Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

’ساعہ البکور‘ عید کی روایت جسے سعودی خاندان زندہ رکھے ہوئے ہیں

خاندان کے افراد امید اور خوشی کے ماحول میں جمع ہوتے ہیں۔(فوٹو: ایس پی اے)
سعودی معاشرے میں عید الفطر کی نماز سے قبل کئی سماجی روایات پر آج بھی باقاعدگی سے عمل کیا جاتا ہے جن میں نمایاں ترین ’ساعہ البکور‘ ( ارلی آورز) بھی ہے۔
ایس پی اے کے مطابق ’ساعۃ البکور‘ نماز فجر سے طلوع آفتاب یعنی عید کی نماز تک کا وقت ہے۔ ایک سماجی لمحہ جب سعودی معاشرے خاندان کے افراد امید اور خوشی کے ماحول میں جمع ہوتے ہیں۔
اس دوران سعودی خاندان روایت کے مطابق خاندان کے افراد والدین اور خاندان کے بزرگوں کو سلام  اور مبارکباد کا تبادلہ کرتے ہیں اور نئے کپڑے پہن کر نماز عید کے لیے تیار ہوتے ہیں۔
’ساعۃ البکور‘ میں کئی اور سماجی و ثقافتی روایات بھی ہیں جن میں ’فطرہ العید‘ عید کی صبح کا ناشہ جس میں روایتی پکوان شامل ہوتے ہیں جن میں  القرصان،عریکہ،( دیسی گھی اور خالص شہد کے ساتھ ) اور دیگر علاقائی ڈشز شامل ہیں۔

کنگ عبدالعزیز عوامی لائبریری کی شائع کردہ انسائیکلوپیڈیا آف سعودی عرب کے مطابق، مملکت کے بعض ریجنز میں ہر خاندان علاقے کی ایک ڈش تیار کرنے کا رواج ہے جسے مقامی طور پر ’العید‘ کہا جاتا ہے۔
علاقے یا محلے کے لوگ ایک مقام  پر جمع ہوتے ہیں جہاں ’العید‘ تیار کی جاتی ہے۔ وہاں آنے والوں کا استقبال سعودی قہوے سے کیا جاتا ہے۔

بعد ازاں یہ پکوان ایک اجتماعی خوان پر پیش کیے جاتے  ہیں اور وہاں موجود لوگ عید کے مخصوص پکوانوں سے ایک سماجی ماحول میں لطف اندوز ہوتے ہیں۔
گھروں میں مہمانوں کے خیرمقدم کے لیے عید کا ماحول تیار کیا جاتا ہے،  گھر کی صفائی کی جاتی ہے، روایتی قالین بچھائے جاتے ہیں، بخور اور خوشبویات کا استعمال کیا جاتا ہے۔ یہ اقدام مہمان نوازی سے جڑی رویاات کی عکاسی کرتا ہے۔

 

شیئر: