پاکستان اور افغان طالبان کے درمیان چین میں بات چیت جاری ہے: ترجمان دفتر خارجہ
جمعرات 2 اپریل 2026 10:33
ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ پاکستان کبھی بھی مذاکرات سے نہیں بھاگا (فوٹو: اے پی پی)
دفتر خارجہ کے ترجمان نے تصدیق کی ہے کہ پاکستان اور افغان طالبان کے درمیان بات چیت چین کے شہر ارومچی میں جاری ہے۔ افغانستان سے مذاکرات کے لیے پاکستان نے وفد ارومچی بھیجا ہے۔
جمعرات کو اسلام آباد میں پریس بریفنگ میں ترجمان دفتر خارجہ طاہر حسین اندرابی نے بتایا کہ وفد بھیجنے کا مقصد افغانستان کے اندر دہشتگردی بند کرانا ہے۔
’ہمارا مطالبہ ہے کہ افغان طالبان دہشت گردوں کے خلاف ٹھوس اقدامات کریں۔ ترجمان نے کہا کہ پاکستان کبھی بھی مذاکرات سے نہیں بھاگا اور افغانستان کے معاملے پر چین کے ساتھ بھی انگیج ہے۔‘
دفتر خارجہ کے ترجمان نے بتایا کہ وفاقی وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے چینی وزیر خارجہ کی دعوت پر دورہ چین کیا۔ اس دورے کے دوران پاکستان اور چین نے ایران اور امریکہ کے درمیان جنگ کے خاتمے کے لیے پانچ نکاتی ایجنڈا جاری کیا۔
ترجمان کے مطابق وفاقی وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے 27 مارچ کو چینی، مصری اور ترکی کے ہم منصبوں سے ٹیلیفونک رابطے کیے۔ 28 مارچ کو انہوں نے یو این سیکریٹری اور قطری ہم منصب سے رابطے کیے، جبکہ 29 مارچ کو انڈونیشین اور ایران کے وزرائے خارجہ سے بھی ٹیلیفونک رابطہ کیا۔‘
ترجمان کے مطابق ایران نے آبنائے ہرمز سے 20 پاکستانی پرچم بردار جہازوں کو گزرنے کی اجازت دی، جس پر اسحاق ڈار نے سوشل میڈیا پر بتایا اور کہا کہ ایران کے اس اقدام کو خیرمقدم کرنا چاہیے۔
ترجمان کے مطابق گزشتہ ہفتے اسلام آباد میں مشرق وسطیٰ میں امن کے لیے فعال سفارت کاری جاری رہی۔ پاکستان، سعودی عرب، ترکیہ اور مصر کے وزرائے خارجہ کی اسلام آباد میں بیٹھک ہوئی۔ چار فریقی اجلاس کا یہ دوسرا دور تھا۔
چار فریقی اجلاس سے قبل ترکیہ، سعودی عرب اور مصر کے وزرائے خارجہ نے اسحاق ڈار کے ساتھ دو طرفہ ملاقاتیں کیں، اور وزرائے خارجہ نے وزیراعظم شہباز شریف سے بھی ملاقاتیں کیں۔
ترجمان کے مطابق چار وزرائے خارجہ نے مختلف موضوعات پر گفتگو کی اور جنگ کے خاتمے پر بات چیت کی۔
