سعودی پروجیکٹ؛ ایک ہفتے میں یمن سے ایک ہزار 263 دھماکہ خیز ڈیوائسز کو ہٹایا گیا
اب تک پانچ لاکھ 5 ہزار47 ہزار بارودی سرنگیں ہٹائی جا چکی ہیں۔(فوٹو: ایس پی اے)
سعودی عرب کے مسام پروجیکٹ نے مارچ 2026 کے پہلے ہفتے میں یمن کے مختلف علاقوں سے ایک ہزار 263 بارودی سرنگوں اور دھماکہ خیز ڈیوائسز کو ہٹایا ہے۔
ایس پی اے کے مطابق ان میں الحدیدہ گورنریٹ میں پھٹنے سے رہ جانے والے آرڈینس، حضر موت گورنریٹ میں 857 پھٹنے سے رہ جانے والا آرڈیننس اور 3 اینٹی پرسنل بارودی سرنگیں جبکہ ماریب گورنریٹ میں 350 پھٹنے سے رہ جانے والا آرڈیننس اور 33 اینٹی ٹینک بارودی سرنگیں شامل ہیں۔
مسام پروجیکٹ نے یکم فروری سے 20 فروری تک 6 ہزار 682 بارودی سرنگوں، دھماکہ خیز ڈیوائسز پھٹنے سے رہ جانے والے آرڈینس کو ہٹایا ہے۔
20 فروری تک مسام پروجیکٹ کی ٹیموں نے یمن بھر میں 729,273 مربع میٹر زمین کو صاف کیا۔
2018 میں پروجیکٹ کے آغاز کے بعد سے اب تک پانچ لاکھ 5 ہزار47 ہزار 215 بارودی سرنگیں ہٹائی جا چکی ہیں۔
سعودی عرب، شاہ سلمان مرکز کے ذریعے یمن کی سرزمین کو بارودی سرنگوں سے پاک کرنے، شہریوں کی سیفٹی بڑھانے، یمنی عوام کو با وقار اور محفوظ زندگی گزارنے کے قابل بنانے کے لیے کوششیں جاری رکھے ہوئے ہے۔
دھماکہ خیز مواد اور بارودی سرنگوں کو بلا تفریق زمین میں بچھایا گیا تھا جو عام لوگوں، خاص طور پر بچوں، خواتین اور عمر رسیدہ افراد کے لیے سنگین خطرہ بن رہا تھا۔
اس پروجیکٹ کے تحت باردوی سرنگیں صاف کرنے والے مقامی انجینیئروں کی تربیت کی جاتی ہے اور انھیں جدید سازوسامان فراہم کیا جاتا ہے اور جو یمنی دھماکہ خیز مواد کی وجہ سے زخمی ہو جاتے ہیں، یہ پروجیکٹ انھیں مدد بھی دیتا ہے۔
پروجیکٹ کے تحت مختلف ٹیموں کو دیہات، سڑکوں اور سکولوں سے بارودی سرنگوں یا دھماکہ خیز مواد کو ہٹانے کا کام سونپا جاتا ہے تاکہ عام لوگ محفوظ رہتے ہوئے نقل و حرکت کر سکیں۔ انسانی بنیادوں کے تحت دی جانے والی امداد عام لوگوں تک پہنچ سکے۔
