٹج اوئیسس ٹریل‘ اور الحرہ کی آتش فشانی سطحِ مرتفع بھی العلا کے اہم اور دیدہ زیب مقامات میں شامل ہیں۔
