مسام پروجیکٹ: یمن سے مزید ایک ہزار 181 دھماکہ خیز ڈیوائسز کو ہٹایا گیا
دھماکہ خیز مواد اور بارودی سرنگوں کو بلا تفریق زمین میں بچھایا گیا تھا (فوٹو: ایکس اکاونٹ)
سعودی عرب کے مسام پروجیکٹ کے ارکان نے گزشتہ ہفتے یمن کے مختلف علاقوں سے مزید ایک ہزار 181 دھماکہ خیز ڈیوائسز کو ہٹایا ہے۔
عرب نیوز کے مطابق ان میں ایک ہزار 114 پھٹنے سے رہ جانے والا آرڈیننس، 61 اینٹی ٹینک، 4 اینٹی پرسنل بارودی سرنگیں اور دو دیسی ساختہ دھماکہ خیز ڈیوائسز شامل ہیں۔
مارب، عدن، الجوف، شبوہ، تعز، الحدیدہ، لحج، صنعا، البیضا، الضالع اور صعدہ میں بارودی سرنگیں ہٹانے کی کارروائیاں کی گئی ہیں۔
مسام کے منیجنگ ڈائریکٹر اسامہ القصبی نے بتایا’ 2018 میں پروجیکٹ کے آغاز کے بعد سے اب تک 5 لاکھ 31 ہزار 868 بارودی سرنگوں کو تلف کیا جا چکا ہے۔‘
دھماکہ خیز مواد اور بارودی سرنگوں کو بلا تفریق زمین میں بچھایا گیا تھا جو عام لوگوں، خاص طور پر بچوں، خواتین اور عمر رسیدہ افراد کے لیے سنگین خطرہ بن رہا تھا۔

پروجیکٹ کے تحت مختلف ٹیموں کو دیہات، سڑکوں اور سکولوں سے بارودی سرنگوں یا دھماکہ خیز مواد کو ہٹانے کا کام سونپا جاتا ہے تاکہ عام لوگ محفوظ رہتے ہوئے نقل و حرکت کر سکیں۔ انسانی امداد کی فراہمی کو آسان بنایا جاسکے۔
مسام پروجیکٹ کے تحت باردوی سرنگیں صاف کرنے والے مقامی انجینیئروں کی تربیت کی جاتی ہے اور انھیں جدید آلات فراہم کیے جاتے ہیں، دھماکہ خیز مواد کی وجہ سے زخمی ہونے والے شہریوں کی مدد بھی کی جاتی ہے۔
