Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

جادۂ ابوزرائب: اسلام کے ابتدائی دور میں حج کے قدیم راستوں میں سے ایک

یہ راستہ وادی القرح میں سے ہو کر گزرتا تھا (فوٹو: ایس پی اے)
پرانے زمانے میں حج کے لیے بنائے گئے راستوں میں، جادۂ ابوزرائب اُن قدیم راستوں میں سے ایک ہے جو الحجر اور قرح کی تاریخی سائٹس کو آپس میں ملانے کا کام دیتا تھا۔
سعودی پریس ایجنسی کے مطابق اسلام کے ابتدائی زمانے میں یہ عازمینِ حج اور مسافروں کے لیے ایک اہم گزرہ گاہ کی حیثیت رکھتا تھا۔
یہ راستہ وادی القرح میں سے ہو کر گزرتا تھا اور ایک ایسی بنیادی راہداری کے طور پر کام کرتا تھا جسے جزیرۃ العرب کے شمال سے مشاعرِ مقدسہ کی زیارت کے لیے آنے والے کاروان کثرت سے استعمال کرتے تھے۔
اس راستے کی اہم تاریخی اور ثقافتی حیثیت ہے جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ قدیم زمانے میں العلا، تجارت اور حج کے راستوں میں آنے والا ایک بڑا پڑاؤ تھا۔
یہاں اسلام کے شروع کے دور کی تحریریں، نقوش اور کتبے ملے ہیں۔ اس کے علاوہ آٰثارِ قدیمہ کی دیگر علامتیں بھی یہاں سے دریافت ہوئیں ہیں۔

کچھ ماہرین کا خیال ہے کہ آثارِ قدیمہ کی یہ دریافت پہلی صدی ہجری سے تعلق رکھتی ہیں جس سے اِس خطے کی وراثت کی گہرائی کی اہمیت کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔
الحجر اور قرح کے درمیان، قاع المعتدل سے گزرتے ہوئے 37 کلومیٹر طویل راہ، العلا کے نخلستان سے ہٹ کر گزرنے کے لیے ایک متبادل راستے کا کام بھی دیتی تھی۔
زائرین ایک ہی دن میں اس فاصلے کو طے کر لیتے جس سے اُس زمانے کے سفر کی رفتار اور نوعیت کا بھی علم ہوتا ہے اور اُس تاریخی زمانے میں کاروانوں کی نقل و حمل کی بھی خبر مل جاتی ہے۔

العلا کے رائل کمیشن نے یہاں کی کمشنری کی ثقافت او تہذیبی وراثت کی اہمیت کو اجاگر کرنے کے انیشیٹیو کے طور پر، ابو زرائب کے تاریخی راستے کا دستاویزی اندارج کیا ہے۔
کمیشن اِس قدیم راستے کے تاریخی کردار کو نمایاں کر رہا ہے جو صدیوں تک کاروانوں کے لیے مرکزی حیثیت کا حامل اور حج اور تجارت کے راستوں کا سنگم  رہا ہے۔

 

شیئر: