Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

مہر کی رقم اور بے تحاشا اخراجات، آج کے دور میں سعودی شہریوں کے لیے ایک چیلنج

اسلامی علما خاندانوں کو یاد دلاتے رہتے ہیں کہ مہر علامت ہے، قیمت نہیں ہے (فوٹو: عرب نیوز)
اپنی منگنی کی رات جب سارہ خلف کے ہونٹوں پر اپنی تصویروں کو دیکھ کر مسکراہٹ بِکھر رہی تھی، وہ چپکے چپکے اپنے ذہن میں شادی کے مقام، دلہن کے لباس، سونے کے زیورات اور مہر کی رقم کا حساب بھی لگا رہی تھیں۔
بعد میں انھوں نے بتایا کہ ’50 ہزار ریال کسی زمانے میں بڑی رقم ہوا کرتی تھی لیکن اب یہ فوراً ہی ختم ہو جاتی ہے۔ کبھی کبھی تو ایسے لگتا ہے کہ شادی ہم دونوں کے لیے نہیں، باقی سب کے لیے ہے۔ ایک ہی رات میں ختم ہوجانے والی رقم کسی زمانے میں زندگی گزارنے کے لیے کافی ہوا کرتی تھی۔
سعودی عرب میں مہر (دولھا کی جانب سے دلہن کو دی جانے والی رقم یا جائیداد)، کی نوعیت تبدیل ہو رہی ہے۔ کبھی جو احترام، تحفظ اور ذمہ داری کی ایک سادہ علامت تھی، اب سماجی توقعات، مقابلے بازی اور بڑھتے ہوئے مصارف کا ایک پیچیدہ ملغوبہ بن کے رہ گئی ہے۔
اسلامی علما خاندانوں کو یاد دلاتے رہتے ہیں کہ مہر علامت ہے، قیمت نہیں ہے۔ لیکن حقیقت میں آج کل شادیوں میں سونے کے قیمتی تحائف کے ساتھ ساتھ شاہ خرچیوں کی نمائش والے بھرپور انتظامات کیے جاتے ہیں۔ کئی نوجوان سعودیوں کے لیے، شادی کی خوشی کی قیمت، مالی دباؤ ہے۔
25 برس کے نبیل کہتے ہیں ’مہر کا مطلب عورت کی عزت بڑھنا ہوا کرتا تھا۔ آج مہر کی رقم کا بہت بڑا حصہ کپڑوں، تقریبات، میک اپ اور سونے کی نذر ہو جاتا ہے۔ میرے لیے 70 ہزار ریال شاید مناسب رقم ہو اس لیے کہ باقی سب کچھ بہت ہی مہنگا ہو گیا ہے۔
ماں باپ اور بہن بھائی بھی اکثر جوڑوں کی مدد کے لیے آگے آتے ہیں لیکن پھر بھی دباؤ ختم نہیں ہوتا۔ کچھ جوڑے اس وقت تک شادی نہیں کرتے جب تک کہ وہ مالی طور پر خود کو محفوظ نہ سمجھیں۔ کچھ شادی کے خیال ہی کو ترک کر دیتے ہیں یہ سوچ کر کہ اگر ’ہاں‘ کردی تو مالی مطالبات ’ہاں‘ سے کہیں زیادہ وزنی ہو جائیں گے۔
شماریات کی سعودی جنرل اتھارٹی کے مطابق گـزشتہ کچھ دہائیوں سے سعودی عرب میں پہلی شادی کی اوسط عمر بتدریج بڑھتی جا رہی ہے۔ تعلیم اور کیریئر زیادہ اہمیت اختیار کر چکے ہیں لیکن گفتگو میں پیسے کی باتیں زیادہ ہوتی ہیں۔ نوجوانوں کے لیے شادی کا فیصلہ شاذ و نادر ہی صرف محبت پر مبنی ہوتا ہے۔ اکثر و بیشتر اس فیصلے کا تعلق مالی تحفظ اور ایک مستحکم گھر لینے اور بنانے سے ہوتا ہے۔
لیکن شادی میں تاخیر سے بچوں کی پیدائش متاثر ہو سکتی ہے۔ سعودی عرب میں شرحِ پیدائش سنہ 2011 میں 2.8 سے گر کر سنہ 2024 میں 2 تک پہنچ گئی۔
شہروں میں رہائش، بڑھتے ہوئے اخراجات اور خواتین کی تعلیم اور ملازمتوں میں بڑھتی ہوئی شرکت، اِن رجحانات کی تشکیل کرنے میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔
تاہم، دمام کی رہنے والی فاطمہ الاحمد کہتی ہیں کہ ہر شادی مالی دباؤ سے متاثر نہیں ہوتی۔ ’میرے بھائی نے مناسب مہر کے ساتھ شادی کی اور شادی کی تقریب میں بھی زیادہ پیسے خرچ نہیں کیے۔ ہر کسی نے اُن کی مدد کی جو شادی کی اصل روح کے عین مطابق بھی ہے۔ ِاس شادی کا تعلق میاں بیوی سے تھا نہ کہ اُس تماشے سے جو کہ شادی کے نام پر کیا جاتا ہے۔
مذہبی رہنما اور کمیونٹی لیڈر، شادی کی تقریبات کو مختصر کرنے پر بہت زور دے رہے ہیں۔ مختلف طریقوں سے مشتہر کیا جاتا ہے کہ خاندان، شادی کے مفہوم پر توجہ دیں نہ کہ نمود و نمائش پر۔
پھر بھی ماہرین خبردار کرتے ہیں کہ صرف مہر کو کم کرنے سے وہ بڑے مالی چیلنجز حل نہیں ہو سکتے جن کا سامنا شادی کرنے والے جوڑوں کو ہوتا ہے۔ گھر، پکی ملازمت اور بچوں کی دیکھ بھال جیسے اہم مسائل شادی کے بعد میاں بیوی کے ذہنوں پر سوار رہتے ہیں۔
فیلمی وکیل محمد بن طلال الاکبری جن کا تعلق ’ویلیو لا کو‘ سے ہے، کہتے ہیں کہ چیزیں اب بدل رہی ہیں۔
شادی کی اہمیت ختم نہیں ہوئی بس یہ احتیاط اور حساب لگا کر کیا جانے والا ایک فیصلہ بن چکی ہے۔ نوجوانوں کو اس میں کوئی ہچکچاہٹ نہیں ہوتی کیونکہ وہ حقیقت پسند ہیں۔ شادی کا مطلب مالی، قانونی اور سماجی ذمہ داری بھی ہے جسے صرف جذبات حل نہیں کر سکتے۔
انھوں نے حکومت کے انیشیٹیوز کا ذکر کیا جن میں بغیر کسی سُود کے 60 ہزار ریال تک شادی کے لیے قرض مل سکتا ہے۔ ایسے پروگرام، مالی دباؤ کو آسان کرنے اور قرض لیے بغیر شادی کو ممکن بنانے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔
آج مہر، روایت، معیشت اور شناخت کے چوراہے پر کھڑا ہے۔ یہ ایک فیصلہ کن موڑ ہے۔ کچھ لوگوں کے لیے شادی پر بڑی رقم خرچ کرنا سماجی حیثیت کا اشارہ ہے جبکہ دوسروں کے لیے یہ ایسے ہی ہے جیسے کوئی دیوار جو جوان لڑکے اور لڑکی کے درمیان آ گئی ہو۔
سارہ خلف کی طرح کئی سعودی نوجوانوں کو امید ہے کہ شادی میں جیت بالآخر محبت اور وعدوں کی ہوگی اور اِس میں جوڑوں پر قرض کا دباؤ ہوگا نہ معاشرے سے توقعات کی بھرمار۔
ماہرین کے مطابق بہترین طرزِ عمل یہ ہے کہ شادی کی بنیاد تعاون، باہمی احترام اور مشترکہ ذمہ داریوں پر تعمیر کی جائے کیونکہ یہ ایسی مضبوط بنیاد ہے جو پارٹیوں، فوٹوگرافی اور تحائف کو بہت پیچھے چھوڑ سکتی ہے۔ کیونکہ بالآخر، مہر نے خاندان کو اکٹھا نہیں رکھنا بلکہ میاں بیوی کو اس زندگی نے جوڑ کے رکھنا ہے جو تقریبات کے ختم ہونے اور مہمانوں کے چلے جانے کے بعد شروع ہوگی۔

شیئر: