وادی الابواء: مکہ اور مدینہ کے درمیان ایک تاریخی تجارتی راستہ
وادی میں آج بھی گزرے ہوئے زمانے کی علامتوں کے امتیازی نشان ہیں (فوٹو: ایس پی اے)
وادی الابواء، مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ کے درمیان اس تاریخی راستے پر واقع ہےجو زائرین اور کاروانوں کے لیے تاریخ میں اہم ترین مقام رہا ہے۔
سعودی پریس ایجنسی کے مطابق یہ وادی مدینہ منورہ سے 170 کلومیٹر جبکہ مکہ مکرمہ سے تقریباً 200 کلومیٹر کے فاصلے پر ہے۔
الابواء کی تاریخی وادی میں آج بھی گزرے ہوئے زمانے کی علامتوں کے امتیازی نشان پائے جاتے ہیں جو اس وادی کی بیش قیمت ثقافتی میراث کے عکاس ہیں۔
اِن میں عباسیہ دور میں حج کے راستے پر نصب سنگِ میل کی باقیات شامل ہیں اور یہاں ایسی عبارتیں بھی ملی ہیں جن سے اِس مقام پر ابتدائی طور پر انسانوں کے بسنے کا اشار بھی ملتا ہے۔
اس کے علاوہ پورے جزیرہ نمائے عرب میں تجارتی کاروانوں کے راستوں کا تعلق بھی یہیں سے بنتا ہے۔

وادیِ الابواء کو اسلامی تاریخ میں حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم سے نسبت کے باعث ایک اہم خصوصیت بھی حاصل ہے۔ وہ اپنی حیاتِ طیبہ کے مختلف ادوار میں اس وادی سے کئی بار گزرے۔
بچن میں اپنی والدہ گرامی حضرت آمنہ بنتِ وھب کے ہمراہ اور بعد کے زمانے میں اپنے چچا ابو طالب کے ساتھ شام کے سفر کے دوران بھی پیغمبرِ اسلام کا گُزر اسی وادی سے ہوا۔ تجارت کے دوران بھی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کئی مرتبہ اس وادی سے ہو کر گئے۔
ہجرت کے بعد بھی کئی تاریخی واقعات کے دوران رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مختلف اوقات میں اسی وادی سے ہوتے ہوئے اپنے سفر کو جاری رکھا جس میں خاص طور پر دوسری ہجری میں جنگِ الابوا شامل ہے۔

جب حدیبیہ کی صلح کے معاہدے کا معاملہ درپیش ہوا تب بھی اسلام کے پیغامبر نے اسی وادی کے اندر سے سفر کیا۔’عام الفتح‘ اور ’عمرہ القضاء‘ کے لیے بھی حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم اسی وادی الابواء سے نکل کے گئے۔حتٰی کہ حجتہ الوداع کے سفر میں بھی یہی وہ وادی تھی جہاں سے آپ کا سفر ہوا۔
اس وادی الابواء میں آج بھی گزرے وقتوں کی تاریخی مارکیٹوں کے بچے کچھے نشانات ملتے ہیں۔
یہ مارکیٹیں مکہ اور مدینہ جانے والے کاروانوں کے سفر کے دوران ضرورت کی اشیا یا خورونوش کے سامان کا ایک ذریعہ ہوا کرتی تھیں۔

اس وادی میں شاید سب سے نمایاں مقام، قبائلی مارکیٹ ہے جہاں سڑک کے دونوں طرف کبھی پتھروں کی قطاریں ہُوا کرتی تھیں۔ اس نقشے سے ان مارکیٹوں کے ڈھانچے کا علم بھی ہوتا ہے جو کاروان کے راستوں میں واقع ہوتی تھیں، یہاں خوب ہجوم ہُوا کرتا تھا اور یہ مارکیٹیں کاروبار کے لحاظ سے اچھی کارکردگی کی حامل تھیں۔
تاریخی ذرائع سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ مارکیٹیں دسویں صدی عیسوی میں قائم ہوئی تھیں اور چودہویں صدی تک یعنی چار سو برس تک یہاں کاروبار ہوتا رہا۔
یہیں پر کاروان رکتے تھے اور اشیائے ضروریہ حاصل کرتے اور دیگر چیزیں تبادلے کے لیے دیے جاتے۔

مارکیٹوں کی باقیات سے نظر آتا ہے کہ یہاں کی دکانیں آتش فشانی کے دوران سیاہ ہو جانے والے سخت پتھروں یا سنگِ سیاہ سے بنائی جاتی تھیں جن کے کچھ حصے ان مقامات کے قریب سے ملے ہیں۔
ان پتھروں پر پلستر کیا جاتا تھا جبکہ مارکیٹوں کی چھتیں کھجوروں کے تنوں اور چوڑے پتوں سے بنائی جاتی تھیں۔ یہ سادہ سا ڈیزائن اُس دور کی تاریخی مارکیٹوں کے روایتی فنِ تعمیر کو ظاہر کرتا ہے۔

مارکیٹوں کے قریب ایک پرانی مسجد کے نشان بھی ملے ہیں جسے مسجدِ مسِیر کے نام سے جانا جاتا تھا۔ اس کے علاوہ یہاں ایک مینار بھی ہے جو سادہ سا ہے مگر مخصوص ڈیزائن رکھتا ہے۔
آ ج اس تاریخی گاؤں اور وادی کی باقیات اس بات کی گواہ ہیں کہ مکہ اور مدینہ کے درمیان راستہ یہاں سے ہو کر گزرا کرتا تھا۔ وادی الابواء، کاروانوں اور حج کے راستوں کی یاد کی محافظ ہے اور اسلامی تاریخی میں اِس وادی کی ثقافتی اہمیت کی آئینہ دار ہے۔
