Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

ایران کے ساتھ معاہدہ بڑی حد تک طے پا چکا، لیکن ابھی حتمی منظوری باقی ہے: ٹرمپ

ٹرمپ کا کہنا تھا اس معاہدے کے تحت آبنائے ہرمز  کو بھی کھولا جا سکتا ہے( فوٹو: ایس پی اے)
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سنیچر کو کہا ہے کہ ایران کے ساتھ امن معاہدہ ’بڑی حد تک طے پا چکا ہے‘ تاہم حمتی منظوری باقی ہے، اس معاہدے کا اعلان جلد کیا جا سکتا ہے۔
ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر لکھا کہ 'امریکہ، اسلامی جمہوریہ ایران، اور مشرقِ وسطیٰ کے مختلف دیگر ممالک کے درمیان ایک معاہدہ بڑی حد تک طے پا چکا ہے، مگر اسے ابھی حتمی شکل دی جانی باقی ہے۔'
انہوں نے مزید کہا کہ اس معاہدے کے تحت آبنائے ہرمز  کو بھی کھول دیا جائے گا۔
امریکی صدر ٹرمپ نے ٹروتھ سوشل پر لکھا’ میں وائٹ ہاوس کے اوول آفس میں ہوں، جہاں ابھی ایران اور امن سے متعلق مفاہمتی یادداشت کے حوالے سے تمام امور پر سعودی عرب کے ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان، متحدہ عرب امارات کے صدر محمد بن زاید، امیر قطر شیخ تمیم بن حمد آل ثانی، قطر کے وزیر اعظم محمد بن عبدالرحمان بن جاسم، پاکستان کے فیلڈ مارشل سید عاصم منیر، ترکیہ کے صدر رجب طیب اردوغان، مصر کے صدر عبدالفتاح السیسی، اردن کے بادشاہ عبدللہ دوم اور بحرین کے شاہ حمد بن عیسی آل خلیفہ کے ساتھ ایک بہت اچھی بات ہوئی۔‘
'امریکہ، اسلامی جمہوریہ ایران، اور مختلف دیگر ممالک کے درمیان ایک معاہدہ بڑی حد تک طے پا چکا ہے، مگر اسے ابھی حتمی شکل دی جانی باقی ہے۔'

ٹرمپ نے کہا ’میری اسرائیل کے وزیر اعظم نیتن یاہو کے ساتھ بھی بات ہوئی جو بہت اچھی رہی۔ معاہدے کے حتمی پہلووں پر فی الحال بات کی جا رہی ہے اور جلد ہی اس کا اعلان کیا جائے گا۔ آبنائے ہرمز کو بھی کھولا جا سکتا ہے۔‘
اس سے قبل امریکی ویب سائٹ ایکسیوس نے صدر ٹرمپ کے انٹرویو کے حوالے سے رپورٹ کیا تھا صدر ٹرمپ کا کہنا ہے کہ’ وہ ایران کے ساتھ مجوزہ نئے ڈرافٹ معاہدے پر اپنے مشیروں سے مشاورت کریں گے اور ممکن ہے اتوار تک یہ فیصلہ کر لیں کہ جنگ دوبارہ شروع کرنی ہے یا نہیں۔‘
ٹرمپ کے بقول ’یا تو ہم ایک اچھا معاہدہ کر لیں گے، یا پھر میں انہیں جہنم واصل کروں گا۔‘
ایران کی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے بھی کہا ہے کہ ڈرافٹ معاہدہ کو حتمی شکل دینے کے قریب ہیں۔
انہوں نے سرکاری ٹی وی پر کہا کہ ’ہمارا مقصد پہلے ایک مفاہمتی یادداشت یا فریم ورک معاہدہ تیار کرنا تھا، جو 14 شقوں پر مشتمل ہے۔‘
انہوں نے مذاکرات میں مفاہمت کے قریب پہنچنے کا ذکر ضرور کیا، تاہم کہا کہ اس کا مطلب یہ نہیں کہ تمام اہم معاملات پر فوری اتفاق ہو جائے گا۔
’معقول مدت یعنی 30 سے 60 دن کے اندر ان نکات کی تفصیلات پر بات چیت کی جائے گی اور بالآخر ایک حتمی معاہدہ طے پا جائے گا۔ اس وقت ہم مفاہمتی یادداشتوں کو حتمی شکل دینے کے عمل میں ہیں۔‘
پاکستانی فوج نے بھی ہفتے کے روز کہا تھا کہ آرمی چیف فیلڈ مارشل عاصم منیر کا تہران دورہ ثالثی کی کوششوں میں ’نمایاں طور پر معاون‘ ثابت ہوا ہے۔
آئی ایس پی آر کے مطابق فیلڈ مارشل نے ’مختصر مگر انتہائی مفید‘ دورہ مکمل کیا جس کے دورن وہ یران کے صدر مسعود پزشکیان، سپیکر محمد باقر قالیباف، وزیر خارجہ عباس عراقچی اور وزیر داخلہ اسکندر مومنی سے ملاقاتیں کیں۔

 

شیئر: