Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

غلط تصویر اور ایک جملہ: جویریہ سعود اور یمنٰی زیدی کے درمیان تنازع کیا ہے؟

جویریہ سعود نے اپنے عید شو کے سیگمنٹ میں ایک تصویر کو یمنیٰ زیدی کے بچپن سے منسوب کیا تھا۔ (فوٹو: ایکسپریس انٹرٹینمنٹ)
پاکستانی شوبز انڈسٹری میں حالیہ دنوں ایک ٹی وی شو کے دوران پیش آنے والا واقعہ خاصی بحث کا موضوع بن گیا   ہے، جس میں میزبان جویریہ سعود اور اداکارہ یمنٰی زیدی آمنے سامنے ہیں۔
یہ معاملہ عید کے موقع پر نشر ہونے والے ایک خصوصی پروگرام سے شروع ہوا، جہاں ایک تفریحی سیگمنٹ میں مہمانوں کو مختلف اداکاروں کی بچپن کی تصاویر دکھا کر پہچاننے کا کہا جا رہا تھا۔ پروگرام میں یاسر حسین اور نوشین شاہ سمیت دیگر فنکار بھی موجود تھے۔
اسی سیگمنٹ کے دوران ایک تصویر دکھائی گئی جسے جویریہ سعود نے یمنٰی زیدی کی بچپن کی تصویر قرار دیا۔ مہمان اس تصویر کو پہچاننے میں مشکل کا شکار رہے، جس پر میزبان نے کچھ اشارے دیے اور ایک جملہ کہا کہ متعلقہ شخصیت 'زمانۂ قدیم سے کام کر رہی ہے مگر پہچان اب ملی ہے'، جس کے بعد سٹوڈیو میں ہنسی بھی سنائی دی۔
آخر جب ایک مہمان نے اندازہ لگایا کہ یہ یمنٰی زیدی ہیں، تو جویریہ سعود نے اس کی تصدیق کر دی حالانکہ بعد میں معلوم ہوا کہ وہ تصویر درحقیقت یمنٰی کی تھی ہی نہیں۔
اس معاملے پر یمنٰی زیدی نے سوشل میڈیا کا سہارا لیا اور وضاحت کی کہ دکھائی گئی تصویر ان کی نہیں تھی۔ انہوں نے اسے 'شناخت سے متعلق غلط معلومات' قرار دیا اور میڈیا اداروں کو یاد دلایا کہ قومی سطح پر نشر ہونے والے مواد کی تصدیق ضروری ہوتی ہے۔

یمنٰی کے مؤقف کے بعد انڈسٹری کی کئی معروف شخصیات ان کے حق میں سامنے آئیں۔
مایا علی نے سوال اٹھایا کہ آخر ہم اپنے ہی فنکاروں کی عزت کیوں نہیں کرتے۔ ہانیہ عامر نے ان کی بات کی تائید کرتے ہوئے اسے آگے شیئر بھی کیا۔ نامیر خان نے بھی اس رویے کو غیر ہمدردانہ قرار دیا۔

جبکہ ہدایتکار عمیر ناصر علی نے یمنٰی زیدی کی اصل بچپن کی تصویر شیئر کرتے ہوئے واضح کیا کہ حقائق کی درستگی ہی اصل احترام ہے۔
واضح رہے کہ اس سے قبل سوشل میڈیا پر تنقید بڑھنے پر جویریہ سعود نے وضاحتی بیان بھی جاری کیا تھا اور اعتراف کیا کہ وہ تصویر انٹرنیٹ سے بغیر تصدیق کے لی گئی تھی۔ انہوں نے اس غلطی پر معذرت بھی کی۔

البتہ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ان کا 'زمانۂ قدیم' والا جملہ کسی خاص شخصیت کے لیے نہیں تھا اور اسے غلط انداز میں لیا گیا۔

 

شیئر: