Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

مکہ مکرمہ کا ورثہ اور اشیا جو قدیم طرز زندگی کی عکاس ہیں

مقامی دستکاریاں ماضی میں ہر گھر کی ضرورت سمجھی جاتی تھیں۔( فوٹو: ایس پی اے)
مکہ مکرمہ کے ورثے کی قدیم اشیا اور نوادرات، مکی معاشرے کی اجتماعی یادداشت کے ایک اہم پہلو کو اجاگر کرتے ہیں۔ یہ اشیا مکہ کے باسیوں کی دہائیوں سے بسر کی جانے والی روز مرہ زندگی کی عکاسی کرتی ہیں۔
سعودی خبررساں ایجنسی ایس پی اے کے مطابق دور رفتہ سے جڑی ہوئی وہ اشیا جو مکہ کی سماجی زندگی سے وابستہ رہی، ان میں خاص طور پر ’ لالٹین‘ ہے، جو بعد میں ایک جمالیاتی ورثے کا ایک عنصر بن گئی، جو قدیم  مکہ کے ماحول سے منسلک ہے۔
 ایسی کئی مقامی دستکاریاں شامل ہیں جو ماضی میں اہم شمار ہوتی تھیں اور ہر گھر کی ضرورت بھی سمجھی جاتی تھیں۔
علاقائی ثقافتی ورثے میں ’سدو‘ کا فن نمایاں ہے جو جزیرہ نما عرب کی روایتی دستکاری کی نمائندگی کرتا ہے۔ روایتی قالین اور دریاں بنانے یہ فن جس سے ماضی میں ایک ضرورت تھا اب سجاوٹ کا درجہ اختیار کر گیا ہے۔
 ان ہی اشیا میں تانبے سے بنے کافی کے برتن شامل ہیں جو عربی قہوہ بنانے کے استعمال میں آتے تھے، لکڑی اور دھات سے تیار ہونے والے بخور اور عطر دان نمایاں ہیں۔

ان کے ساتھ  کپڑے اور قیمتی اشیا رکھنے کے لیے لکڑی کے بڑے صندوق، جن پر نقش و نگار بنائے جاتے تھے شامل ہیں۔
 قدیم اشیا میں پکی مٹی سے تیار کیے جانے والے برتن و صراحیاں جبکہ مارکیٹ کی اہم ترین وبنیادی ضرورت ترازو  بھی یاددگار اشیا کی فہرست میں درج ہے۔
مکہ مکرمہ کے عجائب گھر اور ثقافتی مراکز میں اس ورثے کو محفوظ رکھنے کا خاص اہتمام کیا جاتا ہے تاکہ آنے والی نسلیں اپنے اجداد کے رہن سہن اور طرز زندگی کے بارے میں آگاہ رہیں۔
مملکت کے وژن 2030 کے اہداف میں ثقافتی ورثے کا تحفظ اور ان کے بارے میں آگاہی کا فروغ شامل ہے، جس پر جامع پروگرام کے تحت عمل کیا جارہا ہے۔

 

شیئر: