مکہ کے قریب وادی ’رھاط‘ قدیم تاریخ، قدرتی خوبصورتی اور ورثہ یکجا
یہ وادی 1400 برس سے زائد قدیم ورثے کی زندہ علامت ہے (فوٹو: ایس پی اے)
مکہ مکرمہ کے شمال مشرق میں واقع وادی عین النبی ’رھاط‘ ایک ابھرتی ہوئی سیاحتی منزل کے طورپر نمایاں ہے، جہاں قدیم تاریخ کی جھلک قدرتی حسن کے ساتھ ہم آہنگ ہوتی دکھائی دیتی ہے۔
بلند و بالا پہاڑ، سرسبز نخلستان اور بہتا ہوا پانی مل کر ایک دلکش منظر پیش کرتے ہیں جو ماحولیاتی اور ثقافتی سیاحت میں دلچسپی رکھنے والوں کےلیے غیرمعمولی کشش رکھتا ہے۔
سعودی خبررساں ایجنسی کے مطابق وادی رھاط اہم تاریخی مقامات میں سے ایک ہے جو 1400 برس سے قدیم ورثے کی زندہ علامت ہے۔ تاریخی حوالوں میں اس چشمے کی اہمیت کا ذکر ملتا ہے۔ جس کی کہانیاں مقامی لوگوں میں نسل در نسل منتقل ہوتی آئی ہیں۔
یہ چشمہ آج بھی پانی کا ایک ذریعہ ہے، جس سے کھیتوں کی آبیاری کی جاتی ہے، یوں انسان اور زمین کے درمیان گہرے تعلق اور قدرتی وسائل کے پائیدار استعمال کی عکاسی بھی ہوتی ہے۔
یہ علاقہ منفرد قدرتی خصوصیات کا حامل ہے جہاں ’حرہ رھاط‘ کی پہاڑی ساختیں اسے گھیرے ہوئے ہیں۔ کھجوروں کے باغات کے درمیان بہتا ہوا پانی انتہائی پرسکون و دلفریب منظر پیش کرتا ہے۔

سیاحوں کےلیے بنایا گیا خصوصی بل کھاتا راستہ بھی انتہائی منفرد ہے جس کے باعث یہ جگہ فوٹوگرافی اور فطرت کے شوقین افراد کے لیے ایک مثالی مقام بن گیا ہے۔
رھاطہ، مکہ مکرمہ سے تقریبا 130 کلو میٹر شمال مشرق میں واقع ہے۔ اپنے محل وقوع کے باعث مختلف ارضیاتی خصوصیات کا حامل ہے۔ یہ اپنی زرخیز زمین اور گھنے نباتاتی احاطے کے لیے بھی مشہور ہے، جہاں 40 ہزار سے زائد کھجوروں کے درخت موجود ہیں۔
رھاط کی اہمیت صرف زرعی پہلو تک محدود نہیں بلکہ اس کا ارضیاتی پہلو بھی اہم ہے، کیونکہ یہ ’حرۃ رھاط‘ کے دائرے میں واقع ہے، جس کا شمار مملکت کے سب سے بڑے آتش فشانی میدانوں میں ہوتا ہے، یہ تقریبا 300 کلومیٹر تک پھیلا ہوا ہے۔

قریب ہی ’وادی غزان‘ ہے جو ایک دلکش قدرتی مقام ہے، خاص طورپر بارشوں کے بعد جب اس میں پانی بہتا ہے تو اس کے کنارے سبزے سے ڈھک جاتے ہیں، ایسے میں یہ مقام ایک قدرتی تفریح گاہ میں تبدیل ہوجاتا ہے۔
رھاط اور اس کے گرد ونواح کے علاقے ایک مکمل سیاحتی تجربہ فراہم کرتے ہیں، جہاں تاریخ کی خوشبو، قدرت کا حسن اور روایتی ورثہ یکجا ہوجاتے ہیں، یہی وجہ ہے یہ علاقہ وژن 2030 کے اہداف کے مطابق داخلی سیاحت کے فروغ اور قومی اثاثوں کو اجاگر کرنے میں اہم کردار ادا کر رہا ہے۔
